اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ جہازوں کی ری سائیکلنگ کے شعبے میں خطرناک مواد کے استعمال کو منظم کرنے، ماحول دوست شپ بریکنگ کے فروغ اور ہانگ کانگ کنونشن پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے کے لیے نئی قانون سازی کی منظوری دے دی گئی ہے۔سینیٹ سے ’’جہازوں میں خطرناک مواد کی فہرست کے ماحول دوست انتظام کا بل 2026‘‘کی منظوری کے بعد جاری بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ قانون ہانگ کانگ انٹرنیشنل کنونشن برائے محفوظ اور ماحول دوست جہاز ری سائیکلنگ 2009 کے نفاذ میں مدد دے گا اور شپ ری سائیکلنگ سے جڑے ماحولیاتی، پیشہ ورانہ صحت اور حفاظتی خطرات کو کم کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ یہ بل ان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا جسے پہلے قومی اسمبلی نے منظور کیا اور اب سینیٹ سے بھی منظوری کے بعد ملک بھر میں اس پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔جنید انوار چوہدری کے مطابق اس قانون کا مقصد جہازوں کی ری سائیکلنگ سے پیدا ہونے والے خطرناک فضلے کو ماحول دوست اور پائیدار طریقے سے ٹھکانے لگانا ہے۔قانون کے
تحت کنونشن میں شامل خطرناک مواد پر پابندی ہوگی، جہازوں کی انسپکشن اور سرٹیفکیشن لازمی قرار دی جائے گی جبکہ خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سمندری حدود میں ری سائیکلنگ کے لیے آنے والے ہر جہاز کا لازمی معائنہ کیا جائے گا اور اس کے خطرناک مواد کی فہرست کی تصدیق کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں جہاز کو ضبط کرنے، تحویل میں لینے، پاکستانی پانیوں سے نکالنے اور دیگر سزائیں دی جا سکیں گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت بحری امور اس کنونشن پر عملدرآمد اور رپورٹنگ کے لیے قومی رابطہ کار کے طور پر کام کرے گی اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن سے ہم آہنگی یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان تین بڑے ممالک میں شامل ہے جو جہازوں کی ری سائیکلنگ کا بڑا حصہ سنبھالتے ہیں، اس لیے اس شعبے میں محفوظ اور شفاف طریقہ کار اپنانا انتہائی اہم ہے۔جنید انوار چوہدری نے مزید کہا کہ گڈانی میں 1980 کی دہائی سے قائم شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری ملکی معیشت اور روزگار کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اسے بین الاقوامی ماحولیاتی، لیبر اور حفاظتی معیار سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہانگ کانگ کنونشن کی توثیق کرنے والا 23واں ملک بن گیا ہے، جو گرین شپ ری سائیکلنگ اور گڈانی کی عالمی سطح پر ساکھ کو مزید مضبوط کرے گا۔وفاقی وزیر کے مطابق کنونشن پر عملدرآمد کے لیے وفاق اور صوبائی سطح پر دو قانونی فریم ورک تیار کیے گئے ہیں جبکہ بلوچستان اسمبلی پہلے ہی نومبر 2025 میں بلوچستان سیف اینڈ انوائرنمنٹلی ساؤنڈ ری سائیکلنگ آف شپ ایکٹ منظور کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون سازی پاکستان کے ماحولیاتی تحفظ، خطرناک فضلے کے کنٹرول اور پائیدار صنعتی ترقی کے عزم کی عکاس ہے اور اس سے سرکلر اکانومی کے فروغ اور اقوام متحدہ کے 2030 پائیدار ترقی کے ایجنڈے کی تکمیل میں بھی مدد ملے گی۔جنید انوار چوہدری نے مزید کہا کہ یہ قانون پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانے، شپ ری سائیکلنگ سے وابستہ روزگار کے تحفظ، شعبے کی مسابقت میں اضافہ اور ماحولیاتی و حفاظتی معیار کے شفاف نفاذ کو یقینی بنائے گا۔

