تریمت کتھا محض ایک کتاب نہیں بلکہ عورت کے احساسات، تجربات اور اس کی خاموش جدوجہد کی سچی عکاسی ہے۔ اس کتاب میں پاکستان کی پانچ علاقائی زبانوں سرائیکی، سندھی، پنجابی، بلوچی اور پشتو میں لکھنے والی خواتین افسانہ نگاروں
کی تحریروں کو یکجا کیا گیا ہے، جو عورت کی زندگی کو مختلف زاویوں سے سامنے لاتی ہیں۔ کہیں سماجی دباؤ ہے، کہیں رشتوں کی پیچیدگیاں، کہیں صبر اور حوصلہ، اور کہیں خود کو پہچاننے کی کوشش۔ یہ سب اس کتاب کا حصہ ہیں۔ڈاکٹر
سعدیہ کمال نے تریمت کتھا کے ذریعے علاقائی زبانوں کے ادب کو ایک مضبوط آواز دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ عورت کے احساسات اور مسائل زبان یا علاقے کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ، رواں اور دل کو چھو لینے والا ہے، جو قاری کو
سوچنے اور محسوس کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف خواتین کے ادب کو نمایاں کرتی ہے بلکہ ہمارے سماج کو بھی ایک نیا زاویہ دکھاتی ہے۔کتاب کی تقریبِ رونمائی ایک کامیاب اور یادگار پروگرام رہی، جس میں صحافت، ادب اور مختلف
شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد نے شرکت کی۔ شرکاء کی بھرپور موجودگی اور دلچسپی نے یہ ثابت کیا کہ ادب آج بھی زندہ ہے اور ایسے کاموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔تریمت کتھا اُن تمام لوگوں کے لیے ہے جو عورت کی کہانی
کو سمجھنا چاہتے ہیں، علاقائی زبانوں کے ادب سے محبت رکھتے ہیں اور لفظوں کے ذریعے سماج کو بہتر دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ کتاب دیر تک ساتھ رہنے والا احساس ہے۔










