اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):متحدہ نےخبردار کیاہے کہ موسمیاتی تغیرات کے باعث کیڑوں مکوڑوں اور آتشزدگی سے جنگلات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او ) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے دنیا کے جنگلات آگ لگنے اور کیڑوں مکوڑوں سے اثر انداز ہورہے ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنگلات اور درخت زرعی خوراک کے نظام کا لازمی جزو ہیں اور جنگلات کے ختم ہونے سے خاص طور پراستوائی خطے کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے اور بارش کے سائیکل متاثر کرتا ہے جس کے ممکنہ طور پر زرعی پیداواری صلاحیت کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں ان چیلنجوں کا سامنا کرنے اور پائیدار ترقی کے اہداف
(ایس ڈی جی ایس ) کے حصول کی جانب پیش رفت کے لئے بین الاقوامی برادری سے فوری کارروائی کے ساتھ ساتھ جنگلات کے شعبے میں جدت لانے پر زور دیا گیا ہے۔دنیا بھر میں جنگل کی آگ پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور متواتر ہے، یہاں تک کہ ان علاقوں میں بھی جو پہلےکبھی متاثر نہیں ہوئے تھے۔صرف 2023 میں موسمیاتی تغیرات کے باعث جنگل میں لگنے والی آگ نے اندازاً 6,687 میگا ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کی ہے جس کے باعث عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایف اے او نے مزید اس رپورٹ میں کہاکہ خاص طور پر، آرکٹک کے بالکل جنوب میں بوریل زون میں لگنے والی آگ 2021 میں ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گئی جو پہلے 10 فیصد سے زیادہ تھی ۔ موسمیاتی تغیرات کیڑے مکوڑوں، بیماریوں کے جراثیم ،درختوں کی نشوونما اور بقا کے لیے خطرہ ہیں۔ پائن ووڈ نیماٹوڈ، ایک خوردبینی طفیلی گول کیڑا، پہلے ہی ایشیا کے کچھ ممالک میں مقامی جنگلات کو کافی نقصان پہنچا چکا ہے۔ شمالی امریکا کے علاقوں کے جنگلات کو 2027 تک کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کی وجہ سے شدید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔جنگلات کی یہ تباہی ایک سنگین خطرہ ہے کیونکہ عالمی سطح پر لکڑی کی مانگ سالانہ چار بلین کیوبک میٹر کی مانگ ریکارڈ سطح پر ہے ۔گول لکڑی کی عالمی مانگ 2020 اور 2050 کے درمیان 49 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ مزید برآں، تقریباً 6بلین افراد جنگلاتی مصنوعات پر انحصار کرتے ہیں جبکہ دنیا کی 70 فیصدآبادی اپنی بنیادی ضروریات کے لیے جنگلی انواع پر انحصار کرتی ہے۔ ایف اے کے مطابق سائنس ان چیلنجوں سے نمٹنے میں معاونت کے لئے پانچ قسم کی تکنیکی، سماجی، پالیسی، ادارہ جاتی اور مالیاتی اختراعات کی نشاندہی کرتی ہے جو عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جنگلات کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں ۔اس طرح کی اختراع کی ایک مثال ڈیٹا کے تجزیہ اور جنگلات کے تحفظ کے لیے جدید فنانسنگ کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنا ہے۔ ایف اے اوکے ڈائریکٹر جنرل کیوڈونگیو نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایف اے او ممبران اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو جنگلات کے شعبے میں ذمہ دارانہ، جامع اور ضروری جدت طرازی کو فعال کرنے میں مدد فراہم کریں گے تاکہ ایک بہتر دنیا اور سب کے لیے بہتر مستقبل کے لیے زرعی خوراک کے نظام کی پائیداری اور لچک کو مضبوط کیا جا سکے۔

