کولمبو( نمائندہ خصوصی):کولمبو میں آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان اہم میچ بارش کے باعث منسوخ ہونے کے بعد گروپ میں ہر مقابلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سپر ایٹ مرحلے میں
پاکستان گروپ 2 میں سری لنکا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے ساتھ شامل ہے اور اب اس کے دو میچ باقی ہیں۔پاکستان 24 فروری کو انگلینڈ کے خلاف میدان میں اترے گا جبکہ آخری میچ میزبان سری لنکا کے خلاف کھیلے گا۔ گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں سیمی فائنل
کے لیے کوالیفائی کریں گی۔بارش کے باعث میچ منسوخ ہونے اور ایک ایک پوائنٹ کے بعد پاکستان اور نیوزی لینڈ کے لیے اب ہر میچ عملی طور پر ناک آؤٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔اگر گرین شرٹس نیٹ رن ریٹ پر انحصار کیے بغیر سیمی فائنل میں
جگہ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے باقی دونوں میچ جیتنا ہوں گے۔ دونوں فتوحات کی صورت میں پاکستان کے مجموعی پوائنٹس پانچ ہو جائیں گے اور سیمی فائنل میں رسائی یقینی ہو جائے گی تاہم اگر ایک میچ جیتا اور ایک ہارا تو تین پوائنٹس کے ساتھ اسے دیگر ٹیموں کے نتائج اور نیٹ رن ریٹ پر انحصار کرنا پڑے گا۔پاکستان نیوزی لینڈ کا میچ بارش کے باعث منسوخ ۔دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دیدیا گیا ۔کولمبو میں آئی سی سی مین ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 8 مرحلے کا اہم مقابلہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پریمادس سٹیڈیم کولمبو میں کھیلا جانا تھا، تاہم مسلسل بارش کے باعث شائقین کرکٹ ایک سنسنی خیز میچ
سے محروم رہ گئے۔میچ سے قبل پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد قومی ٹیم کے کھلاڑی میدان میں اترنے کی تیاری کر رہے تھے۔لیکن اسی دوران بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا جو وقفے وقفے سے جاری رہا۔ گراؤنڈ اسٹاف کی جانب سے میدان کو کھیل کے قابل بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی، تاہم موسم کی خرابی کے باعث
صورتحال بہتر نہ ہوسکی۔بارش طویل ہونے کے سبب ایک بھی گیند نہ پھینکی جاسکی اور بالآخر امپائرز نے طویل انتظار کے بعد میچ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ٹیموں کو قوانین کے مطابق ایک، ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔میچ کی منسوخی سپر 8 مرحلے میں دونوں ٹیموں کی پوزیشن پر اثر انداز ہوسکتی ہے، کیونکہ اس مرحلے میں ہر پوائنٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ شائقین کو امید تھی کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملے گا، تاہم خراب موسم نے ان کی توقعات پر پانی پھیر دیا۔

