میں اس مضمون سے پہلے ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنا نظریہء شعر بیان کردوں اور وہ یہ ہے کہ شاعری کا تعلق اخلاص ہے اور یہ خسارے کا سودا ہے ۔ وہ سارے دنیاوی مفادات جن کی بنیاد حرص اور ہوس پر ہو شاعری کے ساتھ نہیں چل سکتے نہ شاعری ان کے ساتھ چل سکتی ہے ۔ شاعری شاعر سے بےنیازی کی توقع رکھتی ہے اور استغناء کا تقاضا کرتی ہے ۔ شاعری انسانی خیال ، تحت الخیال اور لاخیال کے میکنزم سے تشکیل پاتی ہے ۔ یہ میکنزم جتنا شفاف ، جتنا ، خالص اور جتنا طاقتور ہوگا شاعری اتنی ہی اتنی ہی شفاف ، خالص اور طاقتور ہوگی ۔ شاعری احساس کی ریاضت سے نمو پاتی ہے اور فن کی ریاضت سے اظہار کا قرینہ ۔ خیال ، دل یا اظہار کے قرینے میں سے ایک بھی ناخالص یا آلودہ ہوجاۓ تو شاعری شاعری نہیں رہتی بلکہ محض آلود متن رہ جاتی ہے ۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے شاعری متن نہیں کلام ہوتی ہے ۔ اسے سخن بھی کہا جاتا ہے ۔ متن مردہ ہوتا ہے ۔
وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے علوم اور سماجی رسوم و روایات اور عقاٸد میں تبدیلی آٸی اسی طرح شاعر کا سٹیٹس بھی تبدیل ہوا ۔ خاص طور پر ترقی پسند ادب نے شاعر کو ازسر ِ نو سماجی اور سیاسی شعور پیدا کرنے اور انسانی آزادی کے حق کے لیے مزاحمت کی ذمہ داری سونپی اور شاعر کے ناکام عاشق اور ناکارہ انسان ہونے کے تصور کو رد کردیا۔ جس طرح انسانوں کی خرید و فروخت اور غلام بنالینے کی قانونی و اخلاقی حیثیت ختم کر دی گٸی اسی طرح شاعر کی دربار سرکار سےوابستگی کو گالی کے طور پر لیا جانے لگا ۔ یہاں تک کے ادب براٸے ادب کے نظریے نے رومان پروری ، فطرت پسندی اور نسان دوستی جیسے نظریات پر مضبوط بنیادیں بنا کر جمالیات کے اظہار کو شعار بنایا ۔ خود لذتی کی سطح تک گر جانے والے ادب براۓ ادب کی آڈٸینس جتنی بھی زیادہ ہوجاۓ اس کی وقعت کمرشل سٹیج ڈراموں سے زیادہ کبھی نہیں رہی ۔ نظریہ اور مربوط فکر ہی کسی تخلیقی ادب کی رفعت کا پیمانہ ہوا کرتا ہے ۔
عصر حاضر میں آرٹ کی دنیا میں دو اور گروہ بھی وجود میں آۓ ہیں جن کا مینار دولت کے حصول پر فوکس اور خالص دنیاوی مفادات سے وابستگی کی بنیاد پر قاٸم اور بلند کیا گیا ہے ۔ یہاں ہم اس گروہ کو مزید دو ذیلی گروپس میں تقسیم کر سکتے ہیں ، ایک کمرشل اور دوسرا درباری یا سرکاری ۔ شاعروں کے حوالے سے درباری شاعروں کی روایت بادشاہوں کے زمانوں سے چلی آ رہی ہے جبکہ آرٹ کو کمرشلاٸز کرکے عام آدمی کی پہنچ سے دور کرنے ، سماج پر اثر انداز ہونے سے روکنے اور اصل سے بہتر نقل کی تھیوری کو راٸج کرنے جیسے منصوبے دولت پرست سرمایہ دارانہ نظام کا تحفہ ہیں ۔ جس کے پیچھے حقیقی اور موثر فاٸن آرٹس بالخصوص ادب کا قلع قمع کرنا اور جینوٸن آرٹسٹوں بالخصوص شاعروں اور ادیبوں کو پیچھے دھکیل کر ، نظر انداز کرکے اور مایوس کرکے ختم کرنے اور ان کے بدلے نقلی اور مصنوعی اور مشینی نقادوں اور شاعر ، ادیبوں کو اہم بنا کے پیش کرنے کا باقاعدہ آرگناٸزذ منصوبہ کار فرما دیکھا جاسکتا ہے ۔
آج سے پچاس سال پہلے جب ہمارے ادبی منظر نامے پر نمایاں ناموں میں ایک طرف اختر حسین جعفری ، فیض احمد فیض ، منیر نیازی ، قتیل شفاٸی اور احمد فراز جیسے شعرا ، ڈاکٹر انیس ناگی ، احمد ندیم قاسمی اورڈاکٹر وزیر آغا جیسے مراکز کی حیثیت رکھنے والے ہمہ جہت ادیب تھے تو ان کے مقابلے میں عطاءالحق قاسمی ، حسن رضوی اور افتخار عارف جیسے درباری سرکاری شاعر ، دانشور اور میڈیا پرسن ایستادہ کیے گٸے ۔ میں نے دیکھا کے اس گروہ میں فوراً بعد کشور ناہید ، امجد اسلام امجد اور پھر اس کے بعد اصغر ندیم سید بھی آ شامل ہوۓ ۔ کراچی میں اس قبیل کے شاعروں میں سب سے نمایاں نام پیر زادہ قاسم کا رہا ہے ۔ درباری شاعروں کی نمایاں نشانیوں میں اخبارات اور ٹی وی وغیرہ پر تواتر سے نظر آنا ، سرکاری اور ریاستی عہدیداروں سے مضبوط تعلقات رکھنا ، سرکاری و نجی تقاریب میں نمایاں کرسیوں پر متمکن ہونا ۔ ملکی و بین الاقوامی سطح پر مسلسل دورے کرنا اور لوگوں سے کہہ کر اپنی صدارتیں رکھوانا اور اپنے جشن منوانا ، ادبی و علمی اداروں میں اعلیٰ عہدے حاصل کرنا اور اوپر تلے سرکاری اعزازات کا بےدردی اور ڈھیٹگی سے حصول شامل ہے ۔
حق اور انصاف کی بات یہ ہے کہ میں اگر شاعر ہوں تو میری شاعری جس مرتبے کی ہو ، اعلیٰ ذوق طبقے میں اس کی جس سطح کی پذیراٸی ہو اور جتنا تخلیقی ، علمی اور ادبی کنٹریبیوشن ہو مجھے اس پر رب تعالیٰ کا ممنون ہونا چاہٸیے اور اس کے بعد ادب پڑھنے اور سننے والوں سے اگر عزت ملتی ہے تو ان کا شکر گزار ہونا چاہٸیے اور حتی المقدور احساس ذمہ داری کے ساتھ معاشرے نے مجھے جو دیا اسے لوٹانے کی کوشش کرنی چاہٸیے چاہے وہ نٸے آنے والے شاعروں کی حوصلہ افزاٸی کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو ۔ لیکن یہاں پچھلےپچاس سالوں میں جو کچھ میں نے دیکھا کہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے ۔ حسن رضوی ، عطاء الحق قاسمی ، امجد اسلام امجد ، پیرزادہ قاسم ، اصغر ندیم سید اور افتخار عارف نے منیر نیازی ، اخترحسین جعفری ، فیض احمد فیض ، احمد فراز ، محسن نقوی ، سلیم کوثر ، صابر ظفر ، شفیق احمد خان ،ڈاکٹر ابرار عمر اور فرحت عباس شاہ سمیت ہر جینوٸن اور طاقتور شاعر کو پیچھے دھکیل دھکیل کر ان سے زیادہ ایوارڈز حاصل کیے ، بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فاٸز رہ کر لمبی لمبی تنخواہیں اور مراعات حاصل کیں اور جشنوں اور صدارتوں کا تقاریب کا تو شمار ہی ممکن نہیں ۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ ان سب متذکرہ بالا درباری و سرکاری شاعروں کا شعری کنٹریبیوش فیض ، فراز ، منیر نیازی اور اختر حسین جعفری جتنا تو کیا ہونا ہے مجھ فقیر کے مقابلے میں سب کا ملا کے بھی آٹے میں نمک کے برابر نہیں ۔ یہ بات میں پورے وثوق اور اعتماد سے کر رہا ہوں اور اسے ہر وقت ثابت کر دکھانے کے دعوٸے سے کر رہا ہوں ۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ جن لوگوں کا مطالعہ کم ہے اور وہ صرف عطاء الحق قاسمی یا افتخار عارف وغیرہ کی شہرت اور حکومتی حلقوں تک رساٸی کی وجہ سے ان کو بڑا شاعر تسلیم کرکے اپنا اپنا بُت بنا چکے ہیں ان کے لیے یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہوگا کہ ان درباری شاعروں کے پاس معیاری علمی و تخلیقی کام نہ ہونے کے برابر ہے یا انتہاٸی کمزور ہے ۔
تخلیقی حوالے سے ایک بات جو ساری دنیا کے مفکرین اور ناقدین متفقہ طور پر مانتے ہیں وہ یہ ہے کہ مصوری ہو یا موسیقی ، اعضاء کی شاعری ہو یا شاعری یہ پورا آدمی اور پوری زندگی مانگتے ہیں ۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ کی زندگی کا محور و مرکز کوٸی اور شَے ہو لیکن آپ ایک بڑے شاعر بھی ہوں ۔ اگر چہ ہم اس امکان کو حتمی طور پر رد نہیں کرسکتے کہ کوٸی آدمی جتنا عظیم مارشل آرٹسٹ ہو اتنا ہی پرولیفک شاعر بھی ہو ۔ لیکن ایسا واقعہ ہزاروں یا لاکھوں میں کوٸی ایک آدھ ہی ہوسکتا ہے ۔ عموماً یہی دیکھا گیا ہے کہ جس کسی نے بھی شاعری یا موسیقی کے ساتھ ساتھ کاروبار چلایا یا کوٸی مختلف نوکری بھی کی وہ اوسط درجے کا فنکار ہی رہا ۔
افتخار عارف کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ پاکستان بننے کے وقت باقی عظیم مہاجرین کی طرح اپنے عزیز و اقارب کی جانوں کی قربانیاں دے کر یا آباو اجداد کی جاٸیدادیں چھوڑ کر مملکت ِ خداداد حاصل کر لینے کے فخر کے ساتھ آباد کرنے یا اس میں آباد ہونے نہیں آیا تھا بلکہ موصوف پاکستان بننے کے پندرہ یا بیس سال بعد اچھے مستقبل کی تلاش میں تشریف لاۓ تھے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے جس کی تصدیق یا تردید خود افتخار عارف ہی کرچسکتا ہے کہ افتخار عارف بھارت میں بار بار میٹرک کے امتحانات میں فیل ہوجانے کی وجہ سے ارد گرد موجود لوگوں کے طعنوں سے گھبرا کر پاکستان آیا جہاں کراچی کے وضعدار لوگوں نے نہ صرف اس کی کفالت کی ذمہ داری اٹھاٸی بلکہ معاشرے میں عزت اور اعتماد سے اٹھنے بیٹھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جو انہیں بھارت میں حاصل نہیں تھے۔ جن گھرانوں میں ان کو پناہ اور امان ملی وہ علمی اور ادبی حوالوں سے گہوارے مانے جاتے تھے جہاں روزمرہ کی بنیادوں پر تہذیب اور تمدن کی اعلیٰ مثالیں قاٸم ہوتی دکھاٸی دیتی تھیں ۔
بتایا جاتا ہے کہ علمی اور ادبی سطح پر کمزور رہنے کے باوجود افتخار عارف نے بڑوں کی محفل میں سرجھکا کر بیٹھنا اور ہاتھ ملتے ہوۓ نہایت لجاجت بھرے انداز میں گفتگو کرنا سیکھ لیا جو آگے چل کے حکمرانوں کو شیشے میں اتار کر بار بار سرکاری عہدوں پر فاٸز رہنے کی سرگرمی میں ان کے بہت کام آیا ۔
خدا کے لیے اس بات کو میری ان سے کسی ذاتی مخاصمت کی وجہ سے رد نہ کریجٸیے گا بلکہ آپ میری ان تمام باتوں کی تصدیق خالد اقبال یاسر جیسے افتخار عارف کو عرصہ دراز سے جاننے والے کسی بھی شخص سے کر سکتے ہیں کہ حکمرانوں کے تلوے چاٹنے اور خوشامد کرنے میں جتنا ملکہ افتخار عارف کو حاصل ہے دنیا کی کسی دوسری شخصیت کو حاصل نہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ نواز شریف ، بینظیر ، جنرل مشرف اور آصف زرداری بیک وقت سب کے ادوار میں اعلیٰ عہدوں پر فاٸز رہیں جبکہ آپ کے پاس تعلیمی اسناد بھی موجود نہ ہو اور آپ کی شعری سطح بھی یہ ہو کہ آپ کے مجموعہ ہاۓ کلام سے دوسرے شاعروں کے اشعار برآمد ہوں ۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہٸیے کہ تخلیقی ادب میں کمزور سے کمزور تخلیق کار کی بھی عزت ہوتی ہے کہ آخر کو وہ معاشرے کو حسن بخشنے والے شعبے سے منسلک تو ہے لیکن چور شاعر کی کوٸی عزت نہیں ہوتی بلکہ اسے نفرت اور تضحیک سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہ بالکل کسی کی اولاد چوری یا اغواء کرلینے جیسے جرم کا ارتکاب کرتا ہے ۔
ذیل میں صرف چند مثالیں پیش خدمت ہیں ۔ یہ مثالیں اور بھی دی جاسکتی ہیں لیکن چونکہ اس وقت میرے مضمون کا موضوع کچھ اور ہے لہٰذا آپ ان چند مثالوں کو ہی زیادہ سمجھیں ۔ بہرحال اس سے آپ کے علم میں یہ بات ثبوتوں کے ساتھ آ جاۓ گی کہ بظاہر اتنا بڑا نام اور امیج رکھنے والا افتخار عارف وچوں کی اے ۔
