اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نےپاکستان اور چین کے مابین معاہدوں اور ایم او یوز کو بڑھتے ہوئے تعاون اور دوطرفہ تعلقات کی وسعت کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان معاہدوں اور ایم او یوز سے مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جو دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی میں براہِ راست معاون ثابت ہوں گے ۔ پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستان اور چین کے درمیان متعدد معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز)، پروٹوکولز اور تعاون سے متعلق دستاویزات پر دستخط اور ان کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی۔یہ معاہدے، مفاہمتی یادداشتیں اور پروٹوکولز تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، میڈیا اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کومزید فروغ دیں گے۔ان معاہدوں اور ایم او یوز میں تعلیمی تعاون اور تبادلوں سے متعلق ایگزیکٹو پروگرام،خشک میوہ جات کے لیے معائنہ، قرنطینہ اور حفظانِ صحت
کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول،مکئی کے لیے نباتاتی صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول،زرعی شعبے میں ترقیاتی تعاون کے فروغ سے متعلق مفاہمتی یادداشت،جانوروں کی ویکسینز سے متعلق لیٹر آف ایکسچینج ،اقتصادی ترقی کے شعبے میں تبادلوں اور تعاون کو مزید گہرا کرنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت،ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت،فارن سروس اکیڈمی اور چائنا فارن افیئرز یونیورسٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت،کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی سینٹرل کمیٹی کے پارٹی سکول (چائنا نیشنل اکیڈمی آف گورننس) اور پاکستان نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے درمیان مفاہمتی یادداشت،سال 2026 کے لیے افرادی قوت کی ترقی کے تعاون پروگرام کے مشترکہ نفاذ سے متعلق مفاہمتی یادداشت،مطابقتی جانچ سے متعلق مفاہمتی یادداشت،پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور چائنا ایسوسی ایشن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان مفاہمتی یادداشت،شنہوا نیوز ایجنسی اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت،چائنا میڈیا گروپ اور پاکستان ٹیلی وژن کے درمیان مشترکہ ڈاکیومنٹری پروڈکشن میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت،آزاد تجارت اور کثیرالجہتی نظام کی حمایت سے متعلق مفاہمتی یادداشت اورژجیانگ صوبے اور صوبہ پنجاب کے درمیان برادر صوبوں کی حیثیت سے تعلقات کے قیام بارے معاہدہ شامل ہے۔

