کراچی(نمائندہ خصوصی) ادبی تنظیم ” شاعرات پاکستان” کی جانب سے اردو لغت بورڈ گلشن اقبال میں ایک بہت ہی منظم اور شاندار مشاعرہ/ نشست بہ اعزاز اسلام آ باد سے تشریف لائے ہوئے عمدہ لہجے کے سینئیر شاعر اطہر ضیاء مشتاق کے لئیے سجائی گئی اطہر ضیاء اسلام آ باد کی ادبی تنظیم بزم شعر و ادب کے جنرل سیکریٹری ، ادبی تنظیم اشارہ انٹرنیشنل کے صدر ہیں اور آ پ کو بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ پاکستان ٹیلیویژن کی جانب سے مل چکا ہے۔۔۔اس
مشاعرے کی صدارت کراچی کی بہت معتبر اور سینئر شاعرہ جو کئی شعری کتب کی مصنفہ بھی ہیں محترمہ سعدیہ حریم تھیں اور مہمان خصوصی ڈاکٹر سکندر علی مطرب تھے جو نہ صرف ایک ایمرجنسی کارڈیولوجسٹ ہیں ٫ بلکہ گونا گوں صفات کے حامل ہیں، بیک وقت سنگر ، کمپوزر ، گیت و نغمہ نگار ، اور ماں کے موضوع پر شاعری کی دنیا کی پہلی مکمل ضخیم کتاب بھی آ پ کا حوالہ ہے ، مہمان ذی وقار میں کراچی شہر کی فعال شخصیت جو ادبی تنظیم بارگاہ ادب کی روح رواں بھی ہیں محترمہ ثبین سیف تھیں آ پ بھی کئی شعری کتب کی تخلیق کار ہیں اور ادب کی محافل دل سے سجاتی ہیں ، شاعرات پاکستان کی بانی چئیر پرسن محترمہ افروز رضوی نے نہایت منظم طریقے سے
پروگرام کو آ راستہ کیا ، بہترین شعراء/ شاعرات کا انتخاب ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے، کراچی کے ادبی منظر نامے پر یاسر سعید کا نام شاعر کے علاوہ اب نظامت کاری میں بھی سنا جا رہا ہے اس خوبصورت نشست کی نظامت کی زمہ داری بھی یاسر سعید کے زمہ تھی جو انہوں نے بہت خوبصورت انداز میں نبھائی سب سے پہلے انہوں نے خطبہء استقبالیہ کے لئیے ادبی تنظیم شاعرات پاکستان کی روح رواں محترمہ افروز رضوی کو روسٹم پر آ نے کی دعوت دی افروز رضوی نے صدر مشاعرہ ، مہمان اعزازی ، مہمان خصوصی اور مہمان ذی وقار کے ساتھ ساتھ تمام مدعو شعراء ، شاعرات کی تشریف آوری کے لئیے اظہار تشکر کیا اور یاسر سعید کو پروگرام شروع کرنے کے لئیے روسٹم پر مدعو کیا، یاسر سعید نے صدر مشاعرہ سے پروگرام شروع کرنے کی اجازت طلب کی کی اور تلاوت کلام پاک کے لئیے شاعرات
پاکستان کے میڈیا کو آ رڈینیٹر جناب کامران عثمان صاحب کو مدعو کیا، اس کے بعد انہوں نے محترمہ شہناز رضوی صاحبہ کو حمد و نعت کی سعادت حاصل کرنےکے لئیے مدعو کیا، شہناز رضوی نے اپنی مترنم آواز میں پہلے افروز رضوی کی حمد پڑھی، پھر اپنی نعت پڑھی، دونوں حمد و نعت بہت خوبصورتی سے پیش کی گئیں جنہیں حاضرین محفل نے بہت سراہا، اس کے بعد مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کیا، تمام شعراء نے اپنا بہترین کلام سنایا اور خوب داد سمیٹی۔۔۔جن شعراء/ شاعرات نے اس محفل میں شرکت کی ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔۔۔عروج واسطی، کاوش کاظمی، فرحانہ اشرف،مقصود شاہ، ہما اعظمی،زعیم ارشد، گل افشاں ،تاجور شکیل، مقبول زیدی، ناہید عظمی، عرفان
عابدی،سعد الدین سعد، دلشاد احسن خیال،شہناز رضوی، یاسر سعید ، افروز رضوی، ثبین سیف، ڈاکٹر سکندر علی مطرب ، اطہر ضیاء مشتاق ، اور سعدیہ حریم۔۔۔ان کے علاوہ مہمان سامع میں شاہد محی الدین، جناب فاروق صدیقی، جناب شرجیل احمد مشتاق،جناب سید شہباز احمدکامران عثمان یعنی راقم نے بحیثیت میڈیا کو آ رڈینیٹر فوٹو گرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ کی۔۔اختتام پر طعام پیش کیا گیا ، تصویر کشی کی گئی اور شعراء کے درمیان کتب کے تبادلے بھی ہوتے رہے۔۔۔اور یوں ایک یادگار نشست اپنے انمٹ نقوش چھوڑ کر اختتام پذیر ہوئی
رپورٹ: کامران عثمان ( میڈیا کو آ رڈینیٹر )

