راولپنڈی ۔کابل ( نمائندہ خصوصی ۔مانئٹرنگ ڈیسک)طالبان کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے عوامی طور پر حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کے درمیان دیرینہ تعلقات کا اعتراف کیا ہے، اور انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 2005 میں جیل سے فرار ہونے والے القاعدہ کے سینئر ارکان کی ذاتی طور پر مدد کی تھی۔جمعرات 12 فروری کو ایک حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر کے جنازے سے خطاب کرتے
ہوئے حقانی نے بتایا کہ انہوں نے بگرام جیل سے فرار ہونے والے القاعدہ کے چار اہم رہنماؤں کی خفیہ طور پر پاکستان کے شہر میرانشاہ منتقلی کا انتظام کیا تھا۔ ان کے یہ بیانات دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون کے ایک نایاب عوامی اعتراف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔یہ چار افراد ابو یحییٰ اللیبی، عمر فاروق، محمد جعفر جمال القحطانی اور عبداللہ ہاشمی الشامی — جولائی 2005 میں بگرام جیل سے فرار ہوئے تھے۔ حقانی کے مطابق بعد ازاں انہیں میرانشاہ منتقل کیا گیا، جو پاکستان کے شمالی وزیرستان کا ایک قصبہ ہے اور طویل عرصے سے عسکریت پسند سرگرمیوں سے وابستہ سمجھا جاتا رہا ہے۔جنازے کے خطاب کے دوران حقانی نے امریکی افواج اور سابق افغان حکومت کے خلاف حقانی نیٹ ورک کی شورش میں کردار ادا کرنے پر عبد الستار سادو کی بھی تعریف کی۔یہ اعتراف طالبان کے اس دیرینہ مؤقف کے برعکس ہے جس میں وہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کے دیگر عسکری یا دہشت گرد تنظیموں سے روابط نہیں ہیں۔