اس کا سرقہ بمع ثبوت ملاحظہ فرماٸیے
بدن نے چھوڑ دیا روح نے رہا نہ کیا
میں قید ہی میں رہا قید سے نکل کے بھی
صابر ظفر ۔۔۔ابتدا 1974
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی
افتخار عارف ۔۔۔۔۔( بعد ازاں )
ہم جس مقام پر ہیں وہاں سب مزے میں ہیں
سب کر رہے ہیں آہ و فغاں سب مزے میں ہیں
حفیظ جالندھری
میزان و تیغ و خلعت و منصب مزے میں ہیں
سب کر رہے ہیں آہ و فغاں سب مزے میں ہیں
افتخار عارف
دل سے اب بھی آرزوے پیش و پس جاتی نہیں
عمر اتنی ہو گئ لیکن ہوس جاتی نہیں
فضیل جعفری
آرزووں کا ہجوم اور یہ ڈھلتی ہوئ عمر
سانس اکھڑتی ہے نہ زنجیر- ہوس کٹتی ہے
افتخار عارف
کہوں تو کس سے کہوں آ کے اب سر- منزل
سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا
سحر انصاری
کریں تو کس سے کریں نارسائیوں کا گلہ
سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا
افتخار عارف
مرے لہو کو مری خاک – نا گزیر کو دیکھ
یونہی سلیقہء عرض- ہنر نہیں آیا
سحر انصاری
حریم- لفظ کو معنی سے نسبتیں بھی رہیں
مگر سلیقہء عرض- ہنر نہیں آیا
افتخار عارف
تجھ سے تو کوئ گلہ نہیں ہے
قسمت میں مری ، صلہ نہیں ہے
پروین شاکر
سب اپنے جنوں کی وحشتیں ہیں
تجھ سے تو کوئ گلہ نہیں ہے
افتخار عارف
باغ، جنگل، خوش نما بیلیں مکانوں پر منیر
اس زمیں پر رنگ سارے پانیوں کے دم سے ہیں
منیر نیازی
مٹی تو سامنے کا حوالہ ہے اور بس
کوزے میں جتنے رنگ ہیں دریا کے دم سے ہیں
افتخار عارف
۔۔۔۔۔
گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے
افتخار عارف
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آگٸی ہے لوٹ کے گھر جاٸیں ہم تو کیا
منیر نیازی
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
ادھر میں ہاتھ اٹھاٶں ادھر اثر کر دے
نامعلوم ( بحوالہ ناصر کاظمی )
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے
افتخار عارف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ذہن میں رہنا چاہٸیے کہ جو شاعر یا انسان کسی کا شعر یا مال چوری کرکے اپنے پاس رکھنے کے عمل پر نہ شرمندہ ہو اور نہ معذرت خواہ ہو اس کا مطلب ہے کہ اس کے سماجی اور اخلاقی معیارات صدیوں سے قاٸم اخلاقی قوانین سے مختلف ہیں ۔ اگر وہ چوری کرسکتا ہے تو پھر سوفیصد طے ہے کہ وہ جھوٹ بھی بولتا ہوگا اور اگر جھوٹ بولتا ہے تو پھر بےانصاف بھی ہوگا اور ظالم بھی ۔ کیونکہ جہاں جھوٹ ہوگا وہاں عدل نہیں ہوگا اور کہیں بھی عدل نہ ہونے کا مطلب ہے وہاں ظلم ہی ظلم ہے ۔
میں یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن کسی نے مجھے بتاٸی تھی افتخار عارف کو فیض احمد فیض کے قریب کیا گیا تھا اور مسلسل ان کے قریب رہنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ فیض صاحب کی وفات کے بعد جس طرح یہ پَے در پےَ کبھی ایم ڈی یا جی ایم اکیڈمی آف لیٹرز کبھی صدرنشین ۔ کبھی افسرِ اعلیٰ مقتدرہ قومی زبان تو کبھی ایران وغیرہ وغیرہ ۔ کسی بڑی خدمت کے عوض طاقتوروں کی خوشنودی حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب نظر آۓ ۔ ان کی پہلے پہل کی ایک تقرری تو بہت ہی غورطلب ہے کہ افتخار عارف کو مبینہ طور پر بی سی سی آٸی کے بنیاد گزار آغا حسن عابدی کے قریب رہنے کی بھی اساٸینمینٹ ملی جن کے بینک کو سمندر پار کے ممالک نے یہ کہہ کر بند کردیا تھا کہ اس کے زریعے بینکنگ کے علاوہ کچھ غیر قانونی مقاصد پورے کیے جارہے ہیں ۔ انہیں آغا حسن عابدی کی سرپرستی میں لندن میں بننے والے اردو مرکز کی غالباً سربراہی افتخار عارف کو سونپی گٸی ۔ ان سوالات کا جواب اگر خود افتخار عارف دے گا تو زیادہ بہتر وضاحت ہوسکے گی ۔
ظلم دیکھیے کہ پچھلے تیس سالوں سے تو ادبی اداروں کی سربراہی کے علاوہ تقریباً اسلام آباد کے ہر ادبی بورڈ اور ایوارڈ کمیٹی کی ممبرشپ افتخار عارف کو حاصل ہوتی چلی آ رہی ہے جیسے یہ کسی ایک شخص کے باپ کی جاگیر ہو ۔ سیاستدانوں کی
چندفیملیوں کی طرز پر ادبی اداروں پر مسلسل ایک ہی شخص کا قبضہ رہنا کیا ریاست اور معاشرے پر ظلم نہیں ۔ کیا کوٸی بھی باشعور اورصاحب ِ ضمیر انسان اس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ ریاست کے تمام وفاقی ادبی ادارے کسی فرد ِ واحد کی ذاتی جاگیر بنا دیے جاٸیں اور وہ بھی ایسا سگ زمانہ اور ہوس دنیا سے مغلوب شخص جو اسی سال کی عمر بھی نوکری مانگتا ہے اور کمیٹیوں سے اس طرح چمٹا ہوا ہے جیسے کوٸی بیوہ اپنے جوان شوہر کی لاش سے ۔ اگر مثال کے طور پر اس سب کو افتخار عارف کا حق بلکہ جاٸز حق بھی سمجھ لیا جاۓ پھر بھی اختیارات کے ناجاٸز استعمال کا حق تو اسے پھر بھی نہیں دیا جاسکتا ۔ منیر نیازی سے لیکر احمد فراز اور عدیم ہاشمی تک کو جس طرح افتخار عارف نے ہر قدم پر کچل کر خاک میں ملانے کی مسلسل کوشش کی اس کا میں عینی شاہد ہوں ۔ اس نے اپنی ذاتی پسند اور ناہسند کو ادبی اداروں کے آٸین اور اغراض و مقاصد پر مسلط کرتے ہوۓ ملک کے حقیقی شاعروں اور ادیبوں کو پیچھے دھکیل کر کمزور کیا جبکہ دونمبر شاعر اور ادیبوں کو ترجیحی بنیادوں پر ہر جگہ پروموٹ کیا اور ان سے فواٸد اٹھاۓ جس کی مثال 2023 میں ہونے والے قومی ادبی اعزازات کی تقسیم تھی جس میں چور شاعر عباس تابش اور اس کے کمزور تخلیقی کارندوں کو تھوک کے حساب سے اعزازات دلواۓ گٸے اور اس کے بعد تشکر کے طور پر عباس تابش کی زیر نگرانی جشن ِ افتخار عارف منایا گیا ۔
