اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آج قوم دہشت گردی کا جو خمیازہ بھگت رہی ہے اس کے پیچھے تحریک انتشار کا سیاسی ونگ ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی والوں کی زبانیں لڑکھڑا جاتی ہیں، ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے، آخری دم تک اس کا تعاقب کر کے اس کا خاتمہ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما زاہد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سال 2025ء ہر لحاظ سے کامیابیوں کا سال ثابت ہوا، اسی برس پاکستان نے معرکہ حق میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے فتح کے جھنڈے گاڑے۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء جہاں عسکری کامیابیوں کا سال رہا وہیں معاشی محاذ پر بھی ملک کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، معیشت کو سمجھنے والے میڈیا کے افراد کی جانب سے جب معاشی امور پر تنقید کی جاتی ہے تو اسے مثبت پیش
رفت سمجھتا ہوں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، فارن ایکسچینج ریزروز میں کمی، ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھائو، روپے کی قدر میں کمی، کاروباری سرگرمیوں کا جمود، برآمدات کی بندش، ایل سیز کا نہ کھلنا اور مجموعی طور پر غیر یقینی اور ہیجانی کیفیت موجود تھی، یہاں تک کہ یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ ملک آج ڈیفالٹ کرے گا یا کل۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ وہی ہوتا جس کی خواہش کا اظہار سیاسی حریف کرتے رہے اور ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو بینکوں کے باہر طویل قطاریں لگ جاتیں، عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل جاتا، رقوم نکلوانے کی بھگدڑ، لوٹ مار، بین الاقوامی ایئرلائنز کی پاکستان آمد کی بندش اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط معطل ہو جاتے، جس سے ملک میں مکمل افراتفری کی صورتحال پیدا ہو جاتی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ الحمدللہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے نکل کر ایک ابھرتی ہوئی معیشت کی جانب گامزن ہو چکا ہے، ملکی سٹاک مارکیٹ روزانہ کی بنیاد پر نئی بلندیاں چھو رہی ہے جس کی بنیادی وجہ حکومتی پالیسیوں پر بزنس کمیونٹی، صنعتکاروں اور تاجروں کا بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ بخوبی جانتا ہے کہ ملک میں سٹرکچرل ریفارمز کا عمل جاری ہے اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے قومی مفاد میں معیشت کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، اس پورے عمل میں ریاستی اداروں کا بھی بھرپور کردار ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی قیادت میں اکنامک ریوائیول کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں، صرف دسمبر کے مہینے میں ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو سال بہ سال بنیاد پر 17 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ایک سیاسی جماعت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر پاکستان نہ بھیجنے اور بائیکاٹ کی کال دی تاہم وزیراعظم اور حکومت کی طرف سے اوورسیز پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ترسیلات زر بھیجنے کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملکی معیشت میں گروتھ کا مومنٹم برقرار ہے، فارن ایکسچینج ریزروز میں اضافہ ہو رہا ہے، سٹاک ایکسچینج شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، اوورسیز پاکستانی بھرپور اعتماد کے ساتھ سرمایہ اور ترسیلات وطن بھیج رہے ہیں جبکہ پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم بیرونِ ملک دوروں کے دوران ہر فورم پر پاکستانی مصنوعات کے فروغ کی بات کرتے ہیں، ملائیشیا نے پاکستان سے حلال گوشت اور چاول درآمد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان آنے والے اعلیٰ سطحی وفود اور سربراہان مملکت سے بھی دوطرفہ تجارت بڑھانے پر بات چیت کی جاتی ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعاون میں اضافہ کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم کے بیرونِ ملک دوروں پر تنقید کی جاتی ہے لیکن یہ دیکھنا چاہئے کہ ان دوروں کے ملکی معیشت پر کیا مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم جس بھی ملک کا دورہ کرتے ہیں وہاں تجارتی محاذ پر نئی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اتنے زیادہ دوروں کی کیا ضرورت ہے وہ درحقیقت نادان ہیں، وزیراعظم بیرون ملک دورے دعوت پر کرتے ہیں، دعا کرنی چاہیے کہ ہر وزیراعظم کو دنیا بھر سے دعوتیں ملیں اور پاکستان کے اعزاز میں غیر ملکی سربراہان مملکت کا دورہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ایک شخص تکبر کے انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر کہا کرتا تھا کہ تمہاری ثقافت اور تاریخ تمہارے سے زیادہ بہتر مجھے پتہ ہے، اس طرز عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرق بھی ناراض ہوا اور مغرب بھی، ایک فرد کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے ممالک پاکستان کے لئے ریڈ کارپٹ بچھا رہے ہیں جو وزیراعظم پاکستان اور پوری قوم کے وقار اور عزت کی عکاسی کرتا ہے، بین الاقوامی پروازوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے اور عالمی برادری پاکستان کے ساتھ تجارت اور دفاعی شعبے میں تعاون کی خواہاں ہیں۔
