کراچی( بیورورپورٹ ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پاکستان بالخصوص سندھ میں اس سال موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے 600 سے زیادہ انسانی زندگیاں ختم ہوگئیں، 12 ملین سے زائد لوگ بے گھر ہوگئے، 1.8 مکانات گرگئے اور کئی مویشی مرگئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید ہی کاربن کے اخراج 0.8 فیصد ہماری شراکتداری ہے، مگر ہمیں اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے یہ بات آج بروز اتوار ایک مقامی ہوٹل میں انڈونیشیا کے قونصل جنرل کی طرف سے سفارتکاروں کو دیئے گیے عشائیے میں کہی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں ایک ساتھ بیٹھنے، خیالات اور باہمی دلچسپی کے تجربات کا تبادلہ کرنے کا آج موقع فراہم کیا گیا ہے، اس تقریب میں مدعو کیا جانا ایک اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے اس طرح کے عشائیے عام تھے لیکن کوویڈ 19 کی وبا نے لوگوں کو اس طرح کے اجتماعات سے محروم کردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت کارروائی اور بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہم نے وائرس کے پھیلاؤ کو روک دیا، تاہم اب حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں اس موقع پر پاکستان بالخصوص سندھ پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو بتانا چاہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کےباعث شدید بارشوں میں 600 سے زیادہ انسانی زندگیاں ختم ہوگئیں، 12 ملین سے زائد لوگ بے گھر ہوگئے، 1.8 مکانات گرگئے اور کئی مویشی مر گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کاربن کے اخراج میں ان کی شراکت شاید ہی 0.8 فیصد ہے تو انہیں کیوں نقصان اٹھانا پڑا؟۔ میرے پاس اپنے لوگوں کو پیش کرنے کا کوئی جواب نہیں ہے، لیکن میں یہ سوال یہاں بیٹھے سفارت کاروں کو سوچنے کیلئے رکھتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بین الاقوامی مسائل پر بات کرنے اور دکھ درد بانٹنے کا ایک فورم ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انڈونیشیا کو دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی رکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے بعد پاکستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ہی مذہب، ثقافت اور عقیدہ رکھتے ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان مستحکم اور دوطرفہ باہمی تعلقات چاہتے ہیں۔ قبل ازیں انڈونیشیا کے قونصل جنرل نے خطاب کیا اور اپنے ملک کی اقتصادی ترقی پر روشنی ڈالی جو کہ ان کے بقول ایشیائی ممالک کی بلندیوں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ بہتر سفارتی تعلقات سے متعلق بتایا اور سیلاب میں جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

