گزشتہ دنوں پریس کلب میں محترم اشرف شاد کی صحافتی اور ادبی زندگی کے حوالے سے ایک پررونق نشست کا اہتمام کیا گیا۔اس دوران ہونے والی دلچسپ گفتگو نے ایک بار پھر توجہ اس نکتے کی جانب مبذول کروائی کہ صحافت اور فکشن کا باہمی رشتہ کس طرح بڑے سیاسی ناولوں اور افسانوی ادب کی تشکیل میں کردار ادا کرتا ہے۔
عالمی ادب پر نظر ڈالیں تو ایسے کئی اہم فکشن نگار سامنے آتے ہیں جن کے تخلیقی شعور کو صحافتی تجربات نے وسعت اور نئے فکری زاویے عطا کیے۔ ان مصنفین نے سماج اور ریاست کی جانب سے مسلط کردہ نام نہاد پالیسیوں اور نظریات کو چیلنج کیا اور فکشن کو فکری مزاحمت کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ ایسے ناول جبر و استحصال پر قائم اقتدار کے بد ہئیت ڈھانچوں کو نشان زد کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ طاقت کس طرح زبان، خوف اور بیانیے کو آلۂ کار بنا کر انسانی شعور کی ازسرِنو تشکیل کرتی ہے۔۔۔ اور فرد کی داخلی آزادی، اخلاقی خودمختاری اور حقیقت سے رشتہ رفتہ رفتہ کس طور سلب ہو رہتا ہے۔
میرے پسندیدہ لکھاری جارج اورویل اس تناظر میں بہت نمایاں مثال ہیں۔ سرگرم صحافتی پس منظر کے باوصف ان کے ناول "اینمل فارم "اور 1984 پروپیگنڈے کے ہتھکنڈوں، کھوکلے ایجنڈوں، ریاستی جبر اور طاقت کے غیر متوازن ساختوں پر تنقید کی کلاسیکی مثالیں ہیں۔ آخر الذکر میں اوشینیا کی خیالی ریاست، بگ برادر کی مطلق حکمرانی، مسلسل نگرانی اور تاریخ کی تحریف کے ذریعے خوف پر مبنی اقتدار کو عیاں کیا گیا ہے، جہاں یہ نعرہ۔۔۔
War is peace, freedom is slavery, ignorance is strength طاقت کے اندھے اور منظم استعمال کا جدید حربہ بن کر سامنے آتا ہے۔۔صحافت سے وابستہ ادیبوں کے ہاں کہانی اکثر خبر سے جنم لیتی ہے اور کردار براہِ راست تجربے اور مشاہدے سے نمو پاتے
ہیں۔ منٹو کے افسانے مثلا "نیا قانون”، شوکت صدیقی کی کہانیاں اور انتظار حیسن کے ناول اپنے عہد کی سیاسی، سماجی اور اخلاقی فضا کو صرف منعکس ہی نہیں کرتے بلکہ اس پر سوال بھی اٹھاتے ہیں۔۔۔۔اور یہی وصف انہیں دیرپا بناتا ہے، ورنہ خبروں کی سنسنی ادب میں لمحاتی چنگاری سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔شاد صاحب کے کام کو سراہتے ہوئے قاسمی صاحب نے لکھا تھا کہ”صحافتی موضوعات کو ناول کی بنیاد بنانا آسان نہیں”۔۔۔ یہ کام مشکل تب ہے جب کہانی کار نظریہ مسلط کرنے، عقائد تھوپنے یا کسی موقف کو ثابت کرنے پر تُل جائے ۔۔۔۔اس صورت میں واقعات کا بے رس تسلسل ناول کے بجائے پمفلٹ بن کر رہ جاتا ہے۔
کیونکہ مسئلہ سیاست نہیں بلکہ سیاسی افکار کو تخلیقی سطح پر برتنے کی صلاحیت کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اورویل کامیاب ہے اور اس کی تقلید میں لکھا گیا بہت سا ادب ناکام۔۔عدنیہ شبلی، نیتھنیل ہاؤتھورن اور کدارے کے ناول دیکھیے جہاں سیاست
موضوع ضرور ہے، مگر ناول کی قوت بیانیہ، علامت، نفسیات، جزئیات اور تخلیقی ساخت سے پیدا ہوئی ہے، نہ کہ رپورٹنگ سے۔
با این ھمہ اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا میں کوئی تجربہ سیاست سے باہر نہیں۔ سیاست طاقت کی تقسیم اور اس کے استعمال کا عمل ہے۔۔۔۔اور یہ طاقت زبان، جنس، مذہب، خاندان حتیٰ کہ جسم پر اختیار کے معاملات میں بھی کارفرما رہتی ہے۔اسی تصور کو میشل فوکو نے اس جملے میں سمیٹا کہ "طاقت ہر جگہ موجود ہے، اس لیے نہیں کہ وہ سب کچھ اپنی گرف میں لے لیتی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ہر سمت سے جنم لیتی ہے۔” فوکو کے نزدیک جسم پر کنٹرول، خواہش پر قدغن اور اخلاقیات کی تشکیل سب سیاسی اعمال ہیں، خواہ وہ بظاہر ذاتی دائرے میں ہی کیوں نہ رونما ہوں۔
ہیمنگوے، کامیو اور مارکیز کے بعد اس نظریے ایک مثال میلان کنڈیرا کے ناولوں میں ملتی ہے، جہاں جنس، قربت، طبقاتی تنگ نظری، بے وفائی اور خواہش نجی معاملات نہیں رہتے بلکہ معاشرتی جبر، ریاستی نگرانی، عالمی ایجنڈوں اور یادداشت و
فراموشی کی سیاست میں پیوست ہو جاتے ہیں۔ کنڈیرا کے ہاں سیکس آزادی کا آخری میدان ہے اور سیاست اس میدان پر قبضے کی مسلسل کوشش۔۔۔ یوں نہ جنس محض جسمانی رہتی ہے اور نہ سیاست محض ریاستی، بلکہ دونوں ایک دوسرے کو بے نقاب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی موضوعات کو ناول کی سطح پر لے جانا واقعی ناممکن ہو جاتا ہے اگر داخلی پیچیدگیوں اور نفسیاتی تہہ داریوں سمیت کہانی پن کا حق ادا نہ کیا جائے۔ حالانکہ در حقیقت نہ ادب اور نہ کوئی انسانی تجربہ سیاست سے باہر ہے۔

