سیالکوٹ۔,( نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرپا امن کے لیے ایک جامع ضابطہ اخلاق تشکیل دینا ناگزیر ہے تاکہ دونوں ممالک باہمی احترام، ہمسائیگی اور اسلامی اخوت کے اصولوں پر استوار رہ سکیں۔ پاکستان کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ امن، بھائی چارے اور تعاون کا خواہاں ہے تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ اس تعلق کو نظم و ضبط اور باہمی ذمہ داریوں کی بنیاد پر منظم کیا جائے تاکہ سماجی و معاشی توازن برقرار رہے۔ اگر مذاکرات میں طے پانے والی شرائط پاکستان کے مفاد میں ہوں تو امن معاہدہ ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ روز سے ملک میں دہشتگردی کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، قطر میں جو طے پایا تھا اس کا پاس کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بھارتی پراکسی جنگ کا سامنا کر رہا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان بھارتی پراکسی کے طور پر ہمارےخلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔انہوں نے کہا
کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے اور قوم کو اللہ کی نصرت پر کامل یقین ہے۔ وفاقی وزیرِ دفاع نے قطر اور ترکیہ جیسے برادر ممالک کی سفارتی وساطت کو سراہا اور کہا کہ ان کی خلوص بھری کوششوں سے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذکرات میں مجھے نظر آیا کہ افغانستان امن چاہتا ہے۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان نے چالیس برس سے زائد عرصے تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے اور آج بھی چالیس لاکھ کے قریب افغان باشندے ملک بھر میں مقیم ہیں، جن کی کئی نسلیں یہاں پروان چڑھ چکی ہیں۔ ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے والے بھی پاکستان میں ہی جوان ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ افغان اکثریت کے پاس مستقل رہائش کا درجہ نہیں اور بعض نے مقامی کاروبار اور روزگار کے شعبوں پر واضح اثرات مرتب کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک قوم جس نے چار دہائیوں تک مہمان نوازی کی ہو، اس کے بدلے میں دہشت گردی کی حمایت یا تخریب کاری انتہائی افسوسناک ہے، اس لیے اب ایک واضح ضابطہٴ اخلاق اور باہمی احتساب کا میکانزم لازم ہے تاکہ پاکستان اور افغانستان امن و احترام کے ساتھ رہ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعلق ذمہ داری اور نظم کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔قبل ازیں وفاقی وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے گورنمنٹ سردار بیگم ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کیا اور اس کی نئی عمارت کا افتتاح کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی نئی عمارتیں اور جدید سہولیات باوقار انداز میں تیار کی گئی ہیں مگر عملے اور طبی تربیت یافتہ پروفیشنلز کی عدم دستیابی باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بریفنگ میں بتایا گیا ہےکہ گزشتہ ایک سال کے دوران بائیس پروفیسرڈاکٹر لاہور منتقل ہو چکے ہیں جس سے مقامی طبی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔نہوں نے کہا کہ بعض ڈاکٹر چند دن کام کر کے پھر لاہور واپس چلے جاتے ہیں، جس سے مریضوں کو مسلسل طبی سہولت میسر نہیں رہتی۔ یہ طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے اور فوری اصلاح درکار ہے۔وزیرِ دفاع نے مسلح افواج، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے جذبۂ کار کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر وہی رویّہ جو بعض طبی عملے نے اپنا رکھا ہے فورسز اختیار کر لیں تو قوم کی حفاظت کون کرے گا؟انہوں نے کہا کہ ملک کی حفاظت پر مامور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ان کے پاس انتخاب نہیں ہوتا، اس لیے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بھی اپنے پیشے کو جذبۂِ خدمت کے ساتھ نبھانا ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب تک طبی عملہ اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نہیں لے گا عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔
