اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی)وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کا دائرہ کار بیرون ممالک تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے کیس کی تحقیقات کا دائرہ بیرون ملک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ایف آئی اے نے امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے پی ٹی آئی کو ہونے والی فنڈنگ کے بارے میں متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے ذریعے بھی وہاں کی کمپنیز و شخصیات کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
6
سینئر آفیسر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ امریکی ایف بی آئی سمیت برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور دیگر ممالک کے ایسے اداروں سے مدد کے لیے رجوع کیا جارہا ہے۔تحقیقات ابھی ریکارڈ اور اکاونٹس اکھٹے کرکے معلومات کو یکجا کرنے کے مرحلے میں ہیں جنہیں یکسو کرکے آگئے بڑھایا جا رہا ہے۔اس سے قبل 12 اگست کو ایف آئی اے اسلام آباد زون کی انکوائری ٹیم کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل اسد عمر کو خط ارسال کیاگیا تھا جس میں عمران خان سے 1996 سے لیکر ابتک تمام ملکی وغیرملکی ریکارڈ طلب کیاگیا ہے۔خط میں خط مزید کہاگیا ہے کہ 1996ءسے پی ٹی آئی کی نیشنل اورانٹرنیشنل کمپنیوں،تنظیموں،رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ ٹرسٹ کے حوالے معلومات فراہم کی جائیں۔
اب تک کی سالانہ مالیاتی اکاونٹس کی سٹیمنس،پی ٹی آئی کے فارن کرنسی اکاونٹس کی تفصیلات،پی ٹی آئی کی پارٹی ممبرشپ فیس کے حوالے اکٹھی کی گئی رقم کی بھی تفصیل مانگی گئی ہے۔خط میں پارٹی کے نیشنل اورانٹرنیشنل ڈونرز کی فہرست،پی ٹی آئی اوراس سے متعلقہ کمپنیز کی 1996ءسے لیکر 2022ءتک کے اثاثوں کی سالانہ سٹیٹمنٹس،پارٹی کو فنڈنگ کرنے والی انٹرنیشنل کمپنیز اورکاروبار جنہوں نے پارٹی کے لئے فنڈنگ کی کاملکوں کی سطح پر ڈیٹا بھی طلب کیاگیاہے۔

