اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں نصب پیشگی موسمیاتی وارننگ سسٹم کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر و ماحولیاتی خطرات سے بچائو کے اقدامات پر جائزہ اجلاس جمعرات کو یہاں منعقد ہوا ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین واپڈا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ سرکاری عہدیداران نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے غیر معمولی موسمیاتی تغیر بالخصوص گلوف سے بچائو کے لیے گلگت بلتستان میں نصب پیشگی وارننگ سسٹم کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے پر برہمی کا اظہار
کرتے ہوئے گزشتہ سال واضح ہدایات کے باوجود سسٹم کی غیر فعالیت اور متعلقہ اداروں کی غیر موثر کارکردگی پر انکوائری کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی نااہلی اور کارکردگی میں کمی کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کی سہولت، خدمت اور خطرات سے بچائو کے لیےاقدامات تمام اداروں کا فرض العین ہے جس کی جوابدہی ہو گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے متاثرہ ممالک میں سر فہرست ہے جس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام وفاقی متعلقہ ادارے صوبوں کے ساتھ مکمل تعاون اور ہم آہنگی سے پالیسی کے نفاذ میں درپیش تمام رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کریں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال مون سون سیزن میں دریائوں کی گزرگاہوں اور سیلاب کے ممکنہ راستوں میں تجاوزات تباہی کا باعث بنیں۔ اس سال اس کے حل کے لئے، پیشگی موثر حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مون سون کے دوران ممکنہ سیلاب سے بچائو کے لیے تمام ادارے استعداد کار کو بڑھاتے ہوئے عوام کی سہولت کے لیے وسائل سے بڑھ کر کام کریں۔ پیشگی وارننگ سسٹم کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے تمام ضروری انفراسٹرکچر کی فراہمی اور فعالیت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور دیگر تمام متعلقہ ادارے صوبوں کے باہمی تعاون سے یکجا ہو کر موثر اقدامات کریں

