اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معاشی طور پر کمزور بچوں کو یکساں تعلیم و ترقی کے مواقع کی فراہمی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام زیر تعمیر دانش سکولوں کو معینہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے، دانش سکولز میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجیز کی ٹریننگ نصاب کا لازمی جزو بنائی جائیں ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت دانش اتھارٹی بورڈ کا پہلا اجلاس بدھ کو یہاں اسلام آباد میں منعقد ہوا۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں بورڈ ارکان اور شرکا کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس اہم ذمہ داری کو قبول کرنے پر بورڈ کے ارکان کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر کمزور بچوں کو یکساں تعلیم و ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، دانش سکولز کی بنیاد اسی فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے رکھی
جس میں غریب اور مستحق طلباء کو میرٹ پر داخلہ اور تعلیم دی جاتی ہے۔ انہوں نے تمام زیر تعمیر دانش سکولوں کو معینہ مدت کے اندر مکمل کرنے اور تمام زیر تعمیر اور نئے دانش سکولز میں طلباء و طالبات کیلئے سو فیصد بورڈنگ کی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ۔وزیراعظم نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے دانش سکولز میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجیز کی ٹریننگ نصاب کا لازمی جزو قرار دی جائیں، نصاب میں پراجیکٹ اور سکل بیسڈ لرننگ کے ساتھ ساتھ طالب علموں کی شخصیت نکھارنے کیلئے بھی کورسز شامل کئے جائیں۔ اجلاس میں دانش سکولز اتھارٹی کے ممبران کو حالیہ پیش رفت و کارکردگی پر جائزہ رپورٹ پیش کی گئی۔ بورڈ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں 29 دانش سکولز مجوزہ ہیں جن میں سے 15 منظور اور 13 پر کام جاری ہے جبکہ دانش سکول کری اسلام آباد میں کلاسز کا آغاز ہو چکا ہے۔بورڈ اجلاس کو بتایا گیا کہ آزاد کشمیر کے باغ اور بھبمر جبکہ گلگت بلتستان کے گانچھے، سلطان آباد اور استور میں دانش سکولز کی تعمیر دسمبرتک مکمل ہو جائے گی اور کلاسز کا آغاذ اپریل 2027ء میں ہوگا۔ دانش اتھارٹی بورڈ نے دانش سکولوں کے اساتذہ کی تربیت کیلئے بین الاقوامی معیار کا ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کی منظوری دی۔ قیام کے بعد یہ ادارہ پاکستان بھر کے تربیتی اداروں کیلئے ماڈل ادارہ ہو گا۔ اجلاس کو دانش اتھارٹی کے مجوزہ انتظامی ڈھانچے پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اتھارٹی کے انتظامی ڈھانچے کو مختصر رکھا جائے اور اس پر کم سے کم وسائل خرچ کئے جائیں۔ بورڈ اجلاس نے دانش سکول اتھارٹی رولز، منیجنگ ڈائریکٹر رولز اور دیگر قواعد کی اصولی منظوری دی جس کے بعد ضابطے کی ضروری کارروائی مکمل کی جائے گی۔ اجلاس نے دانش سکولوں کو الاٹ کی گئی تمام زمین دانش سکول اتھارٹی کے نام ٹرانسفر کرنے کی بھی منظوری دی۔

