وہ اک سانولی سی بہت ہی پیاری لڑکی
حیاء کی چادر میں لپٹی وہ کنواری لڑکی
وہ جو گلیوں میں آجائے تو قیامت کر دے
گھنٹوں اعصاب وہ ہی رہے طاری لڑکی
اُس کی آنکھوں میں نہیں ہے کا جل پھر بھی
وہ بن کاجل کے ہی ہے کجراری لڑکی
اُس کو دیکھا تو یہ خیال آیا مجھ کو
خدا نے جنت سے ہے اتاری لڑکی
بھرے بازار میں ہر اک نظر ہے اُس پر
اور وہی لوگ اسے کہتے ہیں بازاری لڑکی
کسی ہوٹل ، کسی نگڑ ، کسی سگنل پہ جا کر
بھیک مانگنے والی وہ بھیکاری لڑکی
بھوک کے بازار میں بھی ہے چادر سر پر
تن کو ڈھانپے ہوئے حالات کی ماری لڑکی
اپنی عزت کا نہیں افلاس میں سودا جس کو
وہ کردار میں کتنوں پہ ہے بھاری لڑکی
عامر فراز

