پشاور۔(نمائندہ خصوصی):خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف ایک واضح اور مضبوط پیغام دیتے ہوئے کوہاٹ روڈ، باڑہ، خیبر ایجنسی اور پشاور کے مختلف علاقوں میں دیواروں پر بڑے پیمانے پر نعروں اور تحریروں کے ذریعےخوارج اور اس کے سرغنہ نور ولی کے پرتشدد نظریے کو کھل کر مسترد کر دیا ہے۔عوامی مقامات پر نمایاں طور پر نظر آنے والی یہ وال چاکنگ اور تحریریں دہشت گردی، تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف عوامی غصے کی عکاسی کرتی ہیں۔نور ولی کے خلاف لکھے گئے پیغامات جس پر ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام ہے
صوبے میں شدت پسند گروہوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں۔دیواروں پر لکھی گئی یہ تحریریں سیکیورٹی فورسز، پولیس اہلکاروں اور مذہبی علما کی قربانیوں کو بھی اجاگر کرتی ہیں جو دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ نور ولی کو خاص طور پر خونریزی کی علامت قرار دیا گیا ہے، اور اس کا نام سخت مذمتی الفاظ کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔اس حوالے سے ایک مقامی رہائشی نے کہا کہ یہ معمولی مناظر نہیں ہیں۔ جب عام لوگ خود دیواروں پر ایسے پیغامات لکھنے نکل آئیں تو اس کا مطلب ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے خوارج کے دہشت گرد ایجنڈے کو کھل کر مسترد کر دیا ہے۔ملک میں دہشت گردی کے نتیجے میں 94 ہزار سے زائد بے گناہ پاکستانی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں عام شہری، مذہبی علما، پولیس اہلکار اور سیکیورٹی فورسز کے جوان شامل ہیں۔حالیہ وال چاکنگ کی لہر کو شدت پسندی کے خلاف ایک مضبوط عوامی ردعمل اور مسلح افواج و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔خیبر پختونخوا کے عوام امن، قومی اتحاد اور استحکام کے مطالبے پر متحد دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے صوبے میں دہشت گردی یا خوارج کے تباہ کن نظریے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
