کراچی جیسے وسیع و عریض شہر کی گلی، محلوں اور بازاروں میں سرعام اسلحہ لیکر چلنے کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف سماجی بلکہ انتظامی مسئلہ بھی بن سکتا ہےمعاشی، تجارتی اور تہذیبی رنگ میں رنگا شہر کراچی آج خوف، عدم تحفظ اور قانون شکنی کی علامتوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے، کبھی نئے سال کی خوشی میں بے درریغ فائرنگ، کہیں شادی ہالوں کے سامنے کھڑے نوجوانوں کی خوشی میں کی گئی ہوائی فائرنگ، راہگیروں کی جان لے لیتی ہے،گزشتہ دنوں کراچی میں ہر سال کی طرح اس سال نو پر بھی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں بچیوں اور خواتین سمیت 28 افراد زخمی ہوئےانہی خطرناک رجحانات میں ایک تشویشناک اضافہ شہریوں کا گاڑیوں میں اسلحہ لے کر چلنا بھی ہے، جو اب محض چند افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک
عمومی رویے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔یہ رجحان کسی ایک طبقے، علاقے یا پیشے تک محدود نہیں، دفاتر جانے والے، کاروباری افراد، نوجوان، حتیٰ کہ بعض اوقات عام شہری بھی یہ کہہ کر اسلحہ رکھنے کو “مجبوری” قرار دیتے ہیں کہ شہر میں جان و مال محفوظ نہیں۔کراچی شہر میں لوٹ مار اور ڈکیتیوں کی بڑھتی ہوئی وارداتیں اس سنگین مسئلے کی ایک بڑی وجہ قرار دی جاتی مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام نوجوانوں کو اسلحہ رکھنا چاہیے؟اس سوال کا جواب اگر “ہاں” میں ہے تو پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی رٹ کہاں ہے۔؟چلئیے میں آپ سے سوال پوچھتی ہوں کیا واقعی اسلحہ کی سرعام نمائش نوجوانوں کی مجبوری ہے یا ریاستی رٹ پر عدم اعتماد کا کھلا اظہار ؟کراچی میں اسلحہ کلچر کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کی کمی ہے، اسٹریٹ کرائم، لوٹ مار، موبائل چھیننے اور مزاحمت پر قتل جیسے واقعات نے شہریوں کو ذہنی طور پر عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے، نتیجتاً لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اپنی حفاظت خود کرنا ہی واحد
راستہ ہے، لیکن یہ سوچ بذاتِ خود ایک بڑے خطرے کو جنم دیتی ہے، جب ہر شخص جج، جیوری اور جلاد بننے لگے تو معاشرہ جنگل کے قانون کی طرف بڑھتا ہے، جہاں طاقتور ہی محفوظ اور کمزور مزید غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔کراچی میں گزشتہ سال کئی واقعات رپورٹ ہوئے جہاں عام لوگوں نے ڈاکوؤں کو گولی مار کر یا انہیں ذندہ جلا کر ہلاک کر دیا، یہ معاشرتی ناہمواری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت و لاپرواہی کی کھلی مثال ہے۔پاکستانی قانون کے مطابق اسلحہ کی نمائش اور گاڑی میں کھلے عام رکھنا غیر قانونی ہے، شہری علاقوں میں اسلحہ لے کر گھومنا امنِ عامہ کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے، اس کے باوجود، چیکنگ کے فقدان، سیاسی دباؤ اور کمزور نفاذِ قانون نے اس جرم کو “معمول” بنا دیا ہے۔جب ریاست کمزور دکھائی دے تو شہری خود کو طاقتور بنانے کی کوشش کرتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔کراچی
کو مزید اسلحہ نہیں، امن، انصاف اور مضبوط قانون کی ضرورت ہے، گاڑیوں میں اسلحہ لے کر چلنا نہ بہادری ہے، نہ حفاظت کی ضمانت یہ صرف ایک اور خطرہ ہے جو کسی بھی لمحے کسی معصوم جان کو نگل سکتا ہے۔اگر ریاست نے بروقت اپنی رٹ بحال نہ کی، تو یہ رجحان نہ صرف شہری امن بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کے لیے ایک مستقل خطرہ بن جائے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو اس ضمن میں سخت قانون سازی کرنی چاہیے اور ہر خاص و عام کو قانون کے کٹہرے میں لاکر انصاف قائم کرنا چاہئیے

