• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

عباس تابش, شعری سرقے کا تسلسل

نقد و نظر : فرحت عباس شاہ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 23, 2026
in کالمز
0
عباس تابش,  شعری سرقے کا تسلسل
0
SHARES
10
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پہلی قسط میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ عباس تابش کے شعری سفر کا بنیادی مسئلہ فنی چوکس بازی نہیں بلکہ اخلاقی انحراف ہے۔ یہ انحراف محض ایک آدھ شعر کی چوری تک محدود نہیں بلکہ ایک طے شدہ منظم رویّہ ہے جو پسے ، شراب اور دیگر "مفادات” کی تین دہائیوں پر پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری قسط میں سوال یہ نہیں کہ فلاں شعر کس سے مشابہ ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ مماثلتیں کیوں بار بار ایک ہی سمت میں جاتی ہیں؟
یہ وہ مقام ہے جہاں سرقہ ایک انفرادی لغزش نہیں رہتا بلکہ مجرمانہ واردات بن جاتا ہے۔
ادب میں سرقہ محض الفاظ کی چوری نہیں ہوتا، یہ تجربے کی چوری، احساس کی چوری اور تاریخی تسلسل کی چوری ہوتا ہے۔ ایک شاعر جب کسی دوسرے شاعر کے خیال، مضمون یا اسلوب کو معمولی الٹ پھیر کے ساتھ اپنے نام سے پیش کرتا ہے تو وہ دراصل تین سطحوں پر جرم کرتا ہے:1. اصل خالق کے ساتھ ناانصافی2. قاری اور سامع کو دھوکا3. ادبی روایت کو مسخ کرنایہی وجہ ہے کہ دنیا کی کسی بھی سنجیدہ ادبی روایت میں سرقہ کو معمولی بددیانتی نہیں بلکہ علمی خیانت سمجھا جاتا ہے۔شواہد کی روشنی میں سرقے کا طریقۂ واردات ذیل میں دی گئی مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی پیٹرن بار بار نمایاں ہوتا ہے۔اصل شعر کا مرکزی خیال محفوظ رکھا گیا ہے
لفظیات میں معمولی تبدیلی
زاویۂ بیان کو الٹا یا نرم کر کے اپنا نام ثبت
یہ طریقہ واردات اتفاق نہیں، بلکہ مشاق چور کی پہچان ہے۔
مثال 1: عشق بطور مستقل مشقت

اصل شعر (رئیس فروغ):
عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لئے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے

عباس تابش:
مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کارِ محبت
آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

یہاں عشق کو “کار” اور “مسلسل مشقت” کے استعارے میں باندھنے کا بنیادی تصور رئیس فروغ کا ہے۔ تابش نے صرف نتیجے کی صورت بدل دی، مگر خیال، مضمون اور فکری بنیاد وہی رہی۔

مثال 2: ماں کی بے خوابی — ترجمہ بطور سرقہ
اصل (شہیدی قمی):
شبی گفتم مرا از تیرگی ھا ھول می آید
از آں شب دیدۂ مادر شدہ از خواب محرومی

عباس تابش:
ایک مدت سے مِری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

یہاں خیال کی چوری سے بھی اگلی واردات ہے یعنی سیدھا سیدھا ترجمہ ہی کر ڈالا گیا ہے۔ نہ تجربہ ذاتی ہے، نہ اسلوب ۔ یہ سرقے کی وہ شکل ہے جو علمی دنیا میں سب سے سنگین سمجھی جاتی ہے۔
مثال 3: پرندوں کی حکومت — خواہش سے درخواست تک

محمد اظہار الحق:
ملے اک بار بچوں یا پرندوں کو حکومت
کوئی ایسا طریقہ، شہر ہوں خوشحال سارے

عباس تابش:
یار اک بار پرندوں کو حکومت دے دو
یہ کسی شہر کو مقتل نہیں ہونے دیں گے

خیال، استعارہ اور اخلاقی تمثیل ایک جیسی ہے۔ صرف لہجہ بدلا گیا ہے۔ یہ خیال کا سرقہ ہے، جو محض لفظی نہیں بلکہ فکری بھی چوری ہے۔
مثال 4: قرب اور درد ، فراز سے ہوتا ہوا تابش تک کیسے پہنچا۔۔۔۔

احمد فراز:
قرب اچھا ہے مگر اتنی بھی شدت سے نہ مل
یہ نہ ہو تجھ کو مرے روگ پرانے لگ جائیں

عباس تابش:
تو محبت کی غرض لمحہء موجود سے رکھ
تیرے ذمے نہ مرے درد پرانے لگ جائیں

یہاں مصرعے بدل گئے، مگر معنوی ڈھانچہ جوں کا توں ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سرقہ انتہائی عیاری مگر دیدہ دلیری سے کیا گیا ہے ۔ ظاہر ہے جو شخص فیض کا مشہور عالم کلام گیت بناکے بیچ سکتا ہے اس کے لیے شرم جیسی کسی شۓ کا نامعلوم ہونا کسی اچنبھے کی بات نہیں ۔
ذیل میں کچھ مزید وارداتیں ملاحظہ فرماٸیے۔۔۔

