• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

پاکستان کا وقتی استحکام یا ایک اور موڑ

عمران حیدر

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
February 11, 2026
in پاکستان
0
پاکستان کا وقتی استحکام یا ایک اور موڑ
0
SHARES
4
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پاکستان 2026 میں ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں وقتی استحکام اور گہرے ساختی بحران ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں معیشت، سیاست اور سلامتی کے محاذ پر جو فیصلے کیے گئے، ان کے اثرات اب زیادہ واضح انداز میں سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ اشاریئے امید دلاتے ہیں، مگر زمینی حقائق یہ بھی بتاتے ہیں کہ بنیادی مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔2026 میں پاکستان کی معیشت مکمل بحران سے نکل کر محدود استحکام کی طرف آئی ہے۔ مہنگائی کی شدت میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں نسبتی بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط نے ریاست کو وقتی سہارا دیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ استحکام زیادہ تر بیرونی تعاون اور سخت مالی فیصلوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ مضبوط اندرونی پیداواری ڈھانچے کا۔بلند عوامی قرض، کمزور ٹیکس نظام، توانائی کے مسائل اور روزگار کی کمی اب بھی وہ سوالات ہیں جن کے بغیر کوئی بھی معاشی پیش رفت دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔ اگر اصلاحات کو سیاسی مصلحت کی نذر کیا گیا تو موجودہ بہتری بھی عارضی ثابت ہوگی۔سیاسی منظرنامہ کو دیکھا جائے تو وہ بھی شدید تقسیم کا شکارہے۔ احتجاج، گرفتاریوں، عدالتی تنازعات اور ادارہ جاتی تناؤ نے سیاسی نظام کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ اگرچہ بعض مواقع پر مذاکرات کی بات کی گئی، مگر عملی پیش رفت محدود رہی۔سیاسی عدم استحکام صرف پارلیمان یا جماعتوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات معیشت، خارجہ پالیسی اور عوامی اعتماد تک پھیل جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ اختلاف ہو یا نہ ہو، سوال یہ ہے کہ کیا اختلاف کو آئینی اور جمہوری حدود میں رکھا جا رہا ہے؟سال کے اوائل میں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ شدت پسند عناصر اب بھی ریاست کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شہری مراکز اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔اسی پس منظر میں سکیورٹی فورسز نے متعدد علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھیں، نتیجے میں کئی نیٹ ورکس کو نقصان پہنچا اور متعدد حملے ناکام بنائے گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر یہ اقدامات نہ ہوتے تو نقصانات کہیں زیادہ ہو سکتے تھے۔پاکستان کی افواج نے دہشت گردی کے خلاف مسلسل اور منظم کارروائیوں کے ذریعے ریاستی سلامتی کو سہارا دیا ہے۔ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز، بروقت ردِعمل اور حساس علاقوں کا تحفظ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سلامتی کے محاذ پر ریاست غافل نہیں۔فوج کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ کارکردگی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہیں۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پائیدار امن صرف عسکری اقدامات سے ممکن نہیں ہوتا۔ سلامتی کی کامیابیوں کو سیاسی استحکام، معاشی مواقع اور سماجی انصاف کے ساتھ جوڑناضروری ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ پالیسی کا عدم تسلسل ہے۔ ہر بحران کے بعد وقتی اقدامات تو کیے جاتے ہیں، مگر طویل المدتی اصلاحات کو بار بار مؤخر کر دیا جاتا ہے۔ یہی طرزِ عمل ملک کو بار بار اسی مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور پالیسی سازوں کے درمیان ہم آہنگی کے بغیر نہ معیشت مستحکم ہو سکتی ہے، نہ جمہوریت مضبوط اور نہ ہی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ 2026 کو محض ایک اور عبوری سال نہ بننے دے۔ فوج نے سلامتی کے محاذ پر اپنی ذمہ داری نبھائی ہے، معیشت کو وقتی سہارا ملا ہے، اور عوام قربانیاں دے چکے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کے مراکز اور سیاسی قیادت اس استحکام کو ایک دیرپا قومی سمت میں تبدیل کریں گے؟یا پاکستان ایک بار پھر وقتی کامیابیوں پر اکتفا کر کے خود کو اگلے بحران کے حوالے کر دے گا؟یہ سوال صرف حکمرانوں سے نہیں، پوری قوم سے ہے۔

Previous Post

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026، پاکستان کی امریکہ کو شکست، مسلسل دوسری کامیابی حاصل کر لی

Next Post

دلیر بہادر اور پیاری شخصیت ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
دلیر بہادر اور پیاری شخصیت  ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان

دلیر بہادر اور پیاری شخصیت ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper