لاہور ( انٹرویو:عالیہ خان )آج کے دور میں گردے کی پتھری ایک عام مگر تکلیف دہ مسئلہ بن چکی ہے، جو کسی بھی عمر یا جنس کے فرد کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ پتھری دراصل کیلشیم اور دیگر معدنی اجزاء کے چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے جو گردوں کے صحیح طور پر کام نہ کرنے کے باعث ان میں جمع ہونے لگتی ہے۔ بسا اوقات یہ پتھری طویل عرصے تک گردے کے اندر خاموشی سے موجود رہتی ہے، لیکن جب یہ اپنی جگہ چھوڑ کر پیشاب کی نالی کی جانب بڑھتی ہے تو شدید تکلیف اور جلن کا باعث بنتی ہے۔ یہ پتھری گردوں سے نکل کر مثانے تک پہنچتی ہے اور بالآخر پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتی ہے۔ بعض صورتوں
میں، اگر پتھری کا حجم زیادہ ہو یا خود بخود خارج نہ ہو سکے تو سرجری کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ گردے کی پتھری کی علامات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں اور مریض کو شدید درد، بے چینی اور روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔گردے کی پتھری کی علامات اور علاج کے حوالے سے ہم نے ڈاکٹر واجد علی بلوچ سے خصوصی انٹرویو کیا۔
ڈاکٹر واجد علی بلوچ ایک معروف اور قابلِ اعتماد ماہرِ امراضِ گردہ و مثانہ (Urologist) ہیں۔ انہوں نے ایم بی بی ایس (MBBS) کے بعد ایف سی پی ایس یورولوجی (FCPS Urology) پاکستان سے مکمل کیا، اور مزید مہارت کے لیے امریکہ سے ایف اے سی ایس (FACS) کی سند حاصل کی۔ ڈاکٹر واجد علی بلوچ اس وقت میو اسپتال لاہور اور راشد اسپتال ڈیفنس موڑ لاہور میں بطور کنسلٹنٹ یورولوجسٹ (Consultant Urologist) خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کا شمار اُن ماہرین میں ہوتا ہے جو گردے،
مثانے اور پیشاب کے نظام سے متعلق پیچیدہ امراض جیسے گردے کی پتھری، مثانے کی کمزوری، پروسٹیٹ کے مسائل اور دیگر یورولوجیکل بیماریوں کے علاج میں گہری مہارت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مریضوں کو نہ صرف جدید میڈیکل سہولیات فراہم کرتے ہیں بلکہ مریض کی مکمل رہنمائی اور احتیاطی تدابیر پر بھی خاص توجہ دیتے ہیں۔ان کی گفتگو قارئین کی نذر ہے ۔
س:ڈاکٹر صاحب آپ کا تعلق چونکہ لاہور کے سب سے بڑے ہسپتال میو ہسپتال لاہور سے ہے اس لئے وہیں سے آغاز کرتے ہیں کہ اس وقت میو ہسپتال لاہور میں گردے کی پتھری کے علاج کے لئے کون کون سی جدید سہولیات میسر ہیں؟
ڈاکٹر واجد علی :میو اسپتال لاہور میں گردے کی پتھری کے علاج کے لیے جدید اور مؤثر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اسپتال کے یورولوجی ڈیپارٹمنٹ میں جدید Lithotripsy Suite قائم ہے جہاں ESWL (Extracorporeal Shock Wave Lithotripsy) یعنی شاک ویو کے ذریعے بغیر آپریشن پتھری کو توڑ کر نکالنے کا علاج کیا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر جراحی اور محفوظ طریقہ ہے جس میں جسم کے باہر سے جھٹکوں کے ذریعے پتھری کو باریک ذرات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جو بعد میں پیشاب کے راستے سے خود بخود خارج ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسپتال میں PCNL (Percutaneous Nephrolithotomy) طریقہ بھی کامیابی سے استعمال ہو رہا
ہے، جو بڑی یا ضدی پتھریوں کے لیے مؤثر علاج مانا جاتا ہے۔ تشخیص کے لیے میو اسپتال کے پاس جدید امیجنگ سہولیات جیسے الٹراساؤنڈ، CT اسکین، اور ڈیجیٹل فلوروسکوپی دستیاب ہیں، جن کی مدد سے پتھری کی صحیح جگہ اور نوعیت کا تعین کیا جاتا ہے۔ تاہم، لیزر لِتھوٹریپسی (Laser Lithotripsy) کی سہولت ابھی محدود پیمانے پر دستیاب ہے اور اس کے لیے مریضوں کو مخصوص یورولوجی یونٹس سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر میو اسپتال میں گردے کی پتھری کے علاج کے جدید طریقے، تربیت یافتہ ماہرین اور تشخیص کی
جدید سہولیات موجود ہیں، جن سے مریضوں کو مؤثر، کم تکلیف دہ اور کم خرچ علاج میسر آ رہا ہے۔
س: ڈاکٹر صاحب، گردے میں پتھری بننے کی سب سے عام وجوہات کیا ہیں؟
ڈاکٹر واجد علی: گردے میں پتھری بننے کی سب سے بنیادی وجہ پانی کی کمی ہے۔ جب ہم جسم کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیتے تو پیشاب گاڑھا ہو جاتا ہے اور اس میں موجود معدنیات جیسے کیلشیم، آکسیلیٹ، اور یورک ایسڈ آپس میں مل کر کرسٹل بناتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ کرسٹل بڑھ کر پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔گرم موسم، جسمانی مشقت، یا پانی کم پینے والے افراد میں یہ مسئلہ زیادہ عام ہے۔ اس کے علاوہ خوراک میں نمک اور پروٹین (گوشت) کا زیادہ استعمال، کیلشیم کی غیر متوازن مقدار، موٹاپا، اور کچھ موروثی بیماریاں بھی پتھری بننے کے امکانات بڑھا دیتی ہیں۔ بعض اوقات پیشاب کی نالی میں انفیکشن یا بار بار یورینری انفیکشن ہونا بھی اس بیماری کو جنم دیتا ہے۔
س: کن علامات سے مریض کو پتہ چل سکتا ہے کہ اس کے گردے میں پتھری ہے؟
ڈاکٹر واجد علی: گردے کی پتھری کی سب سے عام اور واضح علامت شدید درد ہے۔ یہ درد اچانک شروع ہوتا ہے اور کمر کے نچلے
حصے یا پہلو سے پیٹ اور مثانے تک پھیل جاتا ہے۔ مریض کو لگتا ہے جیسے کوئی چیز اندر سے چیر رہی ہو۔اس کے علاوہ پیشاب میں خون آنا، جلن ہونا، یا بار بار حاجت محسوس ہونا بھی پتھری کی علامات ہیں۔ بعض اوقات متلی، قے، یا بخار بھی ساتھ ہوتا ہے، خاص طور پر اگر پتھری کی وجہ سے انفیکشن ہو جائے۔چھوٹی پتھریاں عموماً خود بخود نکل جاتی ہیں، لیکن اگر درد مسلسل رہے یا پیشاب رک جائے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ یہ گردے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
س: جدید میڈیکل سائنس کے مطابق گردے کی پتھری کے کون کون سے علاج مؤثر ہیں؟
ڈاکٹر واجد علی: آج کل پتھری کے علاج میں زبردست ترقی ہو چکی ہے۔ علاج کا انحصار پتھری کے سائز، مقام، تعداد اور ساخت پر ہوتا ہے۔چھوٹی پتھریاں (5 ملی میٹر سے کم) عام طور پر قدرتی طور پر خارج ہو سکتی ہیں، بشرطے کہ مریض زیادہ پانی پیئے اور دوائیں باقاعدگی سے استعمال کرے۔ اگر پتھری درمیانے سائز کی ہو تو ESWL (Extracorporeal Shock Wave Lithotripsy) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اس میں جسم کے باہر سے شاک ویوز کے ذریعے پتھری کو چھوٹے ذرات میں توڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ پیشاب کے ذریعے خارج ہو جائے۔بڑی یا سخت پتھریوں کے لیے لیزر ٹریٹمنٹ یا اینڈوسکوپک سرجری کی جاتی ہے، جو جدید اور کم تکلیف دہ طریقے ہیں۔ ان میں کسی بڑی چیر پھاڑ کی ضرورت نہیں پڑتی اور مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے۔
س: ESWL اور لیزر ٹریٹمنٹ میں بنیادی فرق کیا ہے؟ڈاکٹر واجد علی: ESWL میں جسم کے باہر سے Shock Waves کے ذریعے
پتھری پر توانائی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں، جو اسے چھوٹے ذرات میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ یہ طریقہ غیر جراحی ہے اور عام طور پر بے ہوشی کے بغیر کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ تب مؤثر ہوتا ہے جب پتھری کا سائز درمیانہ ہو اور وہ گردے یا یورینری نالی میں کسی مناسب جگہ پر موجود ہو۔دوسری طرف، لیزر ٹریٹمنٹ ایک جدید اور درست طریقہ ہے۔ اس میں ایک باریک اینڈوسکوپ کے ذریعے مثانے یا پیشاب کی نالی سے داخل ہو کر لیزر بیم کے ذریعے پتھری کو باریک
ذرات میں توڑا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ان مریضوں کے لیے مفید ہے جن کی پتھری بڑی، سخت، یا مشکل جگہ پر ہو۔ لیزر ٹریٹمنٹ کی کامیابی کی شرح 95 فیصد تک ہے، اور مریض عام طور پر ایک یا دو دن میں گھر جا سکتا ہے۔
س: کیا ہر مریض کے لیے سرجری لازمی ہے یا بغیر آپریشن علاج ممکن ہے؟
ڈاکٹر واجد علی: نہیں، ہر مریض کو سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تقریباً 70 فیصد مریض بغیر آپریشن علاج سے صحت یاب ہو جاتے ہیں، خاص طور پر اگر پتھری چھوٹی ہو۔ ہم پہلے دواؤں، پانی کے زیادہ استعمال، اور غذائی پرہیز سے علاج شروع کرتے ہیں۔سرجری تب کی جاتی ہے جب پتھری بڑی ہو، پیشاب رک جائے، یا گردے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ آج کل چونکہ زیادہ تر سرجریاں لیزر یا اینڈوسکوپک طریقے سے ہوتی ہیں، اس لیے مریض کو اسپتال میں داخلے یا تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
س: گردے کی پتھری کی روک تھام کے لیے کن غذاؤں اور عادات سے پرہیز کرنا چاہیے؟
ڈاکٹر واجد علی: روک تھام علاج سے بہتر ہے۔ سب سے پہلے نمک کا استعمال کم کریں کیونکہ زیادہ نمک گردے میں کیلشیم
جمع کرتا ہے۔اسی طرح گوشت، کلیجی، دالیں اور پالک کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی یورک ایسڈ بڑھا کر پتھری کا باعث بن سکتا ہے۔ بازاری جوس، چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس میں موجود کیفین اور فاسفیٹس گردوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔اس کے برعکس، روزانہ پھل، سبزیاں، اور دہی کا استعمال فائدہ مند ہے کیونکہ یہ جسم کے پی ایچ لیول کو متوازن رکھتے ہیں۔
س: زیادہ پانی پینے سے کس حد تک پتھری سے بچاؤ ممکن ہے؟
ڈاکٹر واجد علی: زیادہ پانی پینا سب سے سستا اور مؤثر علاج ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ دو سے تین لیٹر پانی پیتا ہے تو گردوں سے فاضل نمکیات باقاعدگی سے خارج ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے پتھری بننے کے امکانات 60 سے 70 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔گرمیوں میں یا جسمانی مشقت والے افراد کو پانی کی مقدار اور بڑھا دینی چاہیے۔ ایک سادہ اصول یہ ہے کہ پیشاب ہمیشہ شفاف یا ہلکا پیلا ہونا چاہیے اگر اس کا رنگ گہرا ہو تو سمجھ لیں پانی کم ہے۔
س: کیا گردے کی پتھری بچوں اور خواتین میں بھی عام ہے؟ اگر ہاں تو کیوں؟
ڈاکٹر واجد علی: جی ہاں، آج کل یہ بیماری بچوں اور خواتین میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بچوں میں اس کی بڑی وجہ جنک فوڈ، چپس، نمکین اسنیکس، اور سافٹ ڈرنکس ہیں۔ اس کے علاوہ والدین کی لاپرواہی سے بچے دن بھر پانی کم پیتے ہیں۔خواتین
میں ہارمونی تبدیلیاں، کیلشیم سپلیمنٹس کا غیر ضروری استعمال، اور جسم میں پانی کی کمی اہم عوامل ہیں۔ حاملہ خواتین کو خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ ڈی ہائیڈریشن کی صورت میں پتھری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
س: مریض کو علاج کے بعد دوبارہ پتھری بننے سے بچنے کے لیے کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟
ڈاکٹر واجد علی: علاج کے بعد مریض کو اپنی خوراک اور طرزِ زندگی میں تبدیلی لانےکی ضرورت ہو تی ہے۔ سب سے پہلے زیادہ پانی پینا اپنیعادت بنائیں۔ نمک، گوشت، اور بازاری مشروبات کو محدود کریں۔ہر چھ ماہ بعد الٹراساؤنڈ اور پیشاب کے ٹیسٹ کروائیں تاکہ گردوں کی حالت معلوم ہوتی رہے۔ جسمانی سرگرمی برقرار رکھیں، کیونکہ پسینے کے ذریعے فاضل نمکیات خارج ہوتے ہیں۔
س: آپ عوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تاکہ وہ گردے کی پتھری جیسے مسئلے سے محفوظ رہ سکیں؟
ڈاکٹر واجد علی: میرا پیغام یہی ہے کہ اپنی صحت کو معمولی نہ سمجھیں۔ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا، متوازن غذا لینا، اور وقتاً فوقتاً میڈیکل چیک اپ کروانا ہی سب سے بڑا تحفظ ہے۔گردے کی پتھری ایک عام مگر قابلِ علاج بیماری ہے۔ اگر اسے نظر انداز کیا جائے تو یہ گردوں کے مستقل نقصان یا فیل ہونے تک بھی جا سکتی ہے۔ اپنی روزمرہ زندگی میں صرف چند مثبت تبدیلیاں، جیسے پانی زیادہ پینا، سادہ کھانا کھانا، اور خود کو فٹ رکھناآپ کو اس تکلیف دہ مرض سے دور رکھ سکتی ہیں۔




