کراچی جیسے حساس اور مسلسل دباؤ میں رہنے والے شہر میں انسدادِ دہشت گردی محض ایک ادارہ جاتی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک خاموش، طویل اور خطرناک جنگ ہے، یہ جنگ کبھی ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں سامنے آئی، کبھی دھماکوں کی شکل میں، اور کبھی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ جیسے پیچیدہ جرائم کی صورت میں۔ ایسے حالات میں CTD ہمیشہ ریاست کی پہلی دفاعی لائن رہی،ماضی میں سابق آئی جی غلام نبی میمن کے دور میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ جیسے کیسز سامنے آنے کے بعد سی ٹی ڈی کی متعدد سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ یہ اقدام وقتی طور پر احتیاط کے تحت کیا گیا، تاہم اس کے نتیجے میں فیلڈ ایکشن، انٹیلیجنس اور آپریشنل تسلسل متاثر ہوا اور انسدادِ دہشت گردی کے مجموعی نظام میں ایک واضح خلا پیدا ہوا۔
اسی دوران CTD نے راجہ عمر خطاب اور بعد ازاں ڈی ایس پی مظہر مشوانی جیسے افسران کی قیادت میں وہ کردار ادا کیا جو آج بھی ایک حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ مظہر مشوانی کی 34 سالہ سروس جرأت، استقامت اور فرض شناسی کی مکمل داستان
ہے۔ سردی ہو یا گرمی، دھماکے ہوں یا دہشت گردوں کی دھمکیاں،وہ ہر محاذ پر ڈٹے رہے۔“ڈیپارٹمنٹ چلتا ہے تو زندگی چلتی ہے”اور انہوں نے عملی طور پر اس فلسفے کو جیا۔مظہر مشوانی صرف ایک نڈر افسر ہی نہیں تھے بلکہ ایک مسکراتا ہوا، باوقار اور متوازن چہرہ بھی تھے۔ وہ سینئر سے دلیل کے ساتھ اور جونیئر سے احترام کے ساتھ بات کرتے تھے۔ کام لینا جانتے تھے اور کام کرنے والے کو اس کا درست صلہ دینا بھی ان کا خاصہ تھا۔ یہی اوصاف انہیں محض ایک افسر نہیں بلکہ ایک رول ماڈل بناتے ہیں۔ان کی ریٹائرمنٹ، خصوصاً راجہ عمر خطاب کے بعد، CTD کے لیے ایک خلا ضرور ہے، مگر یہ خلا ناقابلِ پُر نہیں۔ آج اگر مجموعی منظرنامہ دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ CTD نئے سرے سے فعال ہونے کے عمل میں داخل ہو چکی ہے۔ڈی آئی جی اظفر مہیسر ایک مدبر، متوازن اور پروفیشنل افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ایس ایس پی آپریشنز عرفان بہادر اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملک سنگھار بھی ان افسروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فیلڈ اور تفتیش دونوں محاذوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔حالیہ دنوں میں ذوالفقار لاڑک کا ایڈیشنل آئی جی CTD مقرر ہونا اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ ادارے کو تجربہ کار اور فیصلہ کن قیادت فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہے کہ وہ افسران جنہوں نے ماضی میں ناقدری کے باعث راہِ فرار اختیار کی، اب انہیں واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی تناظر میں چوہدری صفدر کو دو بارہ ایس ایس یو سے لانے کی تیاریاں جاری ہیں، انسپکٹر سلیم اللہ قریشی جو شہید سعید اللہ قریشی کے بھائی ہیں کے بارے میں اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ انہیں بھی CTD میں فعال کردار سونپا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام صرف تقرری نہیں بلکہ قربانی اور وابستگی کی قدر شناسی ہے۔اس وقت سی ٹی ڈی میں عامر حمید،خرم وارث راجہ طارق اور صفدر مشوانی جیسے چیمپئن افسران پہلے سے موجود ہیںجہاں تک سی ٹی ڈی کا تعلق ہے، تو یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہ فورس ماضی میں بھی مؤثر رہی ہے۔ اب جبکہ موجودہ اعلیٰ حکام کی تمام نظریں اس شعبے پر مرکوز ہیں اور نگرانی و احتساب کا عمل مضبوط کیا جا چکا ہے، تو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سی ٹی ڈی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایک بار پھر مثبت، ذمہ دارانہ اور مؤثر کردار ادا کرے گی۔یقیناً ادارے افراد سے بنتے ہیں، مگر اداروں کی اصل طاقت تسلسل، اصلاح اور درست قیادت میں ہوتی ہے۔ آج جو صورتحال ابھر رہی ہے، اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ سی ٹی ڈی اب دفاعی نہیں بلکہ نئے عزم، نئی حکمتِ عملی اور مضبوط نگرانی کے ساتھ آگے بڑھ رہہ ہے
اگر یہی سمت برقرار رہی تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس بار پھر شہرِ قائد کے امن کے لیے سی ٹی ڈی اپنا وہی مؤثر کردار ادا کرے گی جس کی مثال ماضی میں دی جا چکی ہے۔

