اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی جماعت یا گروہ معتبر ثبوت کے ساتھ ریاست کے خلاف کام کرتا پایا گیا تو اسے سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فرد یا تنظیم ریاست جو مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو ، آئین و قانون کے احترام سے انکاری یا پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں میں شامل ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی ممکنہ پابندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا جاتا ہے تو حکومت کے پاس ایسے فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت ہوں گے۔آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے،
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) آزاد کشمیر چیپٹر نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی کو بھی پاکستان کی مسلح افواج یا قومی اداروں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مسلح افواج کے لیے پارٹی کی غیر متزلزل حمایت کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں ملک کی ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیا۔علاقائی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے ریاست مخالف عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات گزشتہ سال کے تنازعے کے بعد بھارتی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی ہندوستان کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا، جس طرح پاکستان نے ماضی میں اسی طرح کے منصوبوں کو ناکام بنایا ہے۔ وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی نے دعویٰ کیا کہ بھارت کے حمایت یافتہ عناصر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