یہ دونوں باتیں آن ریکارڈ ہیں ۔ کوٸی چاہے تو اس کی تصدیق کرسکتا ہے ابھی کچھ خاص وقت نہیں گزرا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو دوسروں کا کلام بھی چوری کرتا ہے ۔ جھوٹ بھی بولتا ہے ، ملک ڈوب جاٸے ، قوم مر جاۓ اور انسان وڑجاٸیں افتخار عارف کی شاعری میں سماجی شعور کی پرچھاٸیں تک نظر نہیں آتی ۔ نہ کوٸی نظریہ ملتا ہے نہ کوٸی مربوط فکر ہے نہ ہی موضوعات کا تنوع نظر آتا ہے تو سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ پھر اس نے اتنی ساری شاعری کیسے کرلی جس میں سے کچھ چیزیں مقبول بھی ہوٸیں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شاعری کرلینا یا گھڑ لینا یا دوچار مناسب نظمیں ، غزلیں بھی لکھ لینا کوٸی بڑا کام نہیں ہوتا ۔ اس طرح کا کام ہر عہد میں سینکڑوں کے حساب سے لوگ کر رہے ہوتے ہیں ۔ اصل کام تو یہ ہوتا ہے کہ آپ کتنے منفرد اور موثر شاعر کے طور پر سامنے آۓ ہیں اور یہ کہ کیا آپ نے اپنا نام اور مقام اپنی شاعری کی طاقت کے بل بوتے پہ بنایا ہے یا افسریوں اور دیگر ہتھکنڈوں سے ۔
ایک اہم بات جو میں بار بار کہتا ہوں اور ثابت بھی کرتا آرہا ہوں اور اگر یہ بات کسی قاری کے لیے نٸی ہے تو اسے پلے سے باندھ لینا چاہٸیے کہ شاعری ایک ایسی زندہ اور جیتی جاگتی قوت ہے کہ اس کے ساتھ جو بھی کوٸی جیسا عمل کرتا ہے یہ اسے جواباً وہی کچھ لوٹاتی ہے ۔ اگر کوٸی اس کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے ، فراڈ کرتا ہے اور اسے ناجاٸز طور پر استعمال کرتا ہے تو یہ اسے چوک میں لا کے بےنقاب کرتی ہے اور پوری دنیا کےسامنے وہی کچھ کرتی ہے جو اس نے شاعری کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔
افتخار عارف کی ساری زندگی اور اس کا کردار لوگوں کے سامنے بے نقاب نہ بھی ہوا ہو لیکن خود افتخارعارف کو پتہ ہے کہ وہ ایک چور شاعر ، ان پڑھ اور ایسا خوشامدی انسان ہے جس نے دنیاوی مفادات کے حصول کے لیے کبھی حکمرانوں کی کاسہ لیسی کی تو کبھی عزت و توقیر حاصل کرنے کے لیے مذہبی مناجات کا سہارا لیا ۔
دوسروں کے سامنے معتبر و معزز انسان کی اداکاری کرنے والے کی خود اپنی نظروں میں کیا عزت ہے آٸیے خود افتخار عارف کی شاعری میں تلاش کرتے ہیں ۔
آرزووں کا ہجوم اور یہ ڈھلتی ہوئ عمر
سانس اکھڑتی ہے نہ زنجیر- ہوس کٹتی ہے
۔۔۔۔۔۔
شکم کی آگ لیےپھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ ِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
۔۔۔۔۔۔
اب چاہے میں نے افتخار عارف کی ساری زندگی ثبوتوں سمیت سامنے رکھ کے کہا ہوتا کہ یہ دنیاوی مفادات اور حرص و ہوس کا مارا ہوا کتا ہے جسے جہاں راتب نظر آتا ہے دوڑ کے وہاں چلا جاتا ہے تو افتخار عارف کو عظیم شاعر سمجھنے والے معصوم لوگوں نے میرا بھرکس نکال دینا تھا ۔ لیکن اب تو وہ خود ان باتوں کا اعتراف کر رہا ہے ۔ بلکہ شاعری کی پر جلال ملکہ اس کے قلم کے نرخرے پر انگوٹھا رکھ کے اس سے اعتراف کراتی جا رہی ہے ۔
ایک اور نظم دیکھٸیے جس میں تو ضمیر کی سیاہی شاعر کی رگ رگ میں سما جانے کی پوری تصویر نظر آ رہی ہے ۔
( کچھ دیر پہلے نیند سے )
لہو میں خاک اڑتی ہے
بدن ، خواہش پہ خواہش، ڈھے رہا ہے
اور نفس کی آمد و شد دل کی ناہمواریوں پر بین کرتی ہے
وہ سارے خواب ایک اک کر کے رخصت ہو چکے ہیں جن سے آنکھیں جاگتی تھی
اور اُمیدوں کے روزن شہر آئندہ میں کھلتے تھے
بہت آہستہ آہستہ اندھیرا
دل میں، آنکھوں میں ، لہو میں، بہتے بہتے جم گیا ہے
وقت جیسے تھم گیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔
نیند سے کچھ دیر پہلے کا وقت ایسا ہی ہوتا ہے جب سارے دن کا کیا دھرا ایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے آتے ہے ۔ خدا تعالی نے نیک لوگوں کے لیے اطمینان اور ظالموں کے لیے اذیت کا نظام انسانوں کے اندر ہی رکھ دیا ہوا ہے ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ سارا دن مخلوق ِ خدا کو تکلیف دینے والا انسان رات کو چین کی نیند سو پاۓ ۔ یہی حال افتخار عارف کا بھی ہے کہ حرص جا نہیں رہی بلکہ اندھیرا بن کے کے اس کے خون اور رگ و پے میں جمتی جار رہی ہے ۔
