کراچی( نمائندہ خصوصی)سندھ حکومت کے نام نہاد انٹرنیشنل ہسپتال NICVD میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کی کرپشن اور اندھیر نگری کا ایک اور نیا اور خطرناک کارنامہ مارکیٹ میں آ گیا ہے! پہلے ہسپتال کا ریکارڈ تندوروں پر بکا، پھر غریب چوکیداروں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا، اور اب ہزاروں ملازمین کے حقوق اور مستقبل پر ڈاکہ ڈالنے کی مکمل تیاری کر لی گئی ہے۔اندازہ کریں کہ NICVD کے ہیڈ آف ایچ آر (HR) اور بدنام زمانہ نیب زدہ افسر داؤر
حسین کی اپنی تعیناتی ہی انتہائی متنازع اور سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ موصوف کا نام مسلسل 3 سال تک ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل رہا، جبکہ نیب (NAB) کیسز کے سلسلے میں وہ تقریباً 4 سال تک سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت (Bail) پر رہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ دورانِ پروبیشنری پیریڈ ان کی 18ویں گریڈ سے 19ویں گریڈ میں مبینہ غیر قانونی ترقی بھی ایک بڑا مجرمانہ معاملہ ہے۔زرائع کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی ڈاکٹر طاہر صغیر نے کمال کی مہربانی فرماتے ہوئے اسی نیب زدہ اور متنازع شخص کو ہزاروں NICVD ملازمین کی سینیارٹی لسٹ اور حقوق کا نگران و سربراہ بنا دیا ہے! سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس شخص کی اپنی ترقی، تعیناتی اور قانونی حیثیت ہی کرپشن اور عدالتوں کی زد میں ہو، وہ ادارے کے محنتی ملازمین کی سینیارٹی لسٹ میں کس حد تک شفافیت، غیر جانبداری اور میرٹ کو یقینی بنا سکتا ہے؟زرائع کے مطابق جس شخص کے خلاف نیب کیسز، ای سی ایل اور عدالتی کارروائی کا ریکارڈ موجود ہو، اسے سینیارٹی لسٹ جیسے انتہائی حساس اور قانونی معاملے کا اختیار دینا ملازمین کے ساتھ سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔ یہ سیدھا سیدھا منظورِ نظر لوگوں کو نوازنے اور حق داروں کا حق مارنے کا پلان ہے۔اگر سینیارٹی لسٹ واقعی شفاف اور میرٹ پر بنانی ہے تو اس عمل کو داؤر حسین جیسے تمام متنازع افراد کے اثر و رسوخ سے مکمل طور پر پاک کیا جائے۔ NICVD کے تمام ملازمین کا یہ قانونی اور اخلاقی حق ہے کہ ان کی سینیارٹی لسٹ شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے بنے، نہ کہ کسی نیب زدہ افسر کی مرضی اور اشاروں پر رہے

