اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ وفاقی بجٹ کے لئے تجویز کردہ ٹیکس نافذ کرنے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس کے فرق کو کم کرنا اور محصولات کی وصولی میں اضافہ کرنا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایف بی آر کی ٹیم نے انڈر رپورٹنگ، نان رپورٹنگ، انڈر انوائسنگ، ٹیکس چوری اور سمگلنگ کی روک تھام کے لئے بجٹ میں شامل کی جانے والی مختلف تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاء نے ٹیکنالوجی کے ذریعے
شفافیت، دستاویز سازی اور نفاذ کو بہتر بنانے سے متعلق متعدد تجاویز کا جائزہ لیا۔ زیرِ غور اہم تجاویز میں ٹیکس گوشواروں میں غلط ڈیٹا کی نشاندہی، انڈر رپورٹنگ کی نگرانی کو مضبوط بنانے اور ٹیکس چوری روکنے کے لئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ میکانزم اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی سسٹمز متعارف کروانے پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ کسٹمز حکام کی جانب سے ضبط شدہ سامان کی فروخت میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے کے لئے ای-آکشن (الیکٹرانک نیلامی) سسٹم متعارف کرانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر احد چیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت معاشی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس اصلاحات لائے گی کیونکہ وہ کاروباری ماحول میں رکاوٹیں پیدا نہیں کرنا چاہتے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک ایسے ٹیکس نظام کی مکمل حمایت کرتی ہے جس میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔ تمام شرکاء نے اتفاق کیا کہ حکومت ٹیکس اصلاحات کے ذریعے کاروباری دوست ماحول کو یقینی بنائے گی اور معاشی ترقی کو فروغ دے گی۔ مزید برآں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ڈیجیٹل طور پر خودکار نظام اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل ایک تعمیری قدم ثابت ہوں گے۔آخر میں وفاقی وزیر احد چیمہ نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ مجوزہ اقدامات کو مزید بہتر بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام اصلاحات عملی، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مؤثر نتائج فراہم کرنے کی حامل ہوں۔
