کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی) بلوچستان سے بی ایل اے کی خودکش بمبار لائبہ کو گرفتار کیا گیا ہے جو بی وائی سی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ کے زریعے بی ایل اے سے رابطے میں آئی اور ڈاکٹر صبیحہ نے ہی اس کو خودکش بمبار بننے پر آمادہ کیا ۔ لائبہ
کی عمر محض 19 سال ہے ۔اس نے اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر صبیحہ نے اس کی زہن سازی کی ۔ قوم کیلئے قربانی دینے کا کہا اور بی ایل اے سے رابطے کرایا جہاں پر اسے سابق ٹی ٹی پی کمانڈر ابراہیم عرف قاضی نے خودکش حملے کے لیے ٹریننگ دی۔ اس کا مشن صرف خودکش دھماکہ کرنا نہیں تھا، بلکہ اسے یہ ٹارگٹ بھی دیا گیا تھا کہ وہ مزید معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ لائے ۔یہ لڑکی جولائی 2025 میں بی ایل اے میں شامل ہوئی اور بی ایل اے کمانڈر سلیم جان عرف دل جان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔اس گرفتاری کے بعد وہ بیانیہ بھی دم توڑتا نظر آ رہا ہے جو "لاپتا افراد” کے نام پر بنایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانی حقوق کی آڑ میں دہشت گردی کی نرسریاں چلائی جا رہی ہیں
