لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کے شہر ساؤتھمپٹن میں تین تنہا خواتین پر جنسی حملہ کرنے والے شخص سہیل امیری کو عدالت نے جیل کی سزا سنا دی ہے۔ ملزم خواتین کو روک کر ان سے زبردستی بوسہ دینے کا مطالبہ کرتا تھا۔عدالتی کارروائی کے مطابق سہیل امیری اس وقت ساؤتھمپٹن کے ہائی فیلڈ ہاؤس ہوٹل میں مقیم تھا جب اس نے ایک خاتون کو جھاڑیوں کی طرف دھکیل کر اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ ملزم نے خاتون کو کئی بار چہرے پر بوسہ دیا اور اس پر خود کو زبردستی مسلط کیا۔یونیورسٹی کی ایک طالبہ، جو 25 نومبر کی رات تقریباً آدھی رات کے بعد گھر جا رہی تھی، نے بتایا کہ
امیری نے اس کے منہ میں زبان ڈالنے کی کوشش کی اور بار بار اس کے چہرے پر منہ رگڑتا رہا۔ طالبہ نے مزاحمت کرتے ہوئے اسے دھکا دیا اور وہاں سے نکلنے کی کوشش کی، مگر شادی شدہ اور دو بچوں کے باپ امیری نے خود کو اس پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش جاری رکھی۔ایک اور واقعہ 23 ستمبر کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے پیش آیا جب ایک خاتون کام پر جا رہی تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ امیری نے اس کے قریب آ کر اسے کہنی ماری اور کہا، “بس ایک بوسہ دے دو، صرف ایک بوسہ۔” خاتون نے سختی سے انکار کیا اور تیزی سے وہاں سے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔استغاثہ کے وکیل گیری وینٹوری نے عدالت کو بتایا کہ جب متاثرہ خاتون کام پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ اسی وقت امیری نے اس کی ایک ساتھی خاتون کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ ملزم نے اس کے راستے میں آ کر کہا، “مجھے ایک بوسہ دو”، جس پر خاتون نے غصے میں اسے بھگا دیا۔ اس کے بعد امیری نے اسے ایک لیٹر باکس کے ساتھ دھکیل کر دوبارہ بوسہ دینے کا مطالبہ کیا، مگر خاتون کی مزاحمت پر وہ وہاں سے چلا گیا۔عدالت میں بتایا گیا کہ ان حملوں کے بعد تینوں متاثرہ خواتین شدید خوف کا شکار ہو گئیں۔ وہ اب اکیلے چلنے سے ڈرتی ہیں اور انہیں نیند کی مشکلات بھی پیش آ رہی ہیں۔ یونیورسٹی کی طالبہ کو شدید ذہنی دباؤ کے باعث اپنا تعلیمی سال بھی دوبارہ دینا پڑا۔عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ امیری کو پی ٹی ایس ڈی، ڈپریشن اور مرگی کی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس کے وکیل میتھیو ریڈ اسٹون نے کہا کہ ملزم اپنے عمل پر “واقعی پشیمان” ہے۔تاہم عدالت نے اسے تین سال (36 ماہ) قید کی سزا سنائی۔ امیری نے 23 ستمبر اور 25 نومبر 2025 کو دو خواتین پر جنسی حملے اور ایک خاتون پر جنسی حملے کی کوشش کے الزامات کو قبول کر لیا تھا۔عدالت کے جج رولینڈ نے قید کی سزا کے ساتھ ساتھ امیری پر 10 سال کے لیے سیکشول ہارم پریوینشن آرڈر بھی عائد کر دیا ہے۔
