اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی)پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے،ہر قیمت پر ہمیں آئین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا،کسی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ آئین کو ”ری رائٹ کرے“کوئی ادارہ بھی دوسرے ادارے کے دائرہ کار میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ 1973 کے آئین کی منظوری میں جن جن شخصیات نے کردار ادا کیا انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹرینز نے منتخب ہو کر اس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس آئین کی ایک ایک شق کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔انہوںنے کہاکہ آئین نے ہر ادارے کا ایک دائرہ کار متعین کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کوئی ادارہ آئین کے تحت دوسرے ادارے کے دائرہ کار میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ انہوںنے کہاکہ گولڈن جوبلی تقریبات کا انعقاد انتہائی خوش آئند بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ملک کا نظام منتخب اداروں نے چلانا ہوتا ہے دوسرے کسی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ آئین کو ”ری رائٹ کرے“ہمیں دکھ ہوا کہ ایک ادارہ آئین معاملات میں مداخلت کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ پارلیمنٹ نے آئین کا تحفظ کرنا ہوگا، کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں کرنی چاہئے جو آئین کے دائرہ کار سے تجاوز کرتا ہو، اگر ہم نے ایسا کیو تو یہ آئین سے انحراف ہوگا۔احمد حسن ڈیپر نے کہاکہ کوئی دوسرا ادارہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں مداخلت ہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کی ڈیمانڈ وہ کر رہے ہیں جن کے والد نے 11 سال تک الیکشن نہیں کرائے۔ صدر مملکت ایک پارٹی کے نمائندے نہ بنیں، وہ پورے پاکستان کے صدر ہیں۔


