کراچی(نمائندہ خصوصی) تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ نے کہا ہے کہ ایئرمارشل اصغر خان مرحوم کہا کرتے تھے کہ یہاں ایسے شخص کو ریلوے کا وزیربنایا جاتا ہے جسے ریلوے کے متعلق کوئی علم نہیں ہوتا اسی طرح ٹرانسپورٹ کے وزیر کا ٹرانسپورٹ کے شعبے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔وفاقی وزیر مواصلات تو بہت بڑے آدمی ہیں لیکن ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ زبانی احکامات دے کر کہتے ہیں کہ ترقیاتی کام شروع ہوکر ایک ہفتے میں ختم ہوجانا چاہئے۔بھٹو صاحب نے اپنے دور میں صبح 6بجے سے رات دس بجے تک کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کیا تھا حالانکہ اس وقت اتنی ٹریفک بھی
نہیں ہوتی تھی۔پورٹ قاسم کی بنیادبھی بھٹو صاحب نے اسی لئے رکھی تھی کہ کراچی کے علاوہ اندرون ملک کا سامان پورٹ قاسم پر آناجانا چاہئے اور ہیوی گاڑیاں شہر میں نہ آئیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہیوی ٹریفک کو تو شہر میں چھوڑ ہی ہے لیکن مسافر بردار بسوں کا داخلہ بند کررکھا ہے جس سے عوام پریشانی سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے ہیوی ٹریفک کے لئے نہیں بنا لیکن وفاقی وزیر مواصلات کہتے ہیں کہ لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک چھوڑا جائے گا۔خدارا پہلے لیاری ایکسپریس وے کے پلوں کو چیک کرائیں کہ آیا یہ ہیوی ٹریفک کا وزن برداشت کرنے کے قابل ہیں؟ پہلے ہی کراچی سے کشمور اور کراچی سے اوباڑو تک ہائی ویز کھنڈربنے ہوئے ہیں اور سندھ کی شاہراہوں پر ہیوی ٹریفک 24-48گھنٹے پھنسی رہتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیاری ایکسپریس وے کو کسی صورت ہیوی ٹریفک کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ لیاری ایکسپریس وے پر روزانہ لاکھوں چھوٹی گاڑیاں سفر کرتی ہیں اور شہر کے ٹریفک کے اژدھام سے محفوظ رہتی ہیں۔ ہیوی ٹریفک کو لیاری ایکسپریس وے پر چھوڑنے سے چھوٹی گاڑیوں والے سارا سارا دن اپنی منزل پر نہیں پہنچ پائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہیوی ٹریفک کے لئے ناردرن بائی پاس کی چوڑائی دوگنی کی جائے۔ میں خودٹرانسپورٹر ہوں لیکن میں قطعی اس حق میں نہیں ہوں کہ لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک چھوڑا جائے۔ صبح 6سے رات 10بجے تک کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہونا چاہئے۔ کراچی میں ہیوی ٹریفک دن کے اوقات میں صرف جیبیں گرم کرنے کے لئے چھوڑا جاتا ہے۔ کراچی والوں کو لیاری ایکسپریس وے کی سہولت کسی سیاستدان کے دور میں نہیں ملی بلکہ جنرل پرویز مشرف نے یہ سڑک بنوائی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے کراچی کو دیا گیا تحفہ موجودہ حکومت میں ہیوی ٹریفک چھوڑ کر غیر موثر کردینے کی کوشش قابل مذمت ہے۔