ہوا چلی تو پھر آنکھوں میں آ گئے سب رنگ
مگر وہ سات برس لوٹ کر نہیں آۓ
محبوب خزاں

پلٹ کے آ گیا تو بھی تری محبت بھی
مگر وہ پندرہ برس لوٹ کر نہیں آۓ
عباس تابش

محل کے سامنے اک شور ہے قیامت کا
فقیہ شہر کو اونچا سنائی دیتا ہے
مشیر کاظمی

دہائی دیتا رہے جو دہائی دیتا ہے
کہ بادشاہ کو اونچا سنائی دیتا ہے
عباس تابش

رابطہ رکھتے نہیں خاک نشینوں سے کوئی
اب پیمبر نہیں قوموں پہ خدا آتے ہیں
شہزاد احمد

دورِ آخر ہے سو تبلیغِ محبت کے لیے
اب پیمبر نہیں اہلِ قلم آتے ہیں
عباس تابش

ہوں غزل کی چنائی میں مصروف
لفظ اینٹیں ہیں اور میں مزدور
حلیم قریشی

بتا اے در بدری لفظ ہیں کہ اینٹیں ہیں
مکاں بنا لیا میں نے غزل بناتے ہوئے
عباس تابش

کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام
مجھے تو اور کوٸی کام بھی نہیں آتا
محمد قاصر

یہ لوگ نوکری پیشہ ہیں اور چاہتے ہیں
سواۓ عشق انہیں اور کوٸی کام نہ ہو
عباس تابش

رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہی
جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا
عدیم ہاشمی

میں اس کی آہٹںں چُن لوں میں اس سے بول کر دیکھوں
گلی میں کون پھرتا ہے دریچہ کھول کر دیکھوں
عباس تابش

۔۔۔۔۔۔
وقت مقتل سے مری لاش اٹھا لایا تھا
لوگو میں اپنی گواہی میں خدا لایا تھا

اب یہ موسم مری پہچان طلب کرتے ہیں
میں جب آیا تھا یہاں تازہ ہوا لایا تھا

میرےہاتھوں میں بھی زیتون کی شاخیں تھیں کبھی
میں بھی ہونٹوں پہ کبھی حرف دعا لایا تھا
سلیم کوثر

تم ہی آئے نہ صلح کی جانب
جب کہ میں بیچ میں خدا لایا

سخت ویران تھا یہ باغ سخن
میں یہاں موسم ِدعا لایا
عباس تابش
۔۔۔۔۔۔

میں یہاں تک تو چلا آیا ھوں گردش کرتا
اور کیا مجھ سے تری کوزہ گری چاہتی ھے
"رضی اختر شوق”

تجھے تو علم ہے کیوں میں نے اس طرح چاہا
جو تو نے یوں نہیں چاہا، تو کیا، جو تو چاہے

ذرا شکوہِ دو عالم کے گنبدوں میں لرز
پھر اُس کے بعد تیرا فیصلہ جو تو چاہے
مجید امجد

یہاں تلک تو میں آیا ہوں دل کے کہنے پر
اب اس سے آگے ترا فیصلہ جو تو چاہے
عباس تابش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ بات کئی بار ہوئی
آخری بار ملاقات کئی بار ہوئی
شہزاد سلیم

کھینچ لیتی ہے ہمیں تیری محبت ورنہ
آخری بار کئی بار ملے ہیں تم سے
عباس تابش

وہ میرے ضبط کا اندازہ کرنے آیا تھا
میں ہنس کے زخم نہ کھاتا تو اور کیا کرتا؟
محسن نقوی

لہو کے گھونٹ نہ پیتا تو اور کیا کرتا
وہ کہہ رہے تھے ترا انتظام کرتے ہیں
عباس تابش

ہوا اڑا کے مجھے جس طرف بھی لےجاۓ
ترے خیال میں بچھڑا ہوا پرندہ ہوں
فرحت عباس شاہ

تلاش رزق میں نکلے ہوٸے پرندوں کو
میں جیب خرچ سے دانہ کھلایا کرتا تھا
عباس تابش

مرے گھر سے ابھی تہذیب کا رشتہ نہیں ٹوٹا
مرے بچے ,بزرگوں کو ابھی آداب کہتے ہیں
شاعر نا معلوم

ابھی تو گھر میں نہ بیٹھیں کہو بزرگوں سے
ابھی تو شہر کے بچے سلام کرتے ہیں
عباس تابش

تو اسے اپنی تمماٶں کا مرکز نہ بنا
چاند ہرجاٸی ہے ہر گھر میں اتر جاتا ہے
اقبال ارشد

تیرا سورج کے قبیلے سے تعلق تو نہیں
یہ کہاں سے تجھے آیا ہے سبھی کا ہونا ؟
عباس تابش

