خضدار ( نمائندہ خصوصی):بلوچستان کے ضلع خضدار میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگرد نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں ایک خاتون خود کش حملہ آور کو گرفتار کرلیا۔ اس دہشت گرد نیٹ ورک میں ڈاکٹر صبیحہ نامی خاتون کا نام سامنے آیا ہے جو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر خود کش حملوں پر مجبور کرتی ہے ۔اس مقصد کے لئے لڑکیوں کا نفسیاتی اور ذاتی استحصال بھی کیا جاتا ہے ۔ بدھ کو گرفتار ہونے والی خود کش حملہ آور خاتون وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس
کانفرنس کر رہی تھی ۔اس نے بتایا کہ میرا نام لائیبہ ہے اور ضلع خضدار کے تحصیل زہری کے کلی چشمہ کے رہائشی ہوں ، مجھے گھراور گاؤں میں لوگ فرزانہ کے نام سے جانتے ہیں ۔ گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں میرا رابطہ ٹی ٹی پی کے کمانڈر ابراہیم عرف قاضی سے ہوا۔ اس نے خودکش حملہ کرنے کے لیے میری ذہن سازی کی ۔کالعد م تنظیم کےکمانڈر ابراہیم کی تنظیمی باتوں سےمتاثر ہو کر میں خودکش حملے کرنے پر رضامند ہو گئی ۔خود کش حملہ آور خاتون نے مزید بتایا کہ کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کروایا ، جس نے مجھے بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی )کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ سے ملوانا تھا، ڈاکٹر صبیحہ جو اس دہشت گرد نیٹ ورک کا اہم حصہ ہے ، اس نیٹ ورک میں لڑکیوں کو بہلا پھسلا کران کا نفسیاتی اور ذاتی استحصال کیا جاتا ہے ، اور اپنےمقاصد کے خود کش حملہ آور خاتون نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر صبیحہ مالی طور پر کمزور نوجوان لڑکیوں کو استحصال کے بعد شدت پسندی کی جانب راغب کرتی ہے ۔لائیبہ نے بتایا مجھے ٹارگٹ دیا گیا کہ میں مزید لڑکیوں کو فدائی (خودکش)حملوں کے لیے تیار کروں ، کمانڈر دل جان نے مجھ سے ملاقات کرنی تھی ، اور مجھے اپنے ساتھ کیمپ لے کر جانا تھا اور خود کش حملے کے لئےٹارگٹ کا بتانا تھا ۔ لیکن مجھے خضدار پہنچنے پر گرفتار لر لیا گیا۔خود کش حملہ آور خاتون نے کہا کہ میں بھٹک گئی تھی ۔آج کے بعد ایسے کام نہ کرنے کا وعدہ کرتی ہوں اور میں اپنے جیسی لڑکیوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ اس طرح کے غلط کاموں سے خود کو دور رکھیں۔حصول کے لئے ان کی ذہین سازی کی جاتی ہے ۔
