کراچی( نمائندہ خصوصی)چیئرمین کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان، کوکب اقبال نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر اور دیگر سرکاری مالیاتی اداروں کے سربراہان کو انتہائی بھاری تنخواہیں، مراعات اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔کوکب اقبال نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین معاشی چیلنجز، مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کا سامنا کر رہا ہے جبکہ عام شہری اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے
حالات میں چند سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران کو غیر معمولی تنخواہوں اور مراعات کی فراہمی عوام میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے عوام کے ٹیکسوں اور قومی وسائل سے چلتے ہیں، لہٰذا ان اداروں میں مالی نظم و ضبط، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ قومی خزانے سے کس مد میں کتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے اور آیا یہ اخراجات قومی مفاد سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔کوکب اقبال نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک، سرکاری مالیاتی اداروں، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور دیگر سرکاری محکموں کے سربراہان کی تنخواہوں، مراعات، بونسز، سرکاری سہولیات اور ریٹائرمنٹ پیکجز کا جامع جائزہ لیا جائے اور اس حوالے سے ایک واضح اور شفاف قومی پالیسی مرتب کی جائے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ عوامی خزانے سے تنخواہیں حاصل کرنے والے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے لیے تنخواہوں اور مراعات کی ایک حد مقرر کی جائے اور کسی بھی سرکاری ادارے کے سربراہ کا مجموعی ماہانہ پیکیج ایک ملین روپے سے زیادہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کا مقصد قومی ترقی اور عوامی فلاح ہونا چاہیے، نہ کہ غیر معمولی مالی فوائد کا حصول۔کوکب اقبال نے کہا کہ اگر سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات، غیر معمولی مراعات اور شاہانہ انتظامی اخراجات کم کیے جائیں تو اربوں روپے کی بچت ممکن ہے، جسے عوامی فلاح، تعلیم، صحت، صارفین کے تحفظ اور سماجی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو کفایت شعاری، شفافیت اور مالی ذمہ داری کی مثال قائم کرنی چاہیے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہو اور یہ تاثر ختم ہو کہ معاشی مشکلات کا بوجھ صرف عام شہریوں پر ڈالا جا رہا ہے۔چیئرمین کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے پارلیمنٹ، وزارتِ خزانہ اور متعلقہ نگرانی کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کے معاوضوں اور مراعات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائیں اور ایسے اصلاحاتی اقدامات کریں جو قومی وسائل کے منصفانہ اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں۔

