لندن کراچی( نمائندہ خصوصی)سانحہ کراچی یونیورسٹی بھارتی فلم دھریندر پارٹ 2 کا تسلسل ہے۔ شیعہ سنی فسادات کرانے میں ناکام سامراجی ایجنٹ سندھی طلباء پر تشدد کر کے سندھی مہاجر فساد کروا کر پاکستان کے معاشی حب کراچی کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں۔ علیحدگی پسند طلباء کے خلاف یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ایکشن لیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دینی چاہئے تھی۔ جمعیت کے طلبہ کی ان ہی پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے APMSO کا قیام عمل میں آیا تھا۔ جماعت اسلامی کو 21ویں صدی کے سوشل میڈیائی دور میں ریاستی معاملات میں مداخلت کر کے بلاوجہ چاچا خامخواہ بننے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ یونیورسٹی میں ہونے والی پرتشدد کاروائی کا مقدمہ
چانسلر گورنر سندھ کی مدعیت میں دونوں گروپ کے خلاف درج کرتے ہوئے معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان خیالات کا اظہار کراچی سٹی الائنس کے مرکزی رہنما حبیب جان نے لندن سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے مرکزی امیر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مشرق وسطیٰ اور ہندوستانی اور افغان سرحدوں پر جاری جنگی صورتحال میں کراچی یونیورسٹی جیسے واقعات پاکستان کی سالمیت اور یکجہتی کے خلاف سازش تصور کئے جائیں گے۔ لہذا جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی طلبہ تنظیم کو تعلیمی اداروں کے خالصتاً انتظامی امور کے معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ سندھی طلباء تنظیم اور دوسرے کسی گروپ کی ملک دشمن سرگرمیوں سے براہ راست یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو آگاہ کرے نہ کہ خود ڈنڈا ہاتھوں میں لئے حب الوطنی کے نام پر دہشت گردی کرتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کا حصہ بن جائے۔