چھوڑنے میں نہیں جاتا اسے دروازے تک
لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے
شہزاد احمد

یہ ہم جو تجھے جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں
ایسے تو چلی جاٸے گی بیناٸی ہماری
عباس تابش

چاروں طرف میں اس کے قدم ڈھونڈتی رہی
اس گھر میں کوٸی پانچواں کونہ تو ہے نہیں
شاعر نامعلوم

اے ہجر تو ہی کر لے کوئی شکل اختیار
بچھڑے ہوئوں نے لوٹ کے آنا تو ہے نہیں
(عباس تابش)

میرے جیسا کوئی بنیاد میں کام آتا ہے
گھر کی تختی پہ کسی اور کا نام آتا ہے
سید صہیب ہاشمی

مسلہ کوئی بھی ہو نام تیرا لیتا ہوں
کیا کروں میں کہ مجھے ایک ہی نام آتا ہے
عباس تابش
تابش کا جرم صرف یہی نہیں کہ اس نے چوراں کیں بلکہ اس سے بھی بڑا جرم ہے کہ اس نے جاہل۔لوگ اکٹھےکیے اور خودکو استاد شاعر بنا کر پشکرنے کے بعد چوری کو رواج دیا ۔میری نظر میں سرقہ اب کوٸی انفرادی فعل نہیں رہ گیا بلکہ اسے جس طرح شاگردوں اور گاہکوں میں تقسیم کیا گیا اسکے باعث یہ ایک خوفناک ادبی و سماجی ناسور کی شکل اختیارکر چکا ہے جس کے چند نقصانات درج ذیل ہیں ۔1. پرانےلکھنے والوں کی حق تلفی اور نوجوان شاعروں کی حوصلہ شکنی۔۔
جب اصل تخلیق کرنے والا نظر انداز ہو اور چربہ ساز مقبول ہو جائے تو تخلیق دم توڑ دیتی ہے۔2. ادبی معیار کی گراوٹ۔۔۔
سرقہ زدہ شاعری وقتی داد تو سمیٹ لیتی ہے، مگر ادب کو بانجھ بنا دیتی ہے۔3. تہذیبی حافظے کی تباہی
ادب قوموں کی یادداشت ہوتا ہے۔ جب یہ یادداشت چوری شدہ مواد سے بھر جائے تو تہذیب کھوکھلی ہو جاتی ہے۔4. اخلاقی انتشاراگر ادب میں بددیانتی قابل قبول ہو جائے تو پھر کسی بھی شعبے میں دیانت کی توقع فضول ہے۔عباس تابش کا معاملہ کسی ایک شاعر کا نہیں، یہ ادبی نظام کی ناکامی کی کیس اسٹڈی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اس نے کتنے شعر چرائے، سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے کب تک برداشت کیا۔ادب میں اصل تخلیق کی بقا اسی وقت ممکن ہے جب سرقے کو اس کے اصل نام سے پکارا جائے:
* یہ بدذوقی نہیں، جرم ہے۔
* یہ روایت نہیں، خیانت ہے۔
اور یہ میری طرف سے یہ اختلاف نہیں، احتساب ہے کیونکہ ادب میں سرقے کا سب سے خطرناک پہلو یہ نہیں کہ کوئی شاعر چوری کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ چوری کو ہنر، روایت اور قابلِ فخر چالاکی بنا دے۔ جب سرقہ ایک وقتی لغزش کے بجائے مستقل روش اختیار کر لے تو پھر اس کا تجزیہ اخلاقی خطبے سے بھی نہیں بلکہ علمی درجہ بندی سے کیا جاتا ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ معاملہ کہاں کہاں اور کس کس سطح پر بگڑا ہے۔
عباس تابش کے معاملے میں سرقہ کسی ایک شکل تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک کثیرالجہتی واردات ہے جو کم از کم چار واضح اقسام میں تقسیم کی جا سکتی ہے۔1۔ چربہ (Direct Borrowing with Minor Alteration)یہ سرقے کی سب سے عام مگر سب سے بنیادی شکل ہے۔ اس میں اصل شاعر کے خیال، مضمون اور فکری ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے صرف۔۔۔* لفظی ترتیب بدلی جاتی ہے* لہجے میں ہلکی سی نرمی یا سختی لائی جاتی ہے* مصرعوں کی سمت پلٹ دی جاتی ہےعباس تابش کی شاعری میں اس قسم کا سرقہ کثرت سےموجود ہے۔
مثال کے طور پر بھگت کبیر کا کلام دیکھیے ۔۔۔

تال سوکھ کر پتھر بھیو ہنس کہیں نہ جائے۔
پچھلی پیت کے کارنے کنکر چن چن کھائے
بھگت کبیر

ہم ہیں سوکھے ہوۓ تالاب پہ بیٹھے ہوۓ ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوۓ مر جاتے ہیں
عباس تابش

