اسلام آباد۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی کرن ڈار نے کہا ہے کہ جب 6 اور 7 مئی 2025ء کی درمیانی رات ہندوستان نے پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا تو ہماری عسکری قیادت نے کسی تاخیر یا کمزوری کے بغیر اس کا بھرپور اور تاریخی جواب دیا، یہ وہ جنگ تھی جو ہم نے ’’زیرو فائیو‘‘ پر جیتی جہاں نہ تو جمعہ کے دن آدھے گھنٹے کی خاموشی کی اپیلیں کی گئیں اور نہ ہی ماضی کی طرح سیرینا ہوٹل کے باہر کوئی گھڑی لگائی گئی بلکہ ایسا منہ توڑ جواب دیا گیا جسے پوری دنیا نے دیکھا۔منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کرن ڈار نے جذباتی انداز میں کہاکہ میں اس نسل سے ہوںجس نے 1947ء کی آزادی، 1965ء کی جنگ اور 1971ء کے سانحے کے بارے
میں صرف اپنے آبائو اجداد سے سنا لیکن میں اس نسل سے ہوں جس نے 10 مئی 2025 ء کو ہونے والی جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھی اور پاکستان کو یہ جنگ جیتتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب اپوزیشن میں تھے تو ملک کے لیے ’’چارٹر آف اکانومی‘‘ کی بات کرتے تھے اور اقتدار میں آکر ’’چارٹر آف ڈیموکریسی‘‘ کو آگے بڑھا رہے ہیں، لیکن اپوزیشن نے نہ تب ہوش کے ناخن لیے اور نہ ہی آج ملکی ترقی میں ساتھ دے رہے ہیں۔سابق وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر آج بھی ہمارے اعصاب پر سوار ہیں حالانکہ وہ اپنے دور اقتدار میں صرف محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف کی سزائوں کا حساب مانگا کرتے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں اپوزیشن لیڈرز کے اے سی اتارنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں جبکہ موجودہ حکومت نے انہیں جیل میں ورزش کی مشینوں سمیت تمام تر سہولیات فراہم کر رکھی ہیں۔کشمیر کی بیٹی ہونے کے ناطے انہوں نے صوبائی عصبیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی، لاہور، پشاور، کے پی کے، سندھ، بلوچستان یا پنجاب کوئی بھی پاکستان سے بڑا نہیں ہے۔ انہوں نے کے پی کے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ ساڑھے تین سالہ دور میں صوبے یا مرکز میں لگائی گئی کوئی ایک اینٹ، سکول، کالج یا یونیورسٹی دکھا دیں، ان کے پاس فرح گوگی اور بشری بی بی کے کرپشن سسٹم کے علاوہ عوام کو دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

