نیا سال مبارک
جاتے ہوئے لمحوں نے
چپکے سے یہ سمجھایا
جو پل بیت گئے ہیں
ہوا کے پروں پر اڑ گئے ہیں
کچھ دوست پرانے
کچھ رشتے پرانے
کچھاپنے پرائے ہو گئے
جاتے ہوئے لمحوں نے
درد لہروں میں بہ گئے ہیں کہ دیکھونئے سورج کی آمد ہے
نئے دنوں میں گلاب ہوں گے
پرانے وقت خواب ہوں گے
تم گمان اچھار کھنا
زندگی کے لمحے یا دگار ہوں گے
دیکھو
جی بھر کے جی لینا
جتنے کڑوے ذہر ہوں پی لینا
اور پھر بہار کی آمد کے ساتھ
ہنستے مسکراتے نئے سال کے ساتھ
جیون کو پھر سے سنوار لینا
(عزرا ملک)