یہاں نہ خیال نیا ہے، نہ مضمون، نہ فکری زاویہ۔ صرف لفظی ہیر پھیر ہے۔
یہ چربہ اس لیے خطرناک ہے کہ زیادہ تر عام قاری بھگت کے شعر سے واقف ہی نہیں اس لی اسے پکڑ نہیں پاتے مگر باشعور اور باضمیر قاری کے لیے یہ فوراً اسے شناخت کرنا مشکل نہیں ۔

2۔ ترجمہ بطور سرقہ (Translation as Theft)

یہ سرقے کی وہ شکل ہے جسے علمی دنیا میں سب سے زیادہ قابلِ گرفت سمجھا جاتا ہے۔ اردو مدرس اور نام نہاد نقاد ناصر عباس نٸیر کے ہاں یہ بدیانتی معمول کی بات ہے ۔
اس میں کوٸی مصنف یا شاعر۔۔۔۔۔۔

* کسی غیر اردو شاعر کا شعر یا نثر پارہ لیتا ہے
* لفظ بہ لفظ یا خیال بہ خیال اردو میں منتقل کرتا ہے
* اور اسے اپنی ذاتی تخلیق کے طور پر پیش کرتا ہے

عباس تابش نے اس طریقے کو نہایت ڈھٹائی سے استعمال کیا۔
مثال کے طور پر جیسے شروع میں بھی بیان کیا گیا ہے

شہیدی قمی کا فارسی شعر:
شبی گفتم مرا از تیرگی ھا ھول می آید
از آں شب دیدۂ مادر شدہ از خواب محرومی

عباس تابش:
ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

یہ تخلیق نہیں، سیدھا ترجمہ ہے۔
نہ تجربہ ذاتی ہے، نہ تخلیقی اضافہ۔
یہ سرقہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ یہاں شاعر نے زبان بدل کر مصنف ہی بدل دیا۔

3۔ اسلوبی ڈاکہ (Stylistic Plunder)

یہ سرقے کی نسبتاً پیچیدہ مگر نہایت خطرناک قسم ہے۔
اس میں شاعر ۔۔۔۔۔۔۔

* کسی معروف شاعر کے مخصوص اسلوب
* علامتی نظام
اور
* استعاروں کے مزاج
کو مسلسل نقل کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کی اپنی آواز معدوم ہو جاتی ہے۔
عباس تابش کے ہاں یہ مسئلہ واضح ہے کہ۔۔۔

* کہیں وہ فیض کے لہجے میں بولنے کی کوشش کرتا ہے
تو کہیں فراز کے دکھ مستعار لیتا ہے
* کہیں قاصر، عدیم، یا منور رانا کی زمین میں سانس لیتا ہے تو کہیں نٸے لکھنے والے معصوم نوجوان شاعروں کے کلام پر ہاتھ صاف کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی شاعری کسی فکری ارتقاء اور اسلوبیاتی تسلسل اور موضوع کی شناخت سے عاری مجموعہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چوری شدہ ناموں پرکھی گٸیں اس کی کتابیں کسی مربوط فکر کی حامل ہونے کی بجائے شعروں کا لنڈا بازار*
محسوس ہوتی ہیں جہاں ہر ہینگر پر کسی اور کا لباس ٹنگا ہے۔
4۔ موضوعاتی سرقہ (Thematic Theft)

یہ وہ سرقہ ہے جو سب سے زیادہ تہذیبی نقصان پہنچاتا ہے۔
اس میں شاعر کسی کے خیال کو اپنا تجربہ ظاہر کرتا ہے حالانکہ اس کی ذاتی زندگی، مزاج اور کردار اس خیال کی نفی کرتے ہیں
مثلاً
* ملنگی
* درویشی
* تصوف
* قناعت
* دردمندی

جب یہ موضوعات ایسے شخص کی شاعری میں آئیں جو عملی زندگی میں ان کا الٹ ہو، تو یہ تخلیق نہیں بلکہ جذباتی جعلسازی بن جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عباس تابش کے ہاں تصوف بھی مشکوک لگتا ہے، اور محبت بھی ادھار محسوس ہوتی ہے۔
سرقے کی درجہ بندی کیوں ضروری ہے؟
اس لیے کہ جب ہم سرقے کو ایک مبہم الزام بنا دیتے ہیں تو اصل مسئلہ اوجھل ہو جاتا ہے۔
درجہ بندی یہ واضح کرتی ہے کہ:

* کہاں چربہ ہے
* کہاں ترجمہ
* کہاں اسلوبی ڈاکہ
* اور کہاں موضوعاتی جعلسازی

یہ سب مل کر ایک مربوط بددیانتیکی تصویر بناتے ہیں۔

عباس تابش کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس نے کچھ شعر چرا لیے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس نے سرقے کو اپنا شعری وطیرہ بنا کے شعر کے سامع اور قاری کو بیوقوف بنایا۔ جو سیدھا سیدھا ایسا تہذیبی دھوکہ ہےجسے علمی ، ادبی ، لسانی اور اخلاقی سطح پر ناقابل معافی جرم قرار دیا ۔ ساہ لفظوں میں عباس تابش اردو زبان و ادب کا ایسا دشمن ہے جس نے اپنے ناجاٸز فاٸدے کی خاطر دنیا بھر کی زبانوں اور ان میں تخلیق کیے گٸے ادب کےسامنے شرمسار کروا کے رکھ دیا ہے ۔ اردو کے ماتھے پر اس کا لگایا ہوا داغ صدیوں نظر آتا رہے گا کیونکہ جب سرقہ نظام بن جائے تو پھر۔۔۔۔۔۔

* شاعر ختم ہو جاتا ہے
* شاعری باقی رہتی ہے، مگر جعلی
* اور ادب ایک اخلاقی بحران میں داخل ہو جاتا ہے۔
اگر عباس تابش جیسے شاعروں کو صرف انفرادی بددیانتی کی مثال سمجھ لیا جائے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایک شخص نے چوری کیوں کی، اصل سوال یہ ہے کہ تیس برس تک یہ چوری کیسے چلتی رہی؟
اس سوال کا جواب کسی ایک شاعر کے کردار میں نہیں بلکہ مشاعراتی انتظام ، تعلیمی نظام اور ادبی اداروں کی خاموش شراکت میں پوشیدہ ہے۔ جن بیوروکرٹس اور با اثر افراد نے اس بیماری کی سہولت کاری کی ان کو تاریخ معاف نہیں کرے گی ۔
ان تمام منتظمین مشاعرہ جات سے بھی سوال ہے کہ کیا آپ اعلان کریں گے کہ اب مشاعرہ تہذیبی روایت نہیں بلکہ کمرشل انٹرٹینمینٹ اور کاروباری منڈی ہے ۔
اردو مشاعرہ اپنی اصل میں تخلیقی اظہار، فکری مکالمے اور زبان کی تہذیب کا مظہر تھا۔ مگر رفتہ رفتہ یہ ایک ایونٹ انڈسٹری** میں بدل دیا گیا، جہاں جتنا گند پھیلایا جاسکتا ہے پھیلایا جا رہا ہے ۔ بیشتر مشاعروں میں اب
شعر کی جمالیات نہیں، تالیاں معیار بن گئیں ہیں ، فکر کی گہرائی نہیں، فقرے بازی بکنے لگی
ہے اور تخلیقی دیانت نہیں، شکلیں اور نیٹ ورک اہم ہو گیا ہے۔
اس ماحول میں عباس تابش جیسے لوگ فطری طور پر کامیاب ہوئے، کیونکہ انہیں شعر کی نہیں، سامع کی نفسیاتی دھوکہ دے کر پہچان حاصل کرنا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اج زیادہ تر غیر معیاری مشاعرے میں وہی شاعر چلتا ہے جو فوری داد سمیٹ لے، چاہے وہ داد کسی اور کے کلام پر ہی کیوں نہ ہو۔ زیرناف شعراء کی ایک الگ کلاس بن چکی ہے جن کی شاعری کے مضامین مثانے سے ادھر ادھر جاتے ہی نہیں ۔
اس ضمن میں افتخار عارف جیسے لوگ سب بڑے مجرم ہیں جنہوں نے قومی اداروں پر قبضہ جما کر وہاں ادب کی بجاۓ مفادات کا بازار سرگرم کیا ہواہے ۔
اس ضمن میں یہ بھی یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ ادب میں سب سے خطرناک کردار خاموش تماشائی کا ہوتا ہے۔
جامعات، اکیڈمیاں، ادبی بورڈز اور ایوارڈ کمیٹیاں اگر چاہتیں تو یہ وبا ابتدائی مرحلے میں رک سکتی تھی۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔

* سرقہ سب کو دکھائی دیتا رہا
* مگر کسی نے باضابطہ سوال نہ اٹھایا
* کسی مقالے، نصاب یا فورم پر احتساب نہ ہوا

