اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ آٹھ دہائیوں پر مبنی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں بہترین تعلقات ہیں، جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لئے امریکی صدر کے کردار کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے، صدر ٹرمپ کو ’’امن کے داعی‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ جمعرات کو یہاں امریکی سفارتخانے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ تقریب میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار ، وفاقی وزراء اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے علاوہ امریکی سفارت خانے کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔وزیر اعظم نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور عوام کو امریکا کی سالگرہ پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی تاریخ امید اور روشن خیالی کی داستان ہے۔ یہ اس یقین کی
کہانی ہے کہ محنت سے ہم اپنا مستقبل تعمیر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا امن، ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ اپنے منفرد انداز، توانائی اور عزم کے حامل ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین طویل شراکت داری ہے۔ ہمارے تعلقات آٹھ دہائیوں پر محیط ہیں اور اسکا دائرہ انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری سے لیکر زراعت ، تعلیم ، صحت ، عوام کے مابین رابطوں اور توانائی سمیت مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قیام پاکستان کے بعد امریکہ ان اولین ملکوں میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا اور امریکی صدر نے قائد اعظم محمد علی جناح کو خط لکھ کر اقوام عالم میں خوش آمدید کہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سبز انقلاب کے فروغ سمیت تربیلا ڈیم ، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور تعلیمی شعبے میں میں امریکہ کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی یونیورسٹیوں سے ہزاروں پاکستانیوں نے تعلیم حاصل کی اور ان سائنس دانوں ، اساتذہ ، اور ماہرین نے مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دیں جس کیلئے امریکہ کے شکر گزار ہیں۔ امریکی جامعات سے فارغ التحصیل ہزاروں پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سب سے مضبوط پل 10 لاکھ پاکستانی نژاد امریکی ہیں جبکہ 80 بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا کی بڑی فری لانس افرادی قوت رکھتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ میں دنیا کے بہترین ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹرز میں بہت سے پاکستانی بھی شامل ہیں جو انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ نے تاریخ کے اہم ترین ادوار میں مل کر کام کیا ہے۔ وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لئے صدر ٹرمپ کے کردار کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے اور انہیں ہمیشہ ایک’’امن کے داعی‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ اعتماد کے اظہار پر امریکہ اور ایران کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو بھی سراہا جس کے ذریعے وہ علاقائی امن اور استحکام کے لئے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے دعا کی کہ جلد خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے نائب وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان واشنگٹن میں مثبت ملاقات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر بہترین گفتگو ہوئی ۔ وزیر اعظم نے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں امریکہ کی ایک بہترین نمائندہ کے طور پر کام کیا ہے اور انکی فعال سفارتکاری نے دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم نے دعا کی کہ دونوں عظیم قوموں کے درمیان دوستی آنے والے برسوں میں مزید مضبوط ہو

