تحرير رفعت سعيد
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی سندھ کے دورے پر آمد، پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے خوش آمدید کہنا پھر سينئر وزير سعيد غنی کا وزير اعلی کے پی کا استقبال اور جلسے کی زبانی اجازت نے ايک نئے سیاسی کلچر کو متعرف کرواياہےکيا يہ سب اتنی آسانی سے ممکن ہوسکا يا اسکے پس منظر ميں پی ٹی آئی کو مزاکرات کی ميز پر لانے کی کوشش کی گئی ہے ،زرائع بتاتے ہيں پنجاب کے دورے کو مدنظر رکھ کر يہ حکمت عملی بنائی گئی کہ ، اس مرتبہ سندھ کے وزير اعلی مراد علی شاہ کو بغير اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے کے پی کے سے ڈيل کرنے ديا جائے ،ہمارے ايک ديرينہ دوست مظہر عباس کی صاحبزادی کی شادی
کی تقريب ميں پی ٹی آئی سے بات چيت کا آغاز ہوگيا تھا، وزير اعلی سندھ مراد علی شاہ نے اس تقريب ميں شريک پی ٹی آئی کے سيکريٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سے ، سينيٹر پرويز رشيد موجودگی ميں کہا تھا کہ ،کے پی کے وزير اعلی سہيل آفريدی جب سندھ آئيں گے تو انہیں مکمل پروٹوکول اور احترام ديا جائے گا ، چيف منسٹر سندھ نے سلمان اکرم راجہ سے يہ بھی کہا کہ ميں وزير اعلی کے پی سہيل آفريدی کو فون بھی کرو نگا، ميری خواہش ہے وہ ميرے ساتھ ، لنچ يا ڈنر کريں ،جس پر سلمان اکرم راجہ نے وزير اعلی سندھ کا شکريہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ مثبت رويہ اپنانے پر سندھ حکومت کے شکر گزار ہيں ،
زرائع کے مطابق وزير اعلی سندھ نے اپنی قيادت اور اسٹبلشمنٹ کو اعتماد ميں ليکر ، پی ٹی آئی کے سلمان اکرم راجہ کو ہی سامنے رکھا ، حليم عادل شيخ کو اس سارے معاملہ ميں پيچھے رکھا،بس سلمان اکرم راجہ کو يہ بتا ديا گيا تھا کہ وزیر اعلی
سہيل آفريدی فوج اور اداروں کو حدف بنانے سے گريز کريں ، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اشتعال انگيز گفتگو سے بھی اجتناب کريں تو آنے والے دنوں ميں انکی عمران خان سے ملاقات بھی کروائی جاسکتی ہے ، يہ دورہ ٹيسٹ کيس ہوگا،کراچی پريس کلب کے ميٹ دی پريس پروگرام ميں شرکت کے موقع پر ايک بدلی ہوئی پی ٹی آئی محسوس ہوئی ،وزير اعلی کے پی سہيل آفريدی جو اپنی جاہارنہ رويہ اختيار کرنے والے رہنما کہلاتے تھے ، انہوں نہايت تحمل سے سلجھے ہوئے انداز ميں سخت سوالات کے جوابات انتہائی بالغ نظری سے ديئے ، جس ميں عشق عمران خان کی جھلک تو اس جملے سے واضح ہو گئی جب ميں نے ان سے پوچھا کہ ، کراچی ميں آپ کا استقبال ديکھ کر لگ رہا ہے کہ عمران خان آگئے ، آپ تو بہت مقبول ہيں ،جس پر سہيل آفريدی نے کہا ، ميری کوئی حيثيت نہيں ، ليڈر صرف عمران ہے ،انہوں نے ، ذولفقار علی بھٹو ،محترمہ بے نظير بھٹو ، کو خراج
عقيدت پيش کيا ، مگر صدر زرداری کو حدف بنانے سے نہيں چوکے،وہ شائيد بھول گئے صدر زردای اور اسٹبلشمنٹ کی اجازت کے بغير پی ٹی آئی کے لئے يہ سب رعايتيں ممکن نہ ہوتيں ،اسکے بر عکس پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں قدم قدم پر رکاوٹوں، پابندیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرتی رہی ہے۔دو صوبوں کے رويہ ميں تضاد محض انتظامی فیصلہ نہیں ہوسکتا بلکہ ایک پوشيدہ سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہو تی ہے ۔سندھ حکومت کا دوستانہ رویہ بظاہر جمہوری برداشت کی عکاسی کرتا ہے ، مگر سیاست میں بعض اوقات نرمی ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہوتی ہے۔پیپلزپارٹی اس بات کو اچھی طرح جانتی ہے کہ طاقت کے ذریعے سیاست کو نہ دبایا جا سکتا ہے، اورنہ ختم کیا جا سکتاہے2022 کے بعد جلسوں پر پابندیاں، قیادت کی گرفتاریاں اور سیاسی دباؤ—ان تمام اقدامات نے تحریک انصاف کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مقبول کیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسٹبلشمنٹ نے شاید مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔کراچی میں پی ٹی آئی کو فری ہینڈ دینا دراصل اسی مظلومیت کے بیانیے کو غیر مؤثر بنانے کی ایک خاموش کوشش محسوس ہوتی ہے۔ جب جلسے کی اجازت ہو، انتظامی رکاوٹیں نہ ہوں اور ریاستی
سختی نظر نہ آئے تو احتجاجی سیاست کی اصل طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یوں بظاہر یہ رویہ تحریک انصاف کے حق میں دکھائی دیتا ہے، مگر طویل المدت سیاست میں یہ فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔یہ معاملہ صرف سندھ یا پی ٹی آئی تک محدود نہیں۔ اس کا ایک رخ پنجاب کی سیاست کی طرف بھی جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی بخوبی جانتی ہے کہ پنجاب میں اس کا سب سے بڑا چیلنج مسلم لیگ (ن) سے کم اور پی ٹی آئی کے مضبوط ووٹ بینک سے زیادہ ہے۔ سندھ میں پی ٹی آئی کے ساتھ نرم رویہ اپنا کر پیپلزپارٹی پنجاب کے عوام، خصوصاً پی ٹی آئی کے ہمدردوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ سیاسی جبر کا حصہ نہیں بلکہ جمہوری حق کی حامی جماعت ہے،سندھ حکومت کی حاليہ مشبت حکمتِ عملی مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی ایک دباؤ بن سکتی ہے۔ اگر پیپلزپارٹی خود کو ایک ،جمہوری اور سیاسی طور پر بالغ جماعت کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا فائدہ آئندہ انتخابی معرکوں میں اسے ضرور مل سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سیاست کا مرکز دوبارہ پنجاب بنتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔سندھ حکومت کا یہ رویہ شاید اسٹبلشمنٹ کے لئے بھی ایک خاموش پیغام ہو سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی صوبے میں اپنی سیاسی حکمتِ عملی خود ترتیب دینا چاہتی ہےاور وہ سیاسی انجینئرنگ یا کسی سخت
پالیسیوں کا حصہ بننے کے موڈ میں نہیں۔نتیجتاً کہا جا سکتا ہے کہ کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے لیے سندھ حکومت کا نرم رویہ کوئی وقتی یا اتفاقی فیصلہ نہیں، بلکہ بلاول بھٹو کو مستقبل کا وزير اعظم بنوانے کے لئے شطرنج کی بساط پر سوچ سمجھ کر رکھا گیا ایک مہرہ ہے،بظاہر یہ مہرہ تحریک انصاف کے حق میں نظر آتا ہے، مگر سیاست میں اصل کامیابی کا فیصلہ فوری طور پر نظر نہيں آتا بلکہ وقت اورحالات کرتے ہيں بعض اوقات سب سے کاری وار وہی ہوتا ہے جو حکمت عملی کے ساتھ وقت پر کیا جائے۔