یہ خاموشی معصوم نہیں تھی، یہ مفاداتی خاموشی تھی۔ کیونکہ بہت سے اداروں کے لیے سچ بولنے سے زیادہ آسان یہ تھا کہ فوری مفاد کے ساتھ کھڑا رہا جائے۔
* بددیانت مدرسین اور جعلی مزاحمت
سب سے افسوسناک کردار ناصر عباس نٸیر جیسے ان مدرسین اور نقادوں کا ہے جنہوں نے
سرقہ کرنے والوں کو مزاحمتی شاعر بنا کر پیش کیا اور ان پر ےتھیسز کرواۓ اور افتخار عارف اور تابش جیسے جعلی مفاد پرست اور چور شاعروں کے مصنوعی سطحی جذباتی نعروں کو فکری مزاحمت کا نام دیا
اور طلبہ کو یہ سکھایا کہ یہ بھدی آوازیں ہی شعور ہیں دراصل یہ مدرسین وہی لوگ ہیں جنہوں نے اصل تخلیقی مزاحمت کو دفن کر دیا۔ کیونکہ حقیقی مزاحمت اخلاص مانگتی ہے، قربانی چاہتی ہے اور سچ بولنے کی قیمت لیتی ہے جبکہ جعلی مزاحمت صرف اسٹیج، نعرہ اور داد چاہتی ہے۔
یہ المیہ ہے کہ آج اردو کی ترقی اور اردو سے محبت کے نام پر جعلی شاعروں کی اکثریت اور تخلیقی شاعروں کا مصنوعی قحط پیدا کیا جا رہا ہے ۔
آج کا سب سے تلخ سچ یہ ہے کہ اردو شاعری کے نام پر ہونے والی کانفرنسوں اور فیسٹیولز میں ایسے لوگوں کو بطور خاص مدعو کیا جاتا ہے جن کے پاس اپنا شعر موجود ہی نہیں۔
یہ لوگ کہیں سے مصرع اٹھاتے ہیں ، کہیں سے خیال ، کہیں سے استعارہ اور پھر انہیں جوڑ کر معززین ادب کہلاتے ہیں۔
میں دیکھتا ہوں کہ آج کل سرقہ ایک وبا کی طرح تیزی سےپھیل رہا ہے ۔ جسکہ وجہ یہ ہے کہ جب سرقہ کرنے والے شاعروں کو مسلسل
مشاعروں میں نمایاں کیا جاۓ ، سرقہ نصاب میں جگہ بنائے اور اداروں سے سندِ قبولیت حاصل کرے تو پھر یہ جرم خالی جرم نہیں رہتا بلکہ وبابن جاتا ہے اور ی تو سب جانتے ہیں کہ وبا میں قصور صرف مریض کا نہیں ہوتا، پورا ماحول بیمار ہوتا ہے۔
عباس تابش جیسے شاعر کسی خلا میں پیدا نہیں ہوئے۔انہیں پیدا کیا گیا ہے ۔ پہلے پہل عام معصوم لوگ اس کےہتھے چڑھے ،پھر بیوروکریٹس کو شاعر بن کر الو بنایا گیا حتیٰ کہ الحمد پبلشرز جیسے مستند چور پبلشرز کے ساتھ مل کر مالدار شوقینوں کو پہلے اصلاح کے نام پر چوری کے شعر لکھ کردیے گٸے پھر مہنگے داموں کتابوں کے ٹھکیداری بھی کی گٸی جو اج تک جاری ہے ۔ اسکے بعد افتخار عارف جیسے درباری اور چور شاعر اور سفاک ادبی مافیاٸی ماٸینڈ سیٹ سے مفاداتی گٹھ جوڑ کی داستانیں بھی زبان زد عام ہیں ۔
علاوہ ازیں مشاعراتی کاروبار ، ادارہ جاتی خاموشی اور بددیانت فکری سرپرستی نے اردو زان و ادب اور معاشرے کو وہ نقصان پہنچایا ہے جسکا ازالہ ممکن ہی نظر نہیں ۔
اب بھی وقت ہے کہ اس تہذیبی ہولناکی کا راستہ روکا جاۓ ۔ لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک سرقے کو سرقہ نہیں کہا جائے گا ، جعلی مزاحمت کو بے نقاب نہیں کیا جائے گا
اور اداروں کو جواب دہ نہیں بنایا جائے گا،
تب تک اردو شاعری میں اصل تخلیق اقلیت اور چربہ اکثریت بنتی جاۓ گی۔ یہاں پہ یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری ادراکی تنقیدی تھیوری (Perceptionism) کے مطابق تخلیق محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ شاعر کے ادراک، تجربے اور شعوری زاویۂ نظر جمالیاتی توسیع ہوتی ہے۔
اصل شعر وہاں جنم لیتا ہے جہاں شاعر کا داخلی ادراک، خارجی حقیقت سے ہم آمیز ہو کر ایک نیا معنی پیدا کرے۔
جب کوئی شخص دوسروں کے اشعار چرا کر پڑھتا ہے تو وہ دراصل ادراک کے عمل کو شارٹ سرکٹ کر دیتا ہے۔
وہ تخلیق نہیں کرتا، وہ صرف کسی دوسرے کے ادراک کی نقل کرتا ہے میری نظر میں سرقہ دراصل ادراکی بانجھ پن کی علامت

