تاریخ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت صرف ہتھیار، دولت یا تعدا د کا نام نہیں بلکہ اصل قوت وہ یقین ہوتا ہے جو انسان کے دل میں راسخ ہو، مسلمان کی زندگی میں یقین ایمان کہلاتا ہے، ایمان ہی وہ طاقت ہے جس نے صحراؤں کے باسیوں کو دنیا کی طاقت عطا کی، کمزوروں کو حوصلہ دیا ، اور مظلوموں کو جینے کا سلیقہ سکھایا، جب بھی مسلمان نے اپنے ایمان کو مضبوطی سے تھا مادہ سر بلند ہوا اور جب ایما محض الفاظ تک محدودرہ گیا تو ذ وال اس کا مقدر بن گیا، ایمان کا مفہوم صرف کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل طرز فکر اور طرز زندگی ہے، ایمان انسان کو یہ یقین دیتا ہے کہ اس کی زندگی بے مقصد نہیں، اس کارب دیکھ رہا ہے ، سن رہا ہے اور ہر عمل کا حساب ہونا ہے، یہی احساس جواب دہی انسان کو برائی سے روکتا ہے اور نیکی کی طرف مائل کرتا ہے، جس دل میں ایمان زندہ ہو، وہاں خوف ما بودی اور بے سمتی پنپ نہیں سکتا، قرآن مجید میں بار بار ایمان والوں کو حوصلہ دیا گیا ہے کہ وہ کمزور نہ پڑیں غم نہ کریں، کیونکہ اگر وہ مومن ہیں بالا دستی انہی کی ہے، یہ محض ایک روحانی تسلی نہیں بلکہ ایک عملی پیغام ہے، ایمان انسان کے اندر وہ خود اعتمادی پیدا کرتا ہے، جو مشکل حالات میں اسے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتی ہے، بدر کے میدان میں تعداد اور اسلہ کم تھا، مگر ایمان کامل تھا اور یہی فتح کا سبب تھا۔ بد قسمتی سے آج کا مسلمان اسی ایمان کی کمزوری کا شکار نظر آتا ہے، ایمان کو عبادات محدود کر دیا ہے، جب کہ عملی زندگی میں جھوٹ ، نا انصافی ، بد دیانتی اور نا امیدی نے جگہ بنالی ہے ، ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اللہ پر یقین ہے مگر فیصلے کرتے وقت طاقتوروں کے آگے جھک جاتے ہیں،اور کمزور کا حق مار لیتے ہیں ، یہی تضاد ہمارے زوال کی اصل وجہ ہے ، ایمان انسان کو صبر سکھاتا ہے،اور صبر ہی وہ طاقت ہے جو قوموں کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے، آج جب مسلمان معاشی ، سیاسی اور سماجی مسائل میں گھرا ہوا ہے، تو تب سب سے پہلے مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے، حالانکہ ایمان کا تقاضا ہے کہ حالات کیسے سخت کیوں نہ ہوں اللہ کی مدد سے نا امید نہ ہوا جائے ، تاریخ بتاتی ہے کہ اندھیری رات کے بعد ہی سویرا ہوتا ہے، مگر صرف وہی لوگ سویرا دیکھتے ہیں، جو رات میں ایمان کا چراغ جلائے رکھتے ہیں، مسلمان کا اسے صرف اللہ سے جوڑتاہی نہیں بلکہ انسانیت سے بھی جوڑتا ہے، ایک سچا مومن وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسر ا حفوظ رہے ، جب ایمان مضبوط ہوتا ہے تو معاشرہ عدل ، رحم، اور اخوت کی بنیا دپر قائم ہوتا ہے،مدینہ کی ریاست اپنی ایمان کی عملی تصویر تھی، جہاں حکمران اور عام شہری قانون کے سامنے برابر تھے، آج اگر ہم اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اسی ایمانی کردار کو مدہ کرنا ہوگا ، نو جوان نسل کے لیے ایمان کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، آج کا نوجوان بے یقینی ، مقابلے اور تیز رفتاری میں خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، اگر اس کے پاس ایمان کی طاقت موجود نہ ہوتو مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے یا غلط راستوں پر چل پڑتا ہے، ایمان اُسے یہ احساس دیتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں اس کا رب اس کے ساتھ اور یہی احساس اُسے حلال را سے پر ڈٹے رہنے کی قوت عطا کرتا ہے، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے ایمان کو نعرہ بنالیا ہے، کردار نہیں، ہم دوسروں کو ایمان کا درس دیتے ہیں مگر خود اس کے قاضے پورے نہیں کرتے بجتا دنیا ہمارے قول پر نہیں، ہمارے عمل پر فیصلہ کرتی ہے ، اگر ہم واقعی ایمان کو اپنی طاقت بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں دیانت ، انصاف، محنت اور سچائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، مسلمان کی طاقت زاس کا اسلحہ ہے ، نہ اس کو تعدا داور نہ ہی اس کی دولت، بلکہ اس کا ایمان ہے، جب ایمان زندہ ہوتا ہے تو کمزور ہاتھ بھی طاقتور بن جاتا ہے، اور جب ایمان مرجاتا ہے تو بڑی بڑی طاقتیں بھی مٹی میں مل جاتی ہیں، اور اس کی مثالوں سے دنیا بھری پڑی ہے ، آج انسان کو ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کو رسم کی بجائے روح بنائے تا کہ وہ ایک بر پھر دنیا کے لیے خیر ، عدل اور اُمید کا پیغام بن سکے ، یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ وقت کی آواز ہے مسلمان کا ایمان زندہ ہو، محض ایک نعرہ نہیں بلکہ فکری اعلان ہے جب کسی معاشرے میں بھوک، افلاس، نا انصافی اور محرومی عام ہو جائیں تو وہاں صرف پیٹ ہی نہیں خالی نہیں ہوتے ضمیر بھی آزمائش میں پڑ جاتے ہیں ہنگر مسلمان کی پہچان ہی ہے کہ تنگ دستی ، جبر اورمحرومی کے باوجود اس کا ایمان زندہ رہتا ہے ، وہ حق کہنا نہیں چھوڑ تا ظلم کے آگے جھکنے سے انکار کرتا ہے اور اُمید کا چراغ بجھنے نہیں دیتا ، تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان نے اپنے ایمان کو زندہ رکھا، اُس نے حالات کا رخ موڑا ، اور جب ایمان کمزور پڑا تو دولت، اقتدار اور وسائل بھی اسے سہارا نہ دے سکے، آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقت اور محرومی کی فریا دکو شکوہ نہ بنائیںبلکہ اسے ایمان کی بیداری شعور کی روشنی اور عملی جدو جہد میں ڈھالیں کیونکہ زندہ ایمان ہی مردہ حالات کو زندگی دے سکتا ہے۔

