کراچی (نمائندہ خصوصی)کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ صالح آصف نے اپنی شاندار کامیابی کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرتے ہوئے فوربز ارب پتیوں کی فہرست میں جگہ بنا لی ہے۔ وہ امریکی ادارے MIT سے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ ‘Cursor’ کے شریک بانی ہیں، جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک جدید کوڈ ایڈیٹنگ ٹول فراہم کرنے والی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنی ہے۔نومبر 2025 میں Cursor نے ایک بڑے سرمایہ کاری
راؤنڈ کے دوران 2.3 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی جس کی قیادت معروف عالمی وینچر کیپیٹل فرموں Accel اور Coatue نے مشترکہ طور پر کی۔ اس کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت 29.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جس نے اسے دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی اے آئی اسٹارٹ اپس میں نمایاں مقام دلایا۔Cursor کے مطابق، کمپنی کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس پلیٹ فارم کو اس وقت لاکھوں سافٹ ویئر ڈویلپرز استعمال کر رہے ہیں، جبکہ Nvidia، Adobe، Uber اور Shopify سمیت 50 ہزار سے زائد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اسے کوڈ لکھنے اور ایڈیٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔قبل ازیں مصنوعی ذہانت پروجیکٹ پر کراچی کے نوجوان کی ذہانت کام کرگئی، صالح آصف کی تین شریک پارٹنرز کے ساتھ بنائیگئی اے آئی کمپنی ’’کرسر‘‘ کی 60 ارب ڈالر قیمت لگ گئی، جو دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے لگائی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی نے کرسر نامی اے آئی اسٹارٹ
اپ کمپنی 60 ارب ڈالر میں خریدنے کا آپشن حاصل کرلیا۔کرسر کی مکمل خریداری 60 ارب ڈالرز جبکہ شراکت کی قیمت 10 ارب ڈالرز بتائی گئی ہے، کراچی کے نوجوان صالح آصف سمیت کرسر کے چاروں شریک بانی 30 سال سے کم عمر ہیں۔ان کا بنایا گيا اے آئی پروجیکٹ کرسر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کوڈنگ کو خودکار بنانے پر کام کرتا ہے، کرسر کے ٹولز پر آج دنیا بھر کی 50 ہزار سے زائد کمپنیوں کے لاکھوں ڈیولپرز کام کررہے ہيں۔کرسر کا سالانہ منافع ایک ارب ڈالر ہے اور اسے تیزی سے ترقی کرنے والی اے آئی کمپنیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ امیر ترین لوگوں پر رپورٹ کرنے والے امریکی جریدے فوربز نے صالح آصف کے اثاثوں کی مالیت 1.3 ارب ڈالر بتائی ہے۔