ایک بات جس نے مجھے حیران کیا وہ یہ ہے کہ بڑے سے بڑا لالچی اور دنیا کی ہوس کا مارا ہوا گھناٶنا آدمی بھی یہ جان لے اور اعتراف بھی کر لے تو وہ شرمندہ ہو کر رب کے آگے گڑگڑاتا ہے معافی مانگتا ہے اور راہ راست پر آنے کی دعا مانگتا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ افتخار عارف خود کے دنیاوی کتا ہونے کے اعتراف کے باوجود کہیں شرمندہ ہو کر معصیت کے اس خوفناک چنگل سے آزادی کی دعا نہیں مانگتا بلکہ اسی حالت میں معتبر کہلانے ، عزت پانے اور مزید ترقی کو نعمت قرار دیتے ہوۓ مانگتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پچاس سال سے معصوم شاعروں اور ادیبوں کو خالصتاً ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے باوجود اپنی قبر کو گاٶ تکیہ بنا کے پوری شدت سے مزید مانگتا جا رہا ہے ۔ گزشتہ سال کسی نے افتخار عارف کے ایوارڈ حاصل پر کمال تبصرہ کیا تھا کہ برسوں پہلے کیے گٸے کام پر افتخارعارف نے ایک بار پھر سراری اعزاز حاصل کر لیا ۔ مجھے یہ سب دیکھ کے لگتا ہے کہ شاید توبہ کے دروازے ہی اس پر بند ہوچکے ہیں ۔ کیونکہ اس کے دل میں خیر کی کوٸی روزن ہی باقی نہیں رہی ۔ شعر ملاحظہ کیجٸیے ۔۔۔۔
کہاں کا خیر ، کیسی حرمت ِ لفظ و معانی
میں دنیا میں ہوں اور اسباب ِ دنیا چاہتا ہوں
دنیا کے بڑے بڑے فلاسفرز اور ماہرین ِ نفسیات کا ماننا ہے ہر انسان اپنے خیال کا پرتو ہے ۔ میں نے برسوں کے غور و فکر کے بعد اردو کی پہلی تنقیدی تھیوری ، ” اردو کا ادراکی تنقیدی دبستان “ میں اس بات کی تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ تخلیقی ادب کا تعلق انسان کے باطن اور اس کی تہذیبی تاریخ سے ہوتا ہے۔ انسانی خیال ، کوٸی احساس ، کیفیت یا نظریہ تخلیقی اظہار چاہتا ہے تو پہلے وہ تخلیق کار کے باطن میں موجود کارگاہ تخلیق کے اندر خیال سے تخلیقی خیال میں ڈھلتا ہے اور پھر کبھی زبان کے سہارے تو کبھی رنگوں اورسُروں کے زریعے ذات سے باہر وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ گھڑی ہوٸی شاعری یا لفظوں ، تشبیہوں یا استعاروں کو سامنے رکھ کے بناٸی گٸی شاعری غیر تخلیقی اور مصنوعی ہوتی ہے ۔ خالص تخلیقی عمل خیر کا عمل ہوتا ہے جسے اگر انسان ناخالص نہ ہونے دے تو وہ اثر انداز ہونے اور دلوں کا عالم بدلنے کی قوت سے مالا مال ہوتی ہے ورنہ گھڑی ہوٸی شاعری جو کہ نقل بمطابق اصل بناٸی گٸی ہو تھوڑی دیر کے لیے چونکاتی ضرور ہے لیکن ذہن و دل کو متاثر کرنے کی طاقت سے محروم ہوتی ہے ۔ اب اس شعر کو دوبارہ پڑھیے اور میرے ساتھ ساتھ سمجھنے کی کوشش کیجٸیے ۔
کہاں کا خیر ، کیسی حرمت ِ لفظ و معانی
میں دنیا میں ہوں اور اسباب ِ دنیا چاہتا ہوں
یعنی افتخار عارف کے نزدیک خیر کی کوٸی حیثیت ہے اور نہ لفظ و معانی کی یعنی اس کے نزدیک شعر و اد کی کوٸی اہمیت ہے تو صرف اسباب ِ دنیا یعنی پیسہ ، افسری ، شہرت ڈیفنس میں مکان ، کسی سرمایہ دار عورت سے شادی اور ہر سال ایک نیا ایوارڈ حاصل کرنے کے ٹول کی حدتک ۔ جب کسی شاعر کا شعری موضوع ہی شاعری کو رد کرکے اسباب دنیا حاصل کرنا ہوگا تو اس کی شعری حیثت یا بطور شاعر مقام و مرتبہ کیا رہ جاۓ گا ۔
میں افتخار عارف اور امجد اسلام امجد سمیت ایسے کٸی شاعروں کو جانتا ہوں جن کے اندر شعر کہنے کا وصف تھا اور انہوں نے آغاز میں نسبتاً بہتر شاعری کی بھی لیکن شہرت اور دولت کی ہوس نے آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی کہ شاعری کیا کچھ بھی سجھاٸی نہ دیا ۔ جس دن امجد اسلام امجد کا انتقال ہوا ان کے بغیر تقریب نہ کرنے والے احمد شاہ نے الحمراء لاہور میں اپنا فیسٹیول جاری رکھا ۔ حتیٰ کہ شام کو ایسی آتش بازی کی گٸی کہ پورا لاہور جگمگا اٹھا۔ ایک چوری کا ڈرامہ وارث جس پر شوکت صدیقی نے جانگلوس کی کاپی کرنے کا کیس بھی کردیا تھا ، چار نظموں اور دو غزلوں کی بنیاد پر پوری دنیا میں شاعری سے پیسہ بنانے والے امجد اسلام امجد کے پاس آج اتنا بھی کلام نہیں کہ اس پر ڈھنگ کا کوٸی مقالہ لکھا جاسکے ۔ یہی حال افتخار عارف کا بھی ہے کہ اس کا بیشتر کلام حرص ، ہوس ، ھل من مزید سے یا پھر مذہبی کلام کی آڑ حاصل کرنے کی کوشش سے بھرا پڑا ہے ۔
افتخار عارف جب بھارت سے کراچی آیا تو اسے علم و ادب کا شاندار ماحول میسر آیا لیکن اسے شاعر نہیں بننا تھا بلکہ اسے ٹی وی پروگرام کے زریعے شہرت اور شاعری کے زریعے افسری حاصل کرنی تھی ۔ بےسہارا انسان اور خوداعتمادی کے فقدان اور خوف کی بنیاد پر ہمیشہ خوش اخلاقی اور خوشامد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ افتخار عارف نے ساری زندگی یہی کیا ۔ یہ کرتارہا اور شاعری اس کے سگ دنیا ہونے کو زمانے کے سامنے لاتی رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ افتخار عارف کی شاعری میں نمایاں ترین
خیال یا موضوع ہی دل اور دنیا کے درمیان تضاد اور کشمکش ہے جس سے پیدا ہونے والی ذلت کا احساس شاعر کے ناچاہتے ہوٸے بھی اس کی شاعری کا حصہ بن گیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کوٸی اور نقاد اسے شاعر کی ایسی سچاٸی کا نام دے جو زبان پر لانا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن میرے نزدیک افتخار عارف جیسے کسی شاعر کے منہ سے ایسی سچاٸی کا نکلنا دراصل شاعری کا وہ انتقام ہے جو وہ کسی بھی ایسے شاعر سے لیتی ہے جو اس کے ساتھ سچاٸی سے پیش نہیں آتا یا اسے دنیاوی مفادات کے لیے جھوٹ موٹ گھڑتا ہے اور اس کی بنیاد پر مقام و مرتبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اب آپ یقناً یہ سوچ سکتے ہیں کہ میں نے افتخار عارف کے سرقے کے ثبوت پیش کر کے اسے چور شاعر تو ثابت کردیا لیکن اسے جھوٹا شاعر کیسے ثابت کروں گا ۔ تو اس ضمن میں افتخار عارف کی ایک غزل کا شعر دیکھتے ہیں اور اسے کھول کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