ادرکی تیوری کے تناظر میں سرقہ ایک اخلاقی مسئلہ ہونے سے پہلے ادراکی بانجھ پن ہے کیونکہ سرقہ کرنے والا شاعر کسی نئے تجربے سے نہیں گزرا، کسی فکری تصادم سے نہیں ٹوٹا
اور کسی داخلی سوال سے نہیں جلا۔ اسی لیے وہ دوسروں کے تجربات مستعار لیتا ہے۔
یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ اس کے پاس الفاظ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس اپنا ادراک نہیں۔
ناصر عباس نٸیر جیسے نالاٸق اور چور نقادوں پر واضح کرتا چلوں کہ ادراکی تنقید ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر چیخ مزاحمت نہیں ہوتی۔ حقیقی مزاحمت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں
شاعر جبر اور طاقت کے بیانیے کو اپنے ادراک سے توڑتا ہے اور قاری کے شعور میں نیا زاویہ پیدا کرتا ہے۔
عباس تابش جیسے ناموں کو مزاحمتی شاعر کہنا دراصل مزاحمت کے تصور کی توہین ہے۔
یہ وہ شاعری ہے جو غریب الفکر سامع سے وقتی اور سطحی واہ واہ تو کراتی ہے مگر اس کے شعور میں کوئی نئی کھڑکی نہیں کھولتی۔ اسی طرح مشاعراتی زبوں حالی اور ادراک کی مسخ شدگی کا معاملہ بھی تکلیف دہ ہے ۔ موجودہ مشاعراتی نظام نے ادراک کو فکر کے بجائے فوری اورسطحی ردعمل تک محدود کر دیا ہے۔
اب شعر اس لیے نہیں کہا جاتا کہ کچھ دریافت کیا جائے، بلکہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ سامعین سیٹیاں بجاٸیں ، ہنسیں نعرہ بازی ہو اور اسے داد کہا جائے۔
یہ نظام شاعر کو سوچنے والا ذہن بنانے کے بجائے پرفارمنس دکھانے والا فنکاربنا رہا ہے۔
اور جب ادراک کی جگہ اداکاری آ جائے تو سرقہ فطری نتیجہ بن جاتا ہے۔ اس حوالے سے
جامعات کی چشم پوشی اور ادبی اداروں کی خاموشی Perceptionism کے مطابق ایک ادراکی جرم ہے کیونکہ اداروں کا کام صرف اسناد دینا نہیں، بلکہ شعور کی تشکیل ، ادراک کی درستی اور تخلیقی اخلاقیات کی حفاظت
ہے۔
جب ادارے جعلی شعروں پر مشتمل کتابوں اور متشاعروں کو وقعت دیتے ہیں تو وہ آنے والی نسلوں کے ادراک کو مسخ کرتے ہیں۔

میری اس تحریر کو کسی ایک یا چند مخصوص افراد یا ادبی جتھے کے خلاف نہ سمجھا جاۓ ، یہ اردو ادب کے ضمیر کا مقدمہ ہے۔ بلکہ یہ اس تمام آلودگی کےپیچھے چھپے بیٹھے غلیظ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ادب کا مقدمہ ہے ۔
دراصل عباس تابش یا افتخار عارف یا ناصر عباس نٸیر جیسے دو نمبر لوگ مسئلہ نہیں،
یہ محض علامتیں ہیں
ایک ایسے نظام کی جو سرقے کو کامیابی ، سطحیت کو مزاحمت اور شور کو شعور سمجھنے لگا ہے۔
ادراکی تھیوری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب تک شاعر کا ادراک آزاد، دیانت دار اور ذاتی نہ ہو،
اس وقت تک کوئی شعر تخلیق نہیں کہلا سکتا۔
آج اردو شاعری کو کسی نئے رجحان کی نہیں،
ادبی دیانت کی بازیافت کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ سرقہ کو کھل کر سرقہ کہا جائے، جعلی مزاحمت کو مسترد کیا جائے اور مشاعرے کو دوبارہ تہذیبی فورم بنایا جائے۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو اردو شاعری باقی تو رہے گی،
مگر اس کی جمالیاتی ، فکری اور نظریاتی حیثیت مر جائے گی اور یہی غلیظ سرمایہ دارانہ نظام کی منصوبہ بندی ہے کیونکہ ادراک کے بغیر ادب صرف شور رہ جاتا ہے تخلیق نہیں۔
میں سمجھتا ہوںً کہ اس مضمون کاتقاضا ہے کہ میں آخر میں اپنی سفارشات ریاست کے ان مخلص عمال تک پہنچاوں جن کوپہلے ہی ہماری ثقافت اور تہذیب کے خلاف بھارتی اور اسراٸیلی گگٹھ جوڑ کا اچھی طرح پتہ ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ افتخار عارف اور عباس تابش جسے ادیبوں کی بھارت سے غیر اعلانیہ مگر گہری وابستگی کا بھی پورا پورا علم ہے ۔
ادبی دیانت، ادراک اور تخلیق کی بازیافت کے ضمن میں

