لسبیلہ(رپورٹ: شفیق احمد چنہ)لسبیلہ کے تاریخی شہر بیلہ اور نواحی علاقوں میں تاریخ کا سب سے تباہ کن سیلاب، مسلسل بارشوں اور دریائے پورالی و کھانٹا ندی میں سیلابی ریلوں نے قیامت ڈھادی، نشیبی اور مشرقی علاقے گوٹھ سنڈیمن، شیخ گوٹھ، گلانی گوٹھ،محلہ ریسٹ ہاؤس میں پانی گھروں میں داخل،کئ گھر منہدم،قیمتی سامان پانی بہا کر لے گیا تفصیلات کےمطابق تاریخی شہر بیلہ میں کھانٹا ندی اور دریائے پورالی میں اونچے درجے کے سیلاب نے قیامت ڈھا دی۔ دریائے پورالی سے دو لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا اخراج۔دریائے پورالی اور کھانٹا ندی کا سیلابی پانی بیلہ شہر کے علاقوں سنڈیمن گوٹھ، شیخ گوٹھ،گلانی گوٹھ،ریسٹ ہاؤس محلہ اور نواحی علاقوں میں گھروں میں داخل ہوگیا
،متعدد گھر سیلابی پانی کی نظر ہوگئے ،لوگوں گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل، ڈپٹی کمشنر لسبیلہ مراد کاسی ،ADC فرحان سلیمان رونجھو،اسسٹنٹ کمشنر بیلہ حمزہ انجم منہاس,ایدھی کے انچارج ڈاکٹر عبدالحکیم لاسی، LWT کے محمد رمضان جاموٹ رات گئے تک امدادی کاموں اور ریسکیو کے عمل میں مصروف رہے۔ فلاحی تنظیم لسبیلہ ویلفیئر ٹرسٹ کے رضاکاروں اور غوطہ خوروں نے سیلاب میں پھنسے 28 افراد کو ریسکیو کیا۔، جمعہ کے روز لسبیلہ اور خضدار کے پہاڑوں میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں کھانٹا ندی بیلہ اور دریائے پورالی میں اونچے درجے کا سیلاب نے قیامت ڈھا دی۔ پورالی سے دو لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا اخراج جاری ہے۔دریائے پورالی اور کھانٹا ندی کا پانی بیلہ شہر کے کئی علاقوں میں داخل، بیلہ شہر کے علاقوں سنڈیمن گوٹھ، شیخ گوٹھ،گلانی گوٹھ، ریسٹ ہاؤس محلہ میں سب سے زیادہ سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا اور سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا اور زندگی بھر کی جمع پونجی گھریلو سامان بہا کر لے گیا۔بیشتر گھر سیلابی پانی کی نظر ہوگئے ،لوگ گھروں کو بے یار ومددگار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔ کئی موبائل کمپنیوں کے نیٹ ورک بندھ ہونے سے رابطے میں دشواری کا سامنا۔زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سیلابی ریلے بیلہ شہر کے بیشتر نواحی اور دیہاتی علاقوں میں چاروں طرف پانی ہی پانی نظر آرہا ہے ۔لسبیلہ ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ رمضان جاموٹ کے مطابق چمن ہوٹل کے پاس سیلابی ریلے میں پھنسے والے تمام 19 افراد کو لسبیلہ ویلفیئر ٹرسٹ کی ٹیم نے اسپیڈ بوٹ اور غوطہ خوروں کی مدد سے ریسکو کرکے محفوظ مکان پر منتقل کردیا ہیے خواتین اور بچے شامل تھے۔اسطرح انہوں نے کل 28 افراد کو ریسکیو کیا۔
ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کے مطابق دریائے پورالی میں انتہائے اونچے درجے کا سیلاب ہے اور دو لاکھ سے کیوسک سے زائد پانی گزر رہا ہے۔ دریائے پورالی اور کھانٹا ندی کے کنارے اور نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ جب کہ لوگوں کو غیر ضروری سفر سے منع کردیا گیا ہے۔اور ٹریفک کو روک دیا گیا ہے۔تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔جب کہ متاثرین کا گھریلو سامان سیلاب کا تیز بہاؤ بہا کر لے گئے۔ایک طرف سیلاب تو دوسری طرف بارش کا سلسلہ بھی جاری رہا جس کی وجہ سے سیلاب زدگان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔

