کراچی( نمائندہ خصوصی :خصوصی رپورٹر)مشرقی پاکستان میں پیدا ہونے والا ایس ایم نہال ہاشمی سندھ کا گورنر بن گیا۔نہال ہاشمی کو سندھ کا نیا گورنر مقرر کیا جانا نہ صرف سیاسی اعتبار سے اہم پیش رفت ہے بلکہ یہ ان ہزاروں خاندانوں کے لیے بھی امید کی ایک نئی کرن ہے جن کا تعلق کبھی مشرقی پاکستان سے رہا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل اور تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ وہ مارچ 2015 سے فروری 2018 تک Senate of Pakistan کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔نہال ہاشمی 28 جنوری 1960 کو اُس وقت کے مشرقی پاکستان میں پیدا ہوئے۔ 1971 کے بعد جب مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تو وہاں بسنے والے بہت سے بہاری خاندانوں کی طرح ان کے خاندان کو بھی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حالات نے ان کی شخصیت اور سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی فخر سے اپنے
آپ کو بہاری کہتے ہیں اور مشرقی پاکستان کے پس منظر کو اپنی شناخت کا حصہ سمجھتے ہیں۔پاکستان آنے کے بعد انہوں نے تعلیم حاصل کی، وکالت کے شعبے میں قدم رکھا اور پھر سیاست میں متحرک کردار ادا کیا۔ ان کی ایک خاص خوبی یہ سمجھی جاتی ہے کہ اگرچہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہیں، لیکن مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ان کے خوشگوار تعلقات اور ذاتی دوستی بھی مشہور ہے۔ یہی اعتدال پسند طرزِ سیاست ان کی شخصیت کو نمایاں بناتا ہے۔ذاتی زندگی میں بھی نہال ہاشمی ایک باوقار اور باکردار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی اہلیہ ایک سینئر ڈاکٹر ہیں جو کراچی کے علاقے ملیر میں ایک ہسپتال میں طبّی خدمات انجام دے رہی ہیں اور مریضوں کے علاج میں مصروف رہتی ہیں۔چونکہ نہال ہاشمی خود مشرقی پاکستان کے پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے کراچی میں آباد بہاری برادری کو ان کی تقرری سے خاص امیدیں وابستہ ہیں۔ بہت سے لوگ توقع کر رہے ہیں کہ وہ سقوط کے بعد بنگلہ دیش میں پھنس جانے والے محصور پاکستانیوں کے مسئلے کو اجاگر کرنے اور اس کے حل کے لیے اپنی آواز بلند کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی میں مقیم ان بہاری خاندانوں کے مسائل، خصوصاً شناختی کارڈ اور قانونی شناخت کے معاملات کو حل کروانے کے لیے بھی کردار ادا کرنے کی امید کی جا رہی ہے۔نہال ہاشمی کی گورنر سندھ کے طور پر تقرری کو بہت سے لوگ ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو نہ صرف سیاسی تجربہ رکھتا ہے بلکہ ہجرت، جدوجہد اور شناخت کے مسائل کو خود محسوس کر چکا ہے۔ یہی تجربہ انہیں ان لوگوں کی آواز بننے کا حوصلہ دے سکتا ہے جو برسوں سے اپنے بنیادی مسائل کے حل کے منتظر ہیں۔

