اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈاؤن سنڈروم کا عالمی دن ہفتہ کو منایا گیا۔ ڈاؤن سنڈروم ایک سنگین جینیاتی بیماری ہے اور اس کے شکار بچوں میں ذہنی اور جسمانی معذوری مختلف شدت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ڈاؤن سنڈروم کو ٹریزومی 21 بھی کہا جاتا ہے جبکہ ڈاؤن سنڈروم کے شکار بچوں کے خلیات میں 46 کی بجائے 47 کروموسوم ہوتے ہیں یہ زائد کروموسوم بچے کی ذہنی نشوونما میں تاخیر اور جسمانی معذوری کا سبب بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر ایک ہزار میں سے ایک بچہ ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہو سکتا ہے ۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ڈاؤن سنڈروم کا شکار بچے عام طور سے بہت خوش طبع ہوتے ہیں، ان کو پڑھنے، لکھنے، چلنے، سوچنے اور سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
معذوری کے باوجود یہ بچے قدرت کی دیگر صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاؤن سنڈروم کے شکار بچوں کو والدین کی خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے۔ماہرین کا مزید کہنا ہے ڈاؤن سنڈروم بچے مختلف صلاحیتوں میں عام بچوں سے کم ضرور ہوتے ہیں لیکن ذرا سی محنت، توجہ اور جسمانی ورزش سے انہیں ایک اچھی زندگی گزارنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈاؤن سنڈروم کے عالمی دن کے موقع پر سرکاری، غیر سرکاری، نجی، طبی اور سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقاریب میں بیماری کے حوالہ سے آگاہی فراہم کی گئی تاکہ اس مرض کے شکار بچوں کو معاشرہ کا مفید شہری بنانے میں مدد کی جا سکے۔

