آپ چاہئے بھٹو شہید کے کردار سے خوش ہو یا نہ ہو اس سے کوئی غرض نہیں، بھلا بغض رکھنے والے لوگوں کو کس طرح راغب بھٹو کیا جاسکتا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو بطور تیسری دنیا کے سیاسی رہنما کے عالمی سیاسی منظر نامے پر گہری نظر رکھتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ خاندانی پس منظر کم عمری میں دار فانی سے کوچ کر جانا جیسے حقائق سے آگاہی کے سبب انہیں ہر کام
شروع کرنے کی بڑی جلدی رہتی تھی۔ یاد رہے بھٹو خاندان کے مرد حضرات پچاس سال سے زائد کم و بیش ہی بقید حیات رہتے تھے۔شہید بھٹو نے اپنے مختصر دورِ حکومت میں جس رفتار سے بڑے بڑے صنعتی و تجارتی منصوبے مکمل کئے وہ آج کے حکمران پندرہ بیس سال میں بھی نہیں کر سکے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی سازشوں کو بھانپتے ہوئے امریکہ اسرائیل ہندوستان گٹھ جوڑ کو قبل از وقت محسوس کر لیا تھا۔اور ان ہی لاحق خطرات سے نبرد آزما ہونے کیلئے چین سے پائیدار دوستی کی بنیاد ڈالی اور دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے ایسا میکانزم تیار کیا کہ ان کے بعد کے آنے والے آمروں کو بھی ایٹمی پروگرام کو جاری رکھنا مجبوری بن گیا۔گزشتہ دنوں وینزویلا صدر کے اغوا اور ایران کو امریکی دہمکیوں کے بعد پاکستان
کی سالمیت پر بھی کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ غالباً اب پاکستان کے بونے ٹائپ دانشوروں اور سامراجی ایجنٹس کو بھٹو کی پھانسی شاہ فیصل کا قتل لیبیا عراق کی تباہی و بربادی کی سمجھ آگئی ہوگی اور موجودہ صورتحال میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور پاک فوج کا مستحکم کردار کا ادراک ہوگیا ہوگا۔اَلْحَمْدُلِلّٰه مئی 2025 کو بھارتی عزائم کو خاکستر کرنے کے بعد پاکستان عالمی برادری کے سامنے مستحکم پوزیشن میں ہے۔ اور آج بغض بھٹو کے علمبردار بھی پاکستان کی دفاعی نظام کی بدولت اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔آئیں ہم سب عہد کریں ذوالفقار علی بھٹو شہید، ڈاکٹر عبدالقدیر خان و دیگر سیاستدان سمیت سیٹھ عابد اہلیان لیاری اور کیماڑی کے ملاحوں کی جانفشانی اور قربانیوں کو خراج عقیدت کرتے ہوئے، پاکستان کی استحکامت کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ذوالفقار علی بھٹو کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
