اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ شفاف مالیاتی نظام، قواعد پر مبنی پروکیورمنٹ اور جدید انتظامی ڈھانچہ کسی بھی مضبوط عدالتی ادارے کی بنیاد ہیں اور ان اصولوں کے بغیر موثر، قابل اعتماد اور عوام دوست انصاف کا نظام قائم نہیں رہ سکتا، سپریم کورٹ میں جاری اصلاحاتی ایجنڈا شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن، طریقہ کار کی بہتری اور ادارہ جاتی کارکردگی میں اضافے پر مرکوز ہے جس کا مقصد عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرنا ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار
انہوں نے سپریم کورٹ میں منعقدہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے قواعد و ضوابط اور سٹینڈرڈائزیشن اینڈ کوالٹی مینجمنٹ سسٹمز (ایس اینڈ کیو ایم ایس) سے متعلق خصوصی تربیتی پروگرام کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کا تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق عدالتی نظام کو مزید موثر، شفاف اور جوابدہ بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ قواعد و ضوابط پر مبنی پروکیورمنٹ سسٹم اور معیاری انتظامی ڈھانچہ ادارہ جاتی دیانت، احتساب اور بہتر سروس ڈیلیوری کے لیے ناگزیر ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور ایس اینڈ کیو ایم ایس کنسلٹنٹس کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے تربیتی پروگرامز کو ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ تک وسعت دی جانی چاہیے تاکہ پورے عدالتی نظام میں یکساں معیار، شفافیت اور بہتر گورننس کو فروغ دیا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر تربیتی پروگرام مکمل کرنے والے افسران اور اہلکاروں میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔

