کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ)واٹر کارپوریشن کا سی او ڈی فلٹر پلانٹ گلشن اقبال چوری چکاری کا گڑھ بن گیا ہے۔ پلانٹ کی سیکیورٹی کے نام پر لاکھوں روپے لینے والے نجی سیکیورٹی کمپنی کی نگرانی کے باوجود چوری کے واقعات رونما ہونے پر پولیس اور سیکیورٹی ٹیم متحرک ہوئی، کیس عزیر بھٹی تھانے کے حوالے اور واٹر کارپوریشن کا اہلکار عامر چوری میں ملوث قرار دیدیا گیا ہے۔ سیکورٹی ذارٸع کا کہنا ہے کہ علی سی او ڈی کا معتمد خاص ہے اور چوری میں سہولت کار بھی ہے۔عامر کےعلاوہ سب اجینٸرزبیر بھی چوری میں ملوٹ بتایا جاتا ہے مبینہ طورپر CODمیں تعنیناتی 36لاکھ روپے سے نیاگھر لیاہے، سیکورٹی اہلکاروں نے تصدیق کرتے ہوئے کہنا ہے کہ چوری میں ملوث ہونے کا کیس پولیس کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مبینہ طور پر چوری ہونے والے اسکریپ پر تاحال انضباتی کاروائی تاحال نہ ہوسکی۔ذرائع کا کہنا
ہے کہ ماہانہ لاکھوں کروڑوں روپے کے اسکریپ چوری کا سلسلہ سرکاری سرپرستی میں جاری ہے، چوروں کو بعض ذرائع تحفظ فراہم کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ واٹر کارپوریشن کے کاٹ کباڑ تمام دفاتر اور تنصیبات میں موجود ہے۔ دو سال قبل اسکریپ کی نیلامی 3 ارب 75 کروڑ روپے کی بولی ہونے کے باوجود نیلام عام نہ ہوسکا اور انتظامیہ نے تمام دفاتر اور تنصیبات میں موجود اسکریپ کو ہنگامی بنیادوں پر سی او ڈی فلٹر پلانٹ گلشن اقبال منتقل کردیا تھا۔ سی او ڈی فلٹر پلانٹ محفوظ تصور کیا جاتا تھا،اس کی واحد گزرگاہ ہے جس کی وجہ سے آنے اور جانے والے ملازمین پر باآسانی نظر رکھی جاتی ہے۔ نیلامی نہ ہونے پر تمام دفاتر اور دیگر تنصیبات سے تقریبا 38 ڈمپرز، ٹرک کے ذریعے منتقل کیئے گئے تھے جن میں چھوٹے بڑے موٹرز پمپ، گاڑیاں، سیورکینکل گاڑیاں، سب سوئل،پانی چوری میں پکڑے گئے جنریٹرز، ہیوی موٹرز سمیت پائپ، کرین، ٹریکرز اور دیگر قیمتی سامان بھی شامل ہے۔ امونیا کے سیلنڈرز، کلینوٹرز کے امونیا بیلٹس، پائپ بھی چوری ہوتے رہے ہیں۔ ایک ریٹائرڈ افسر نے بتایا کہ چوری کی وارداتیں عرصہ دراز سے ہو رہی ہیں اکثر سی ڈی او ڈی کے حساس مقام پر رہائش پذیر ملازمین بھی سہولت کار بن جاتے ہیں اور چوری کا سامان چند دنوں تک اپنے گھروں میں چھپاتے ہیں۔ اس کے لیئے لمبی چھٹیوں کے دوران دیکھ بھال کر سامان چوری کیا جاتا ہے لیکن کسی ملازم کو چوری میں پکڑے جانے کے باوجود کاروائی نہ ہوسکی جس کی وجہ سے چور کے اندر سے ڈر اور خوف ختم ہو گیا ہے۔ اکثریت بااثر افسران و منظور نظر افسران ہی تعینات ہوتے رہے ہیں لیکن کسی کے خلاف کاروائی نہ ہوسکی۔ ریٹائرڈ ہونے والے گریڈ 20 کے افسر شکیل قریشی کی تعیناتی کے دوران بلک میٹرز چوری ہوئے تھے لیکن ان کی چھان بین نہ ہوسکی نہ کسی کو پکڑا گیا تھا۔ ایک بلک میٹر کا وزن تقریبا 70 سے 80 کلو سے زائد ہوتا ہے جسے ایک فرد یا دو افراد نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ چوری کی صرف FIR درج کرکے انتظامیہ نے 66 کروڑ روپے مالیت کے بلک میٹرز کی چوری کا باب بند کر دیا ہے۔ بلک میٹرز کراچی کے پمپنگ اسٹیشن میں لگانے تھے تاکہ اداروں میں معلوم کیا جا سکے کہ کتنا پانی فراہم کیا جاتا ہے تاکہ کراچی میں پانی کی فراہمی کا ریکارڈز مرتب کیا جائے۔ پانی کے اعداد و شمار نہ ہونے سے منصوبہ بندی کرنے میں تمام چیف انجینئر ز ناکام رہے ہیں اور انچ فٹ کے حساب سے مقدار چیک کی جاتی ہے جو اس جدید دور میں انتہائی دقیانوسی طریقہ ہے۔ چوری کے علاوہ سی او ڈی فلٹر پلانٹ میں پانی اور سیوریج کی لائنوں میں روزانہ کی بنیاد پر کراچی کے مختلف علاقوں سے پانی ٹیسٹ ہوتا ہے۔ فلٹر پلانٹ کی وجہ سے ٹھیکیداروں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ کلینوٹرز اور گڑکے ڈھکن کی وجہ بھی ٹھیکیداروں عملے کے علاوہ عام شہری اور نوجوان نہانے کے لئے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں سی او دی فلٹر پلانٹ غیر محفوظ ہوگیا ہے لیکن حیرت ہے کہ میئر کراچی اور سی ای او واٹر کارپوریشن تمام معاملات سے بے خبر ہیں۔

