اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانچ سالہ کمسن بچی سے زیادتی اور قتل کے سنگین مقدمے میں مجرم کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا حق حاصل نہیں کر سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ صرف اس صورت میں قابلِ قبول ہو سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ دیا گیا ہو۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی شخص کو اس عمل
کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے کرنے کا اس کا ارادہ نہ ہو تاہم رضاکارانہ طور پر نشہ کرنا اس اصول کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور اسے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔یہ فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے سنایا جبکہ تین رکنی بنچ میں جسٹس صلاح الدین پنھور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔تفصیلات کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف پانچ سالہ کمسن بچی سے زیادتی اور قتل کا مقدمہ 22 جنوری2014کو سبی میں درج ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی جسے بعد ازاں ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی ہے۔مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشہ کی حالت میں تھا اس لئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے تاہم عدالت نے دلائل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی لہٰذا وہ مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ مجرم نے بےدردی سے بچی کو قتل کیا اور اس نوعیت کے اقدام میں کسی قسم کی نرمی یا قانونی استثنیٰ کی گنجائش موجود نہیں۔