رحمت ِ سید ِ لولاک پہ کامل ایمان
امت ِ سید لولاک سے خوف آتا ہے
یہ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ نہ تو میں کسی کے ذاتی ایمان پہ کوٸی انگلی اٹھا رہا ہوں نہ عقیدے پر بلکہ میرے تجزیے کا تعلق محض شعر کے کرافٹ اور خیال پر بحث تک محدود ہے ۔ اس شعر میں شاعر نے پہلا ظلم ، جہالت مآبی اور بہتان یہ برتا ہے کہ ساری کی ساری امت کو خوف زدہ کرنے والی گویا کہ ظالم اور جابر قرار دے دیا ہے جب کہ نعوذ باللہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ رحمت ِ دوجہاں سرکار ِ دوعالم کی امت میں اللہ کا کوٸی نیک بندہ ہی نہ رہ جاۓ ۔ مثال کے طور پر کربلا میں ایک طرف یزیدی لشکر تھا جس میں بظاہر سارے کے سارے مردود یزید کے لوگ تھے لیکن جناب حُر اسی لشکر سے اپنے بیٹے سمیت نکلے اور امام علیہ سلام کی طرف سے لڑ کر جام شہادت نوش کیا۔
اب اگر ہم یہ کہیں کہ یہاں شاعر کا مقصد ساری امت نہیں تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک تو موصوف کو فن شعر گوٸی کی الف ب کا بھی پتہ نہیں اور نہ ہی ابلاغ کی صحت پر دسترس حاصل ہے ۔ دوسرا احترام رسالت پر بھی سوال اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ نعت کا شعر تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہوتا ہے اور س میں سب سے زیادہ جس بات کا خیال رکھا جاتا ہے وہ احترام ، ادب ، قرینہ اور تقدس ہے ورنہ جس طرح انہوں نے بلاتخصیص پوری امت سے خوف کا اظہار کیا ہے یہ اگر قابل گرفت نہیں تو ناقابل ِ قبول ضرور ہے ۔ کیونکہ ایک تو بدتمیزی سے ایسا شعر لکھنا اور پھر اس کا شعور بھی نہ ہونا کہ یہ گستاخی ہے اور جگہ جگہ یہ شعر سنا کے داد وصول کرتے پھرنا چہ معنی دارد ۔
اب پہلے مصرعے کو ذہن میں رکھتے ہوۓ شعر دیکھیے ۔۔۔۔
رحمت ِ سید لولاک پہ کامل ایمان
امت ِ سید لولاک سے خوف آتا ہے
آپ دنیا کے کسی عالم ، کسی فقیہہ سے پوچھ لیجیے کہ جناب کیا کامل ایمان کی حالت میں خداۓ بزرگ و برتر کے علاوہ کسی اور کا خوف باقی رہتا ہے یا نہیں ۔
یہ تو ممکن ہے کہ کسی کمزور ایمان والے انسان کے اندر طرح طرح کے خوف موجود ہوں لیکن کامل ایمان کا پہلا وصف ہی یہ ہے کہ اس کی رحمت پر بھروسہ اس درجے پہ پہنچ جاتا ہے جہاں کسی دنیاوی خوف کا شاٸبہ تک باقی نہیں رہتا ۔ اب یا تو ایمان کامل نہیں ہے یا پھر خوف نہیں ہونا چاہٸیے ۔ اگر شاعر کے اس شعر کو سچا سمجھ لیں تو پھرایمان کامل کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوتا ہے ۔
یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پھر یہ شعر لکھنے کی ضرورت کیا تھی تو اس کا جواب وہی ہے کہ شاعری شعر کے ساتھ جھوٹ بولنے والے اور منافقت کرنے والے کا باطن اس طرح سامنے لے کے آتی ہے جس طرح آٸینہ کسی کا چہرہ ۔
یہی حال افتخار عارف کا بھی ہے ۔ اس کی شاعری میں موضوعاتی تنگ دستی کا یہ عالم ہے کہ پھر پھرا کے دنیا کی حرص کے دباٶ میں بےتوقیر ہونے کے علاوہ کوٸی خاص موضوع ملتا ہی نہیں ۔ جہاں تک کربلا کے استعارے کے استعمال کی بات ہے تو کربلا کا استعارہ کس کام کا اگر آپ کربلا کے نظریے اور سبق کو فالو کرنے کی بجاۓ ظالم حکمرانوں کے سامنے سرجھکاۓ کھڑے رہیں ۔
ایک اور شعر دیکھیے ۔۔۔۔
ہم وہ مجرم ہیں کہ آسودگٸی جاں کے عوض
رہن رکھ دیتے ہیں دل درہم و دینار کے پاس
اگر میں افتخار عارف کو مجرم کہتا کہ اس نے اپنی آسودگی اور اطمینان کی خاطر پاکستان کے ہر اس جینوٸن ادیب کو زندہ درگور کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اسے جس سے بھی خطرہ محسوس ہوا ہے کہ یہ تو مجھ سے اچھا شاعر ہے اگر لوگوں کے سامنے آ گیا تو مجھ سے میرے مفادات چھن جاٸیں گے تو اس نے اس شاعر کو دفنا کے دم لیا ہے ۔ البتہ کوٸی اپنی کوشش سے بچ گیا ہو تو بچ گیا ہو ورنہ اس نے کوٸی کسر نہیں چھوڑی ۔ سو اس نے اپنے ضمیر کا سودا کیا اور اپنی آسودگی اور مفاد کی خاطر خیر کا دامن تھامنے کی بجاۓ درہم و دہنار کے پاس دل گروی رکھ دیا ۔
ہوسکتا ہے کوٸی نقاد خود کی ملامت کرنے کے اس عمل میں سے بھی کوٸی تہذیبی پہلو تلاش کرلے لیکن میں تلوار کی دھار کو گردن پر محسوس کرکے بھی یہی کہوں گا کہ اس طرح کے شعر احمد فراز اور منیر نیازی کی شاعری میں کیوں نہیں آۓ ، فیض اور ناصر کاظمی کے بہاں ایسا موضوع تخلیقی اظہار میں کیوں نہیں ڈھلا ۔ اس لیے کہ ان کی سوچ ، خیال اور زندگی ایسے معاملات سے دور رہی ہے ۔ ان کے باطن سے وہی کچھ نکلا جو وہ تھے ۔
سو ہم آپ افتخار عارف کو کیا ننگا کریں گے جو خود اس نے اپنے آپ کو کردیا ہے ۔ یا یوں سمجھٸے کہ جو کچھ شاعری نے افتخار عارف کے ساتھ کیا ہے وہ کوٸی دوسرا کیا کرے گا ۔ افتخار عارف کی ایک نظم سوال سے کچھ لاٸنیں دیکھیے ۔۔۔۔
اور میں پا برہنہ سر ِ کوچہءاحتیاج
رزق کی مصلحت کا اسیر آدمی
سوچتا رہ گیا
جسم میں میرے ان کا لہو ہے تو پھر یہ لہو بولتا کیوں نہیں ۔