ہم ایسے تمام ہم فکر و ہم نظریہ شعراء و ادباء یہ اعلان کرتے ہیں کہ اردو ادب کی بقا کسی نئے فیشن، نئے نام یا نئے اسٹیج میں نہیں،
بلکہ ادبی دیانت، آزاد ادراک اور خالص تخلیق میں ہے۔
ہم اس تصور کو مسترد کرتے ہیں کہ ، بےہنگم داد ہی معیار ہو ،شور ہی مزاحمت ہو اور نقل کو مہارت کہا جائے۔
ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شاعر کی پہچان اس کے اپنے کلام سے ہو نہ کہ اس کی آواز، اس کے حلقے، یا اس کے مشاعراتی روابط سے۔
ہم مانتے ہیں کہ ادب صرف تفریح نہیں،
یہ شعور کی تشکیل، ادراک کی توسیع اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سرقہ کو جرم سمجھا جائے اور اکیڈمیآف لیٹرز و مجلس ترقی ادب جیسے اداروں میں تعیناتی ادبی جراٸم کا حصہ یا نیکسس کے ممبرز کی نہ کی جاۓ اور جو پہلے سے موجود ہیں ان کی خاموشی کو شراکتِ جرم مانا جائے اور جعلی مزاحمت کو علمی سطح پر رد کیا جائے۔
یاد رہے کہ یہ منشور کسی فرد کے خلاف نہیں،
یہ نظام کی اصلاح کے لیے اجتماعی عہد ہے۔
ادبی احتساب کے لیے دس نکاتی فریم ورک
1۔ ادراکی معیار

ہر شاعر کے کلام کا تجزیہ اس کے ادراکی زاویے** سے ہو اور تجزیہ کرنے والے مدرسین یا جعلی ناقدین کی بجاۓ حقیقی ناقدین ہوں جو خود اعلیٰ تخلیقی تجربے کے حامل ہوں ۔ ادب اور سماج کےساتھ انکا اخلاص ثابت ہو ۔
کسی کے بھی تخلیق کیے گٸے ادب کی تاٸید سےپہلےیہ دیکھا جائے کہ وہ نیا معنی پیدا کر رہا ہے یا پرانا دہرا رہا ہے۔
2۔ سرقہ کی واضح تعریف
سرقہ کو مبہم اصطلاح کے بجائے
ادبی، اخلاقی اور ادراکی سطح پر واضح کیا جائے۔
3۔ مشاعراتی اسکریننگ

مشاعروں میں شرکت سے قبل شاعر کے کلام کی تحقیقی اور تنقیدی جانچ لازم ہو۔

4۔ جامعات کی ذمہ داری

ادبی ادارے اور جامعات صرف ڈگری دینے والے مراکز نہ ہوں،
بلکہ ادبی دیانت کے نگہبان بنیں اور سطحی و سستی جذباتیت سے آلودہ شاعری کرنے والوں کو بطور شاعر ہرگز مدعو نہ کیا جاۓ تاکہ طالب علموں کیاخلاقیات تباہ نہ ہو

5۔ نقاد کی جواب دہی

ہر نقاد پر لازم ہو کہ وہ اپنی تنقید میں
ذاتی تعلق، گروہ بندی اور مفاد سے بالاتر رہے۔

6. ان بیوروکریٹس اور با اثر افراد ، منتضمین اور سپانسرز پر نظر رکھی جاۓ اور انہیں سماجی اقدارپر حملہ آور ہونے کے جرم میں قانون اور انصاف کےکٹہرے میں لایا جاۓ جو ادب کے نام پر بےادبیپھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
7۔ دستاویزی ثبوت

ہر بڑے شاعر کے کلام کی اشاعت، تاریخ اور ماخذ
دستاویزی صورت میں محفوظ کی جائے۔

8۔ عوامی آگاہی

قاری اور سامع کو یہ سکھایا جائے کہ
ہر مقبول شعر عظیم تخلیق نہیں ہوتا۔

9۔ ادبی اخلاقیات کا نصاب

تعلیمی سطح پر ادبی اخلاقیات کو
باقاعدہ مضمون کی حیثیت دی جائے۔

10۔ آزاد ادبی فورم

ایسے غیر جانبدار فورمز قائم کیے جاٸیں اور ان کی حوصلہ افزاٸی کی جاۓ جہاں سرقہ، بددیانتی اور ادارہ جاتی خاموشی پر
بلا خوف بحث ممکن ہو۔
آخری اعلان
یہ دستاویز کسی ادبی گروہ کے لیے نہیں،
یہ اردو ادب کے مستقبل کے لیے ہے۔
یاد رکھیں اگر آج ہم نےادراک، دیانت اور تخلیق کا ساتھ نہ دیا تو کل ہمارے پاس شاعری تو ہوگی مگر شعور نہیں ہوگا اور جہاں شعور نہ رہےوہاں ادب صرف آواز بن جاتا ہے جو معاشرے کو ایسی تہذیبی اور فکر خلا کا شکار بنا دیتا ہے جہاں ہر وقت ہر طرف افراتفری ، اضطراب ، ڈپریشن اور جہالت پنپنا شروع ہوجاتی ہے ۔
ہمارے پاس تہذیبی تباہی سے پہلے یہ آخری موقع ہے کہ ادب کو ادب کی طرح برتا جائے۔

پچھلی پوسٹ

مزاحمت کا فریب: افتخار عارف کے شعر کا نظریاتی محاکمہ

اگلی پوسٹ

سیاح مری کا سفر کرنے سے گریز کریں ۔ عظمی بخاری

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
سیاح مری کا سفر کرنے سے گریز کریں ۔ عظمی بخاری

سیاح مری کا سفر کرنے سے گریز کریں ۔ عظمی بخاری

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper