اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں بین الاقوامی یومِ خواتین روایتی انداز میں منایا گیا۔اس سال یومِ خواتین کا موضوع "Give To Gain” ہے اور اس کا تسلسل حقوق،انصاف،ایکشن تمام خواتین اور لڑکیوں کے لئےہے۔ اس سال کا موضوع خواتین کے حقوق، آزادی، بااختیاری اور طاقت کی تصدیق کرتا ہے اور انہیں ملک کی ترقی اور پیشرفت میں فعال شرکت کے لیے تیار کرتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل گایا گیا یہ نغمہ’’ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں، قوموں کی عزت ہم سے ہے‘‘یہ یومِ خواتین پر بہت دلکش لگتا ہے کیونکہ یہ معاشرے میں خواتین کے کثیر الجہتی کرداروں کو اجاگر کرتا ہے۔ بین الاقوامی یومِ خواتین ایک بار پھر 8 مارچ کو دنیا بھر بشمول پاکستان میں عزم اور پختہ ارادے کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ ہماری خواتین اپنی
صلاحیتوں سے ہر شعبہ زندگی میں دنیا کو متاثر کرتی رہیں گی، جو اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدائشی طور پر عطا کی ہیں۔ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ خواتین بلاشبہ طاقت، تحریک اور حوصلہ افزائی کا عظیم ذریعہ ہیں، اپنے مردوں کے ساتھ مل کر ہر قسم کے چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں، روزمرہ ذمہ داریاں نبھاتی ہیں اور مستقبل کی نئی نسل کی پرورش اور تربیت کا بوجھ اٹھاتی اور بانٹتی ہیں تاکہ وہ ریاست اور معاشرے کے لیے پیداواری شہری بنیں۔یومِ خواتین دارالحکومت کے میٹروپولیٹن شہر میں بھیخواتین کے حقوق کی جدوجہد کے عزم کے ساتھ منایا گیا، اور تمام پاکستانی خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے سماجی، ڈیجیٹل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے تعمیری اور اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان اس یومِ خواتین کو بہت خاص مقام اور اہمیت دیتا ہے،اس لیے اس دن کی مناسبت سے متنوع پروگرامز، واکس، سیمینارز اور کانفرنسز کا اہتمام کرتا ہے جہاں
زندگی کے ہر شعبے سے خواتین کو مدعو کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگیوں، کامیابیوں اور معاشرے میں کردار پر روشنی ڈالیں۔ پاکستانی خواتین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق مکمل آزادیِ اظہار، حقوق، خاص طور پر خاندانی حقوق سے لطف اندوز ہوتی ہیں، اور اسے مثبت انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جس کی پیروی نئی نسل ہر معاملے میں کرے گی۔ حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام میں، سالگرہ کے موقع پر حضرت بی بی خدیجہ کو بہت بلند پایہ خراجِ عقیدت پیش کی گئی کہ وہ اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلی معاشی طور پر بااختیاراور مثبت خاتون تھیں۔اینکرز اور علما نے فخریہ انداز میں کہا کہ وہ آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی امت ہیں اور ان کی محبوبہ زوجہ حضرت خدیجہ الکبریٰ علیہا السلام کی، جو خود اعلیٰ صلاحیتوں اور اچھے اوصاف والی خاتون تھیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ حضرت خدیجہ ؓنے 14 صدیوں پہلے خواتین کے لیے ایک مثالی اور قابلِ رشک
نمونہ قائم کیا، جو آج بھی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہے جو کسی بھی پلیٹ فارم پر معاشرے کی خدمت کے لیے انتہائی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اپنی قدر و قیمت ثابت کرنے کے لیے ہر معاملے کا سامنا کرتی ہے۔اسی پروگرام میں خواتین علما نے مثالیں دے کر بتایا کہ عظیم خاتون خدیؓجہ کس طرح نبی کریم ﷺ کی ساتھی کے طور پر اہم معاملات میں مددگار ثابت ہوئیں، جن میں مذہبی، معاشی، تجارتی اور ثقافتی امور شامل تھے۔ دنیا بھر میں یومِ خواتین کی تقریبات نے عالمی انسانی حقوق کے حامیوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ خواتین کو مزید حقوق اور تحفظ دیا جائے تاکہ ایک منصفانہ معاشرہ تشکیل پا سکے۔


