لندن ( نمائندہ خصوصی ;بی بی سی اردو ڈاٹ کام)ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ علی لاریجانی اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سیکورٹی آفیسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ایک گروپ کے ساتھ مارے گئے۔ پاسداران انقلاب نے اس سے قبل بسیج کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ فوجی کمانڈروں کے درمیان کھڑے ہو کر
stanایرانی عوام کے لیے پیغام دے رہے ہیں۔بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں اسرائیل کے وزیرِ دفاع، ہمارے چیف آف سٹاف، موساد کے سربراہ، فضائیہ کے سربراہ اور ہمارے سینیئر کمانڈروں کے ساتھ موجود ہوں۔‘انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہم نے اس جابرانہ حکومت کے دو بڑے دہشت گرد سرغنوں کو ختم کر دیا ہے۔‘واضح رہے کہ اب ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، جس کا اعلان اسرائیل نے پہلے ہی کر دیا تھا۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’ہمارے طیارے دہشت گرد عناصر کو میدانوں میں، چوراہوں پر اور شہر کے مرکزی مقامات پر نشانہ بنا رہے ہیں۔‘اس کے بعد وہ جمعے کو آنے والے ایرانی نئے سال نوروز کے حوالے سے پیغام دیا کہ ’یہ سب اس لیے ہے کہ ایران کے بہادر لوگ جشنِ آتش (چہارشنبہ سوری) منا سکیں۔ تو جشن منائیں اور نوروز مبارک۔ ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیں۔‘ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے ’قتل‘ کی تصدیق کر دی ہے۔تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ علی لاریجانی ان کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سیکورٹی آفیسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ایک گروپ کے ساتھ مارے گئے۔اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔قبل ازیں اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ایران کی پاسداران انقلاب نے بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی موت کی تصدیق کی ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ ’بزدلانہ قتل‘ اُن کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ’جنگ‘ میں بسیج کی ’اہمیت اور کردار‘ کو ظاہر کرتا ہے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ
کیا ہے کہ آج انھوں نے تہران بھر میں ’10 سے زائد مختلف مقامات‘ پر بسیج فورسز کو نشانہ بنایا۔بسیج ایک رضاکار ملیشیا ہے جس کے اندازاً دس لاکھ ارکان ہیں۔ ملک میں امن و امان بحال کرنے کی ذمہ داری بھی اس فورس کو سونپی جاتی ہے۔ یہ ملیشیا پاسداران انقلاب کے زیرِ کنٹرول ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے اور وزیرِ اعظم نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی قیادت کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔یاد رہے کہ علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یومِ القدس کی ریلی کے دوران دیکھا گیا تھا۔
stanایرانی عوام کے لیے پیغام دے رہے ہیں۔بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں اسرائیل کے وزیرِ دفاع، ہمارے چیف آف سٹاف، موساد کے سربراہ، فضائیہ کے سربراہ اور ہمارے سینیئر کمانڈروں کے ساتھ موجود ہوں۔‘انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہم نے اس جابرانہ حکومت کے دو بڑے دہشت گرد سرغنوں کو ختم کر دیا ہے۔‘واضح رہے کہ اب ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، جس کا اعلان اسرائیل نے پہلے ہی کر دیا تھا۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’ہمارے طیارے دہشت گرد عناصر کو میدانوں میں، چوراہوں پر اور شہر کے مرکزی مقامات پر نشانہ بنا رہے ہیں۔‘اس کے بعد وہ جمعے کو آنے والے ایرانی نئے سال نوروز کے حوالے سے پیغام دیا کہ ’یہ سب اس لیے ہے کہ ایران کے بہادر لوگ جشنِ آتش (چہارشنبہ سوری) منا سکیں۔ تو جشن منائیں اور نوروز مبارک۔ ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیں۔‘ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے ’قتل‘ کی تصدیق کر دی ہے۔تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ علی لاریجانی ان کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سیکورٹی آفیسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ایک گروپ کے ساتھ مارے گئے۔اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔قبل ازیں اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ایران کی پاسداران انقلاب نے بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی موت کی تصدیق کی ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ ’بزدلانہ قتل‘ اُن کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ’جنگ‘ میں بسیج کی ’اہمیت اور کردار‘ کو ظاہر کرتا ہے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ
کیا ہے کہ آج انھوں نے تہران بھر میں ’10 سے زائد مختلف مقامات‘ پر بسیج فورسز کو نشانہ بنایا۔بسیج ایک رضاکار ملیشیا ہے جس کے اندازاً دس لاکھ ارکان ہیں۔ ملک میں امن و امان بحال کرنے کی ذمہ داری بھی اس فورس کو سونپی جاتی ہے۔ یہ ملیشیا پاسداران انقلاب کے زیرِ کنٹرول ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے اور وزیرِ اعظم نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی قیادت کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔یاد رہے کہ علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یومِ القدس کی ریلی کے دوران دیکھا گیا تھا۔

