کراچی ( نیٹ نیوز: کرائم رپورٹر)کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک انتہائی اہم کارروائی کرتے ہوئے کالعدم زینبیون بریگیڈ کے چار دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں اینکر امتیاز میر کی ٹارگٹ کلنگ کا مرکزی سہولت کار رعایت
حسین عرف مولوی بھی شامل ہے۔ تحقیقات کے مطابق رعایت حسین، جسے تنظیم میں ‘حمزہ’ کا کوڈ نیم دیا گیا تھا، ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہے اور ایک مدرسے میں پڑھانے کی آڑ میں دہشت گردوں کو اسلحہ، رہائش اور مالی معاونت فراہم کرتا تھا۔ اس خطرناک نیٹ ورک کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے ارکان کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں تھا اور تمام ٹیمیں صرف رعایت حسین
کے ذریعے ہی آپریٹ ہوتی تھیں تاکہ راز فاش نہ ہو سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ہائی پروفائل گرفتاری سے شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے کئی منظم نیٹ ورکس ٹوٹنے کی امید ہے، جبکہ ملزم سے مزید تفتیش کے دوران دیگر اہم انکشافات اور بڑے دہشت گردوں کی گرفتاریوں کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔کراچی سے کرائم رپورٹر کےمطابق کراچی میں سی ٹی ڈی نے ٹیکنیکل
بنیادوں پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث 4 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔گرفتار دہشتگردوں میں رعایت حسین عرف حمزہ عرف مولوی شامل ہے جو کالعدم زینبیون بریگیڈ کا سرغنہ بتایا جا رہا ہے، جبکہ دیگر گرفتار ملزمان میں حسین املاق، ساجد علی اور محمد عسکری شامل ہیں۔سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ گرفتار دہشت گرد ٹارگٹ
ملنے پر مطلوبہ افراد کو قتل کرتے تھے تاہم ملزمان کے قبضے سے چار پستول اور گولیاں برآمد کرلی گئی ہیں۔زرائع کے مطابق دورانِ تفتیش دہشتگردوں سے ان افراد کی لسٹ بھی برآمد ہوئی ہے جنہیں مذہبی بنیادوں پر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بلدیہ نمبر 7 کے علاقے میں ایک نمازی کو فائرنگ کرکے قتل کیا، جبکہ سال 2024 میں جوبلی کے علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک موذن کو زخمی کیا گیا تھا۔گرفتار دہشتگرد شہر میں ہونے والی متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں بھی ملوث رہے ہیں تاہم گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا
