اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تپ دق کے مکمل خاتمہ کے لیے بین الاقوامی تعاون، تکنیکی شراکت داری اور مستقل عالمی فنڈنگ نا گزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی بی کا مرض پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے طبی، سماجی و معاشی چیلنج بنا ہوا ہے، اس کے علاج کے لئے جدید تشخیصی سہولیات کی وسعت ، لیبارٹری نیٹ ورک کی بہتری اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے تپ دق کے عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ عالمی یوم تپ دق پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر تپِ دق (ٹی بی) جیسے قابل علاج اور قابل بچاؤ مرض کے مکمل خاتمہ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے،دور حاضر میں بھی ٹی بی متعدی امراض میں سر فہرست ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے ایک سنگین صحت، سماجی اور معاشی چیلنج بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مرض
خاص طور پر کمزور طبقات کو متاثر کرتا ہے اور غربت، غذائی قلت اور عدم مساوات کی صورت میں صحت، سماجی اور معاشی اثرات بھی مرتب کرتا ہے،ہر سال عالمی سطح پر ٹی بی کا دن اس بیماری کے اثرات سے متعلقہ عوامی آگاہی اور اس وبائی مرض کے خاتمے کی کوششوں کو مزید تیز کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ٹی بی کے خاتمے کو صحت عامہ کی ترجیحات میں رکھا ہے۔ اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت مرض کی جلد تشخیص، معیاری علاج تک سب کی رسائی، بیماری کی روک تھام، اور مریض کی نگہداشت کے لیٔے اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے اس مقصد کے لیے جدید تشخیصی سہولیات کی وسعت ، لیبارٹری نیٹ ورک کی بہتری اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔اور بنیادی صحت کے مراکز میں ٹی بی کی خدمات کو مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کے طول و عرض میں مسلسل علاج کی فراہمی ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ ٹی بی کے مکمل خاتمے کے لیے عوام کی شمولیت ضروری ہے۔معاشرتی اسٹیگما کو ختم کرنے، بروقت تشخیص کی ترغیب دینے اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، سول سوسائٹی تنظیمیں، محققین، نجی شعبے کے طبی ادارے مددگار ثابت ہوتے ہیں تاہم ٹی بی کے مکمل خاتمہ کے لیے بین الاقوامی تعاون، تکنیکی شراکت داری اور مستقل عالمی فنڈنگ نا گزیر ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین، وفاقی و صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں ، جامعات، نجی شعبے، میڈیا اور سماجی رہنماوں سے اپیل کی کہ وہ اجتماعی کاوشوں کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ٹی بی کا شکار کوئی بھی فرد نظرانداز نہ ہو۔