نظم کی یہ چار لاٸنیں افتخار عارف کے مزاج ، اس کے کردار اور نظریہ حیات سمجھنے میں بہت اہم حیثیت رکھتی ہے ۔
ہم ادراکی تنقید والے کسی بھی تخلیق کار کے اس مرکزی نکتے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر اس کی تخلیق کا سارا تانا بانا اور نظام تشکیل پاتا ہے ۔
مرے لیے یہ لکھنا نہ صرف انتہاٸی مشکل ہے بلکہ تکلیف دہ ہے کہ شاعر حرص و ہوس کی دوڑ میں اس مقام تک پہنچ گیا ہے کہ خود اپنے خون پر سوالیہ نشان ثبت کرنے پر مجبور نظر آتا ہے ۔ افتخار عارف کا اپنے خون کو شک کی نظر سے دیکھنا اور ضرورت کے لیے حکمرانوں کے کوچے میں پا برہنہ کھڑے رہنا اس کی ساری زندگی کا کیا دھرا اور کچا چٹھا بیان کرتا ہے۔ پچھلے چالیس سالوں میں کونسا ڈکٹیٹر یا کرپٹ حکمران نہیں گزرا ، افتخار عارف نوکری کی خاطر جس کے دربار میں پا برہنہ نہیں کھڑا رہا ۔ میں نے مشرف کے بارے ظل ِ الٰہی سے بڑا مقام دینے والے افتخار عارف کے منہ سے آصف زرداری کے صدر بن جانے کے بعد بدتعریفی سنی اور زرداری کی تعریف میں زمین اور آسمان کو ہلاتے ہوۓ پایا ۔ اس کے بعد اگر شاعری اس کے قلم سے اس کے لہو پر سوال اٹھاتی دکھاٸی دیتی ہے تو یہ خالق ِ کون و مکاں کے تخلیق کیے گٸے اس نظام ِ قدرت کا کرشمہ ہے جو انسان کو اس کے اعمال کا نتیجہ اسی دنیا میں دکھا دیتا ہے ۔ ورنہ وہ بھی تو شاعر ہی تھے جن کے قلم نے درج ذیل اشعار لکھے ۔۔۔۔۔
نگہ بلند سخن دلنواز جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر ِ کارواں کے لیے
اور یہ شعر آج بطور خاص افتخار عارف کے سیاق و سباق کو مدِنظر رکھتے ہوۓ ملاحظہ فرماٸیے ۔۔۔۔
اے طاٸر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
یہ پیغام بھی اسی دنیا کے شعراء نے دیا ہے کہ اس رزق کے کمانے سے مرجانا بہتر ہے جس کے لیے آپ کو کسی ظالم کے آگے سرجھکانا پڑے ، کسی جابر کے تلوے چاٹنا پڑیں یا اپنے خون کی خاموشی پر سوال اٹھانا پڑے۔ خود آپ اپنء کردار کی وجہ سے اپنےخون پر سوال اٹھانا اتنا لرزا دینے والا خیال یا موضوع ہے کہ میں یہ معاملہ خود بیان کرنے کی بجاۓ قاری پر چھوڑتا ہو
چلیں ہم افتخار عارف کے یہ تمام معاملات اس کے ذاتی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے اگر وہ ان کو صرف ذاتی فاٸدے اٹھانے تک محدود رکھتا یا چھیاسی سال تک پہنچ کر بھی کہیں بریک لگا دیتا ۔ لیکن اس نے جہاں منیر نیازی ، احمد فراز اور خالد اقبال یاسر جیسے شعراء سے تعصب اور دشمنی کا ایسا ایسا مظاہرہ کیا کہ آپ ان کے عزیز و اقارب سے پوچھیں تو خون کے آنسو ان کے رخساروں پر قطاریں باندھنے لگتے ہیں ۔ وہاں یہ میرے جیسے کٸی شاعروں کی جوانیاں کھا گیا ۔ اس نے ادبی اداروں سے مراعات کماٸیں لیکن وہ ادارے جن ادیبوں کےلیے بنے تھے ان کا مذاق اڑاتا رہا اور انہیں ہر طرح دیوار سےلگا کے رکھا ۔
جس کراچی نے اسے لاوارث سمجھ کر پالا پوسا اس نے اسی شہر کی تضحیک کی جس کے جواب میں نصیر ترابی مرحوم نے ان کے بارے جو کچھ کہا میرے الفاظ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ میٹرو ٹی وہی پر نشر کیا گیا ان کا انٹریو سوشل میڈیا پر تلاش کرکے سن سکتے ہیں ۔ یہ حوالے میں ساتھ ساتھ اس لیے دے رہا ہوں کہ معاشرتی دردمندی ، انسانی ہمدردی اور ادبی تفکر میں لکھا گیا میرا یہ مضمون کسی جوابی جھوٹے پراپیگنڈے کی نظر نہ ہونے پاۓ۔
ایک ایسا آدمی جو بغیر کسی پروفیشنل کوالیفیکیشن کے پاکستان کے سب سے بڑے ادبی ادارے کا چٸرمین رہے ۔ جو اردو زبان کی تہذیب سے نابلد ہو مگر مقتدرہ قومی زبان کا صدرنشین بن جاۓ اور جس کو شاعری کی الف بے کا پتہ نہ ہو نوکریوں ، مصنوعی پروٹوکول اور مشہوری کی بنیاد پر عظیم شاعر بنا پھرے کیا یہ پورے سماج کے منہ پہ طمانچہ نہیں ۔۔ ۔۔ اب آپ پھر سوچ سکتے ہیں کہ میں نے بغیر دلیل کے سخت بات کردی ہے۔ ۔۔۔۔۔ شعر دیکھیے
دیار ِ نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
کوٸی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو
ہر زبان کی اپنی تہذیب اور اس کے لفظوں کا کلچر ہوتا ہے ۔ لفظوں کی نفسیات اور مزاج ہوتا ہے اگر شاعر کسی لفظ کو اس طرح استعمال میں لاۓ کہ لفظ کی شخصیت مسخ ہونے لگے تو لفظ شعر سے جداٸی کا اعلان کردیتا ہے ۔ مذکورہ بالا شعر کو اگر ملکہءترنم نور جہاں نے گایا نہ ہوتا تو دنیا اسے کب کی رد کرچکی ہوتی ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر یہ غزل کسی کو یاد بھی ہے تو صرف اتنی جتنی نور جہاں نے گاٸی تھی ۔ اس غزل کے باقی شعروں کا کسی کو پتہ تک نہیں ۔ بلکہ سواۓ مطلع کے غزل کا دوسرا تیسرا شعر بھی کم ہی کسی کو یاد ہوگا۔
کیونکہ یہ اتنی عامیانہ سی غزل ہے کہ اگر تھوڑا سا غور کیا جاۓ تو اس غزل کا مطلع ہی اتنا کمزور ہے کہ کوٸی نوجوان اور جونٸیر شاعر بھی اسے رکھنا پسند نہ کرے ۔ جس کی وجہ لفظ نُور کا انتہاٸی نامناسب استعمال ہے ۔ نور لفظ کاتعلق بنیادی طور پر الوہی ، الہامی ، مقدس اور پاکیزہ سیاق سباق سے ہے ۔ چاہے وہ اللہ کا نور ہو ، آٸمہ طاہرین کا نور ہو ، آنکھ کا نور ہو یا پھر دودھ کا نور اسے ہرگز ہرگز بلب کی روشنی کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دیار نور اگر واقعی دیار نور ہو تو وہاں تیرہ شبی کا تلازمہ اتنا بے محل ہے کہ کسی بھی باشعور قاری کا دھیان پڑتے ہی اسے چُھری کی طرح چیرتا محسوس ہوگا ۔ زبان کی تہذیب اور لفظوں کی ثقافت سے نابلد ہونے کی ایسی مثالیں افتخار عارف کے ہاں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں ۔ اگر یہ حضرت اس شعر کی اصلاح مجھ سے لے لیتے تو میں فقط ایک لفظ کی تبدیلی سے اس بے معنی اور مصنوعی شعر کو بامعنی اور حقیقی شعر میں بدل دیتا اور لکھتا ۔۔۔۔۔
دیار ِ ہجر میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
کوٸی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو
آپ دیکھیے کہ کس طرح ایک مناسب لفظ ہجر لگانے سے تمام تلازمے کس طرح اپنی اپنی جگہ برمحل اور عمیق ہوگٸے ہیں ۔
ان کا ایک اور شعر دیکھیے جس میں زبان کی بے حرمتی باقاعدہ دہاٸی دیتی نظر آتی ہے ۔۔۔۔
یہ ہم جو رقص کرتے ہین نام علی کےساتھ
پہلے پہل پڑی تھی یہ عادت غدیر میں
عادت اس فعل کو کہا جاتا ہے جو کسی عمل کے بار بار دہرانے سے ایسی شکل اختیار کر جاۓ کہ جس کے دہراۓ بغیر انسان رہ نہ سکے ۔ اب درست تو یہ بنتا ہے کہ پہلے پہل شاعر کا یا لوگوں کا یہ عمل غدیر سے شروع ہوا ۔ یعنی رقص غدیر میں کیا اور وہاں سے عادت پڑ گٸی ۔ لیکن موضوف لکھرہے ہیں کہ غدیر میں عادت پڑی ۔ زبان کے لحاظ سے بھی یہ صریحاً غلط ہے اور عقیدے کے لحاظ سے بھی ۔ کیونکہ شعر میں بتایا گیا یہ فعل کسی جذبے کے تحت عمل میں نہیں لایا جاتا رہا بلکہ بار بار دہرانے سے عادت کی شکل اختیار کرکے بے معنی بلکہ جبریہ ہوگیا ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے انسان کے سجدے اگر عبودیت اور عبادت کی روح سے خالی ہوجاٸیں تو انہیں ٹکریں کہا جاتا ہے ۔ یعنی نماز کی عادتاً اداٸیگی محض زمین پر ماتھا ٹکرانے کے مترادف کہلاتی ہے ۔
یہی حال ان کے سب سے مشہور شعر کا بھی ہے۔۔۔۔۔۔
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
اس موضوع پر جب میرے پڑھنے کے لیے ایسا ارفع و اعلیٰ شعر موجود ہوگا تو میں افتخار عارف کے اس سطحی شعر کا کیا کروں گا ۔۔
کوٸی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
افتخار عارف کا متزکرہ بالا شعر بظاہر لگتا ہے جیسے کسی بڑے تپاک کا شعر ہے لیکن کھولنے بیٹھو تو سواۓ معتبر ہونے کی حسرت کے ککھ نہیں نکلتا ۔ اب یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ ساری زندگی ذلت اٹھانے والوں کاموں میں صرف کردینی اور دعا معتبر ہونے کی مانگنی ۔۔ ۔۔ رب اپنے حقوق معاف فرما دیتا ہے لیکن جب کوٸی بندہ اس کے معتبر بندوں کو غیر معتبر کرنے کے لیے ساری زندگی ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ذلت اور رسواٸی اس کا مقدر نہ ٹھہرے ۔۔۔
اب جب گھر کے موضوع پر جمال احسانی کا بھی اتنا بڑا شعر موجود ہو کہ جس میں زندگی بھر کی محرومیوں کا کرب سمٹ کر پڑھنے والے کا دل گرفت میں لینے کی قدرت رکھتا ہو تو بندہ اس ہوس کے مارے شاعر کے شعر کا کیا کرے جو ہر وقت مانگتا تو سب کچھ رہے لیکن کسی کے کوٸی راستہ بھی چھوڑنے کو تیار نہ ہو ۔ جمال احسانی کا شعر دیکھیے ۔
ساری بستی میں فقط میرا ہی گھر ہے بےچراغ
تیرگی سے آپ کو میرا پتہ مل جاۓ گا
۔۔۔۔۔
چلیں یہ تو بڑے شعراء کے شعروں کی مثال ہے ، میرے جیسے ماڑے شاعر کے شعر کے سامنے بھی ان کے اس شعر کی کوٸی حیثیت نہیں رہ جاتی ۔
تو ہے سورج ، تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ
تو کسی روز مرے گھر میں اتر شام کے بعد
۔۔۔۔۔
گھر کے موضوع پر ایسا ایسا اعلیٰ اور عمدہ شعر موجود ہے کہ ان اشعار کے سامنے افتخار عارف کے اس انتہاٸی چھوٹے کنویس کے شعر کی کوٸی وقعت ہی نہیں رہ جاتی ۔ البتہ یہ درست ہے کہ افتخار عارف نے اس شعر کو ڈینٹونک کے اشتہار کی طرح چلا چلا کے مشہور تو کردیا لیکن نہ شعر معتبر ہوسکا اور نہ شاعر
انسان شادی بیاہ ، یا فرنیچر وغیرہ سے معتبر نہیں ہوتا ۔ انسان ہمیشہ کردار اور اعلی ظرفی اور خیر کے عمل سے معتبر ٹھہرتا ہے ورنہ گھر تو ناجاٸز فروشوں اور لچوں لفنگوں کے بھی آباد ہوتے ہیں ۔ اتنا تو معتبر کردے یعنی خدا نے اتنا بھی معتبر کرنا گوارا نہیں کیا ۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا سے عزت اور رزق شعر کی دعا مانگنے کی بجاۓ بادشاہوں سے نوکریاں مانگنے اور معصوم انسانوں کو لتاڑنے میں زندگی گزاری ہے ۔ خدا کسی کا حق مارنے والے کو کبھی معتبر نہیں کرتا اور پھر جس شخص نے اس کے پیارے نبی کی ساری امت کو ڈرانے والی امت قرار دے دیا ہو اس کے معتبر ہانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہی حال ان کی دیگر مناجاتی شاعری کا ہے ۔ بہت سارے محبان ِ اہل بیت افتخار عارف کو اس کے سلام اور منقبت کے اشعار پر شاباش سے نوازتے ہیں ۔ ان کے لیے میرا ایک سوال ہے کہ کیا سچے دل سے مولا علی علیہ سلام اور اہل ِ بیت کو ماننے والا کرپٹ ، ظالم اور بے انصاف حکمرانوں کے قدموں میں جھکنے والا اور ان کے تلوے چاٹنا والا ہوسکتا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
