• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ منظور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جون 23, 2026
in پاکستان
0
قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ منظور
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):آئندہ مالی سال 27 ۔ 2026 کا 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا گیا جس میں اقتصادی ترقی، ٹیکس ریلیف، کم آمدنی والے طبقات، مہنگائی پر قابو پانے اور ہائوسنگ و تعمیرات، زراعت و صنعت سمیت مختلف شعبہ جات کیلئے مراعات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف دیتے ہوئے ٹیکس کی شرح میں کمی اور سرچارج کو ختم کر دیا ہے، کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 15ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے، ہائوسنگ و زراعت سمیت قومی معیشت کے مختلف شعبہ جات کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے جبکہ ملکی دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے کی آمدنی پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 838 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ منگل کو وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی بل 2026ء کی منظوری لی جبکہ اس میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں اور وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم منظور کی گئی۔ وفاقی بجٹ 27 ۔ 2026 ء کے تحت وزیر اعظم ہائوسنگ فنانس سکیم کے ذریعے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو صرف 5 فیصد مارک اپ پر مورٹگیج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ای-بائیکس اور ای-رکشوں کی خریداری کیلئے سبسڈی پر مبنی فنانسنگ فراہم کی جارہی ہے۔ 7.1 ارب روپے کے تحت ملک بھر میں ایگری سٹوریج فنانسنگ فیسلٹی کا اجراء کیا جائے گا۔ بجٹ میں ایکسپورٹ آمدن پر عائد 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کو مکمل طور پر ختم، ایکسپورٹ فنانس سکیم کے تحت مارک اپ کی شرح 19 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کر دی گئی۔ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن سکیم کے تحت سہولت کی مدت 9 ماہ سے بڑھا کر 18 ماہ کر دی گئی تاکہ برآمد کنندگان کو کیش فلو کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ صنعتی بجلی کے نرخ کم کئے گئے۔ بجٹ کی ایک اور اہم ترجیح آئندہ سال ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافے کی بجائے نفاذ اور ٹیکس کمپلائنس کے ذریعے آمدن بڑھانا ہے۔بجٹ 27۔2026 کی ایک اہم ترجیح نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ وہ اپنے لیے روزگار پیدا کر سکیں اور ملکی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔ ملک کے کم آمدنی والے طبقے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی وساطت سے وسائل کی فراہمی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح دانش سکول نیٹ ورک کو بھی توسیع دی جارہی ہے تا کہ کوئی ذہین بچہ وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم نہ رہے۔ بجٹ میں خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے بھی خاطر خواہ رقوم مختص کی گئی ہیں تا کہ وہاں بھی عوامی سہولیات کی فراہمی کو بہتر کیا جاسکے۔وفاقی بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے لئے ایک ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، اس میں جملہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کیلئے 2 ہزار 224 اور ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کیلئے 451 ارب روپے شامل ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام کا 60 فیصد سے زائد حصہ کلیدی شعبوں، ٹرانسپورٹ، مواصلات، آبی وسائل اور توانائی پر مرکوز ہے۔ نقل و حمل اور مواصلات کیلئے 365 ارب روپے، توانائی اور بجلی کیلئے 116 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، 43 آبی منصوبوں کیلئے 103 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، پائیدارشہری ترقی اور ہائوسنگ کے شعبے کیلئے 54 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، صحت کیلئے 25 ارب، اعلی تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے 46 ارب روپے، بنیادی تعلیم اور ہنر کیلئے 22 ارب روپے، گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کیلئے 13 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔جائیداد کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے فائلرزکیلئے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے 1.25 اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کیا گیا ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کی آمدنی کو 4 سلیبز میں تقسیم کیا گیا ہے، جو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے کے درمیان سالانہ تنخواہ لیتے ہیں ان پر ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد، 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک کے درمیان آمدنی والے تنخواہ داروں کیلئے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ روپے تک کی آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کی گئی ہے۔ بجٹ میں تنخواہ پر عائد ٹیکس کی شرح میں کمی کے علاوہ ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کیا گیا ہے۔برآمدی شعبہ ہماری معیشت کی نمو کی ضمانت بننے والے زرمبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے اس وقت برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں مجموعی طورپر 2 فیصد ٹیکس عائد کم کر کے 1.25 فیصد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کریڈٹ، ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کم کر کے 0.5 فیصد کیا گیا ہے۔ غیر ملکی اثاثے رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔ بجٹ میں چھوٹے دکانداروں کیلئے فکس ٹیکس متعارف کیا گیا ہے۔جس کے تحت 20 کروڑ روپے تک یا اس سے کم کی سالانہ آمدن پر انہیں 25 ہزار روپے سالانہ ٹیکس جمع کرانا ہو گا، وہ اس نظام کے تحت اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔ سیلز ٹیکس ایکٹ میں تھرڈ شیڈول کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی ہے اور اس میں فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز کی کیٹگری کو شامل کیا گیا ہے۔ بجٹ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے تحت نیشنل فیس لیس مراکز بنائے جائیں گے جو صوابدیدی اور غیر صوابدیدی افعال کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا۔یہ مراکز صوابدیدی اختیارات جیسا کہ آڈٹ اسسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول ہوں گے، ٹیکس دہندہ اور ٹیکس آفیسر کے مابین کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو گا، خودکار طریقہ کار کے تحت کسی آفیسر کو کیسز تفویض کئے جائیں گے۔ ایک علیحدہ آڈٹ یونٹ اس کا معائنہ کرے گا۔ پٹرولیم بیسڈ سالونٹس جن میں سفید سپرٹ، پٹرولیم نفتھا اور منزل تارپین آئل پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے یہ اشیاء پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے دائرہ سے باہر آتی ہیں لیکن انہیں تیل میں ملاوٹ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اس ملاوٹ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں اور مشینری خراب ہوتی ہے۔درآمد کی جانے والی کاروں اور 2 ہزار سی سی سے 3 ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کی ایس یو ویز پر 66 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ اس ٹیکس کا اطلاق بڑے انجن والی درآمدی سی بی یو پر بھی ہو گا۔ بجٹ میں بزنس کلاس میں غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ختم کیا گیا ہے، کینسر اور دیگر بیماریوں کی ادویات کی مقامی تیاری میں استعمال ہونے والے 100 سےزیادہ اقسام کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی مکمل ختم کی گئی ہے۔ بجٹ میں خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے دفاعی شعبے کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔بجٹ میں آئندہ مالی سال کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔افراط زر کی شرح 8.2 فیصد، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا دو فیصد ہو گا۔ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے جو رواں مالی سال سے 17.6 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار848 ارب روپے ہو گا۔ مالی سال 27 ۔ 2026 کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے محصولات کی متوقع وصولی 15 ہزار 264 ارب روپے ہے تاہم سٹرٹیجک قومی تقاضوں کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں تقسیم کیلئے کم از کم 13 ہزار 350 ارب روپے کی رقم محفوظ رکھی گئی ہے۔15 ہزار 264 ارب روپے تک وصول ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو پاکستان کے آئین 1973 کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتوں کی جانب سے گرانٹس کی صورت میں قومی سٹرٹیجک تقاضوں کی تکمیل کیلئے دستیاب ہو گی۔یہ انتظام آئندہ مالی سال کیلئے نافذ العمل ہو گا اور مالی سال 28 ۔ 2027 اور 29۔ 2028 میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت سے اسی نوعیت کی بنیادوں پر اس کی تجدید کی جائے گی۔ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے رکھا گیا ہے، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے ہے جس میں 8 ہزار 54 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ سرکاری شعبے کا ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے، وفاقی حکومت کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 17 ہزار 495 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ملکی دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، پنشن کے اخراجات کیلئے ایک ہزار 169 ارب روپے اور بجلی و دیگر شعبوں میں سبسڈی کیلئے ایک ہزار 91 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ گرانٹس کی مد میں 2 ہزار 680 ارب مختص کئے گئے ہیں جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے ہیں۔ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کیلئے 71 ارب روپے اور ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کی توسیع کیلئے 88 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بی آئی ایس پی کیلئے 8 سو 38 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو رواں سال سے 17 فیصد زیادہ ہے، آزاد کشمیر کیلئے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کیلئے 88 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے 95 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

پچھلی پوسٹ

کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کی جانب سے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کوشعبہ جراحیِ قلب میں اعزازی فیلو شپ تفویض کی گئی

اگلی پوسٹ

صدر آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ملاقات ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
صدر آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ملاقات ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

صدر آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ملاقات ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper